ظفر علی خاں
نعت کائنات سے
نمونہ کلام
اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
اے خور حجاز کے رخشندہ آفتاب
صبح ازل ہے تیری تجلی سے فیض یاب
زینت ازل کی ہے تو ہے رونق ابد کی تو
دونوں میں جلوہ ریز ہے تیرا ہی رنگ و آب
چوما ہے قدسیوں نے تیرے آستانہ کو
تھامی ہے آسمان نے جھک کر تیری رکاب
شایاں ے تجھ کو سرور کونینﷺ کا لقب
نازاں ہے تجھ پہ رحمت دارین کا خطاب
برسا ہے شرق و غرب پہ ابر رم تیرا
آدم کی نسل پر ترے احساں ہیں بے حساب
پیدا ہوئی نہ تیرے مواخات کی نظیر
لایا نہ کوئی تیری مساوات کا جواب
خیر البشر ہے تو، تو خیر الامم و ہ قوم
جس کو ہے تیری ذات گرامی سے انتساب