تبادلۂ خیال:ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے
یہ وہ مصرع ہے جس پر رمضان المبارک 2019 کو ایک تاریخ ساز مشاعرہ ہوا ۔ اس کی تفصیلات میں ابو الحسن خاور فرماتے ہیں
" 13 مئی 2019 کو دوستوں کے ایک مختصر گروپ میں حسنین محسن نے اپنا تازہ مطلع دوستوں کو پیش کیا کہ اس پر فی البدیہہ مشق کریں ۔ مطلع تھا۔
مخصوص لفظیات سے نکلیں تو نعت ہوہم حد ِممکنات سے نکلیں تو نعت ہو
اس پر اشعار کہتے ہوئے مجھ سے ایک شعر اس طرح موزوں ہوا
ہر شعبہ ءِ حیات میں امکاں ہیں نعت کےکاغذ، قلم ، دوات سے نکلیں تو نعت ہو
"ہر شعبہ حیات میں امکاں ہیں نعت کے "
کا خیال میرے اندر شاید تین سال سے پک رہا تھا جب ایک گفتگو میں جناب مجید اختر نے فرمایا کہ خاور یار، ہم شاعر ہیں تو شعر میں نعت کہتے ہیں لیکن نعت تو ہر انسان کو ہر شعبے میں کہنی چاہیے ۔ یہ خیال اسی وقت ہی میرے دل میں اتر گیا تھا ۔ اس مصرعے کے ہونے سے مجھے خوشی ہوئی ۔ اس فی البدیہہ مشق ِ سخن میں نعت مبارکہ تو مکمل نہیں ہو سکی ۔ لیکن ایک قطعہ ہوگیا
خاور اندھیری رات سے نکلیں تو نعت ہویعنی ہم اپنی ذات سے نکلیں تو نعت ہو
ہر شعبہ ءِ حیات میں امکاں ہیں نعت کے
کاغذ، قلم ، دوات سے نکلیں تو نعت ہو
میں نے یہ قطعہ نعت ورثہ میں پیش کر دیا ۔ دوستوں نے خوب سراہا لیکن مجھے اطمینان نہ ہوا ۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے یہ مصرع بہت اہم ہے ۔ مجھے خواہش ہوئی کہ کسی طرح اس مصرعے کو مطلع میں استعمال کروں ۔ اس پر غور و فکر کیا تو کچھ شکلیں تو سامنے آئیں لیکن اطمینان نہ ہوا ۔