تبادلۂ خیال:سلام یا حسین 2019
فراز کلام یہاں لگائیے
ایونٹ کے کلام
ابو الحسن خاور - آج یوں رونا رلانا ہے کہ ہائے ہائے
آج یوں رونا رلانا ہے کہ ہائے ہائے
میں نے قصہ وہ سنانا ہے کہ ہائے ہائے
اس میں اک تیر بہت دور سے مارا گیا ہے
اور نشانہ وہ نشانہ ہے کہ ہائے ہائے
اس سے پہلے تو نہ آئی تھی صدا زینب(ع)کی
پر جو اکبر ؑکا اٹھانا ہے کہ ہائے ہائے
سر ذرا نیزے پہ آنے دو کہ اس قاری نے
ایسا قرآن سنانا ہے کہ ہائے ہائے
افضل خان - ملول ایسا ہوا منظرِ قضا سے میں
ملول ایسا ہوا منظرِ قضا سے میں
کہ روتا پیٹتا نکلا ہوں کربلا سے میں
تو اہلِ بیتؑ کی نصرت کو کیوں نہیں پہنچا؟
سوال مجھ سے کرے گا خدا، خدا سے میں
میں رو پڑا تو مجھے یاد آیا صبرِ حُسینؑ
سو اپنے آپ کو دینے لگا دلاسے میں
دھنسا نہ ریت میں دشمن نہ غرقِ آب ہوا
خفا فرات سے، ناراض ہوں ہوا سے میں
کہا یہ حُرؑ نے ریاضِ بہشت میں سب سے
مجھے بھی دیکھیے کیا ہو گیا ہوں کیا سے میں
یہ سوچ کر غمِ تشنہ لباں چنا افضل
اٹھا نہ پاؤں گا صدمے ذرا ذرا سے میں
پروین حیدر - دے دیں کلاہ ِحرف قبائے سخن کے ساتھ
دے دیں کلاہ ِحرف قبائے سخن کے ساتھ
ہے ربط اس دعا کا در ِپنجتنؑ کے ساتھ
یارب میں ان کے عشق کو منظوم کر سکو ں
ہو ذکر کر بلا کا کتابِ ِسخن کے ساتھ
جس کے لہو سے عشق کا مقتل ہے سرخرو
وہ تھا فرازِ دار پہ اک بانکپن کے ساتھ
دستار ِجبر کاٹ دی پھر تیغِ صلح سے
حلم ِمحمدی (ص) رہا حلم ِحسنؑ کے ساتھ
کب لا سکا اجل کا فسوں ان کو دام میں
آئے مسافران ِمصیبت کفن کے ساتھ
ہمراہ کائنات کی وسعت کو لے چلا
وہ اک غریب ہجرت و ترکِ وطن کے ساتھ
کاری تھی ضربِِشہ ؑسر ِپندارِجبر پر
توڑا حصارِظلم کو بیکس بہن کے ساتھ
کیسے کروں میں کربِِ دل ِسیدہ ؑبیاں
حسرت بدوش ماں رہی اک خستہ تن کے ساتھ
راشد امام - خون کا گریہ کروں، صبر نہ آئے مولاؑ
خون کا گریہ کروں، صبر نہ آئے مولاؑ
نور کے جسم، سرِ نیزہ ہیں ہائے مولا ؑ
پاک آیات چھدی جاتی ہیں ٹاپوں کے تلے
فرش تا عرش، ابھرتی ہے ندائے مولاؑ
حلقِ اصغرؑ سے تجلی کا نمایاں ہونا
سرخی مائل ہوئی جاتی ہے قبائے مولا ؑ
اک بگولے میں بدل جاؤں امر ہوتے ہی
اتنی رفتارسے پہنچوں، جو بلائے مولا ؑ
آنکھ میں خون اترتا ہے لرزتا ہے بدن
تیرا بیمار کبھی یاد جو آئے مولاؑ
ظرف والوں کے نصیبوں میں یہ غم آتا ہے
تجھ کو غم ہے تو سمجھ خاص عطائے مولا ؑ
ایسے سر سبز چراغوں نے نمو کی راشد
اب معلی ہے، جو تھی کرب و بلائے مولاؑ
مصدق لاکھانی - جگر کے خون سے اپنے قلم کو سرخرو رکھنا
جگر کے خون سے اپنے قلم کو سرخرو رکھنا
اسی کو کہتے ہیں فنِ سخن کی آبرو رکھنا
نمازِ درد ہے تشنہ لبوں کی یہ عزاداری
اِن آنکھوں کو ہمیشہ آنسوؤں سے با وضو رکھنا
اگر رہنا ہے ہم کو آج کے بے رحم کوفہ میں
تو لازم ہے کسی خوابیدہ حُر کی جستجو رکھنا
سبیلِ کربلا سے پی رہا ہوں عشق کا کوثر
سن اے ساقی مرے آگے نہ اب جام و سبو رکھنا
وہ جس کے پاؤں کے تلووں کے نیچے میری جنت ہے
اسی ماں نے کہا تھا کربلا کی آرزو رکھنا
بہتر٧٢ لوگ بھی لشکر کے لشکر کاٹ سکتے ہیں
جب آتا ہو گلوئے تیغ پر تیغ گلو رکھنا
نشاں ماتم کے، پھولوں کی طرح ہر پل مہکتے ہیں
ہمیں آتا ہے سینے پر بہار رنگ و بو رکھنا
ازل کی نعمتوں سے آنسوؤں کی یہ صدا آئی
کوئی رکھے نہ رکھے اے مصدق، ہم کو تو رکھنا
نسرین سید - پھر اشکوں کی فراوانی ہے اور شبیرؑ کا غم ہے
پھر اشکوں کی فراوانی ہے اور شبیرؑ کا غم ہے
ملال و مرثیہ خوانی ہے اور شبیرؑ کا غم ہے
تصور میں ہے وہ تشنہ لبی، تر کیسے لب کر لوں؟
سبیلوں میں بھرا پانی ہے اور شبیرؑ کا غم ہے
وہاں تپتا ہوا صحرا ، بھڑکتی آگ خیموں کی
یہاں بس سوختہ جانی ہے اور شبیرؑ کا غم ہے
گلابوں کی طرح لاشے کِھلے تھے دشت میں، دل نے
ردائے سرخ اک تانی ہے اور شبیرؑ کا غم ہے
رہے باقی یہ غم، جب تک نفس کے تار ہلتے ہیں
ابھی سانسوں کی آسانی ہے اور شبیرؑ کا غم ہے
وفورِ رنج سے سنبھلے بھی کیسے، خانہء دل کے
دروں اک حشر سامانی ہے اور شبیرؑ کا غم ہے
ہے بس میں اور کیا نسریںؔ، یہی گریہ، عزا داری
یہی نوحہ ، رجز خوانی ہے اور شبیرؑ کا غم ہے
نورالحسن نور - ایک دو پر بس نہیں ساری خدائی کے لیے
ایک دو پر بس نہیں ساری خدائی کے لیے
ہے مرا شبیرؑ کافی رہنمائی کے لیے
جب یزیدی قوتوں کے خار و خس بڑھنے لگے
تو حسینؑ ابن علیؑ آئے صفائی کے لیے
کیسے بالا دستیِ باطل اسے تسلیم ہو
کربلا بھیجا گیا جو حق نمائی کے لیے
جانے کیسے لوگ ہیں مجبور کہتے ہیں اسے
جس کا گھر مشہور ہے مشکل کشائی کے لیے
دیکھنا ہے اختیارِ ابن زہراؑ گر تجھے
دل سے ان کو دے صدا حاجت روائی کے لیے
کاشفِ سرِ حقیقت ہیں حسینؑ ابن علیؑ
کھول دل کی آنکھ ان کی آشنائی کے لیے
اے غمِ شبیرؑ کرلے مستقل اپنا قیام
دل مرا راضی نہیں تجھ سے جدائی کے لیے
وہ ترا آئینۂ کردار ہے میرے حسینؑ
خنجر سفاک ہے جو ہر برائی کے لیے
کیا کہو گے اے سیہ بختو! خدا پوچھے گا جب
کیا نبی کا گھر ہی تھا زور آزمائی کے لیے؟
ہے حسینؑ ابن علیؑ ایثار و قربانی کا نام
اور ہیں کوفی استعارہ بے وفائی کے لیے
کیوں نہ صدقے جائے اس پر امت شاہِ اممؑ
ہو گیا قربان جو اس کی بھلائی کے لیے
جس نے گلشن کر دیا ہے دشت وحشت ناک کو
کربلا شاہد ہے اس کی خوش نوائی کے لیے
نورؔ کے پیکر میں بھر دے یا خدا رنگِ حسینؑ
سیدی نواب شیخِ بوالعلائی کے لیے