لولاک لما خلقت الأفلاک
لولاک لما خلقت الأفلاک
حدیث "لولاک لماخلقت الأفلاک"ان الفاظ کے ساتھ محدثین کے نزدیک ثابت نہیں، البتہ ملاعلی قاری رحمہ اللہ ودیگر محدثین معنی کے اعتبار سے اسے درست قرار دیتے ہیں اور اس حوالے سے حضرت ابن عباس، حضرت عمر، حضرت سلمان رضی اللہ عنہم سے مرفوع روایات اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک اثر بھی پیش کرتے ہیں.
' لولاک لما خلقت الأفلاک، قال الصغاني: موضوع وأقول: لکن معناه صحیح، وإن لم یکن حدیثاً'۔ ( کشف الخفاء ۲/۱۴۸، الموضوعات الکبری /۷۰) ' أتاني جبریل فقال: یا محمد لولاک ماخلقت الجنة، ولولاک ماخلقت النار'۔ (کنز العمال ۱۱/۱۹۴، رقم:۳۲۰۲۲) ' عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: أوحى الله إلى عیسی علیه السلام: یا عیسی آمن بمحمد وأمر من أدرکه من أمتک أن یؤمنوا به فلولا محمد ما خلقت آدم، ولولا محمد ماخلقت الجنة ولاالنار، ولقد خلقت العرش علی الماء فاضطرب، فکتب علیه لاإله إلا الله محمد رسول الله فسکن'۔ (المستدرک للحاکم، مکتبة نزار مصطفیٰ الباز بیروت ۴/۱۵۸۳، رقم:۴۲۲۷) <REF> [1] </REF>
مزید دیکھیے
|
اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔ |
| نعتیہ مضامین کی حامل احادیث | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| لولاک لما خلقت الأفلاک | |||||||
| "نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659 |
| نئے صفحات | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
|
| |||||||