عارف سیالوی

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 20:10، 18 جون 2018ء از ADMIN (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (ADMIN نے صفحہ حاجی عارف سیالوی کو بجانب عارف سیالوی منتقل کیا)
Jump to navigationJump to search

تعارف

مولانا عبدالرسول محمد عارفؔ سیالوی المعروف حاجی عارف سیالوی گجرات کے بزرگ استاد اور عالمِ دین تھے۔ کنگ سہالی ضلعگجرات میں 1915ء کو پیدا ہوئے ۔ پبلک ہائی سکول نمبر 1میں فارسی کے استاد کی حیثیت سے خدمات بجالاتے رہے ۔ نہایت شفیق اوراتباعِ سنت کے سختی سے پابند تھے۔ نماز روزہ ، ذکر اللہ، ’بے مثل صانع کی بے مثل صنعت اور کرنیں ایک ہی مشعل کی آپ کی کتب ہیں۔ آپ شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی علیہ الرحمۃ کے مرید اور خلیفہ تھے اور اعلیٰ حضرتامام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بہت بڑے مداح تھے۔

شاعری میںحمد،نعت اورمنقبت کے علاوہ کچھ نہیں کہا۔ آپ نے بعض اقارب کی شادی پرسہرا بھی لکھا ، لیکن اس انداز میں لکھا کہ سہرا کم اور نعت زیادہ نظر آتی ہے۔ آپ نے صاحبزادہ پیر فیض الامین فاروقی کا جو سہرا لکھا اُس کا مقطع یہ ہے:

غرض اتنی ہے کروں نعتِ محمد عارفؔ!

اک بہانہ ہے کہ لایا ہوں میں لکھ کر سہرا


آپ نے 2003ء میں وصال فرمایا اورکنگ سہالی ضلع گجرات میں دفن ہوئے ۔

نمونہ نعت

محمد مصطفیٰ یعنی خدا کی شان کے صدقے

میں ہر ہر آن یارب انکی ہر ہرآن کے صدقے


ہوالاول ہوالآخر ہوالظاہر ہوالباطن

میں اس عالی نسب، والا حسب ذیشان کے صدقے


خدایا رحم فرما از طفیلِ رحمتِ عالم

حبیب اللہ ! نظر کیجو اِدھر رحمان کے صدقے


تو اصلِ کائنات و وجہِ تخلیقِ دو عالم ہے

جہاں کا ذرہ ذرہ ہے ترے احسان کے صدقے


نہیں جا لب کشائی کی سرِ تسلیم خم کردو

اشارہ جس طرف پائو جھکو سلطان کے صدقے


بھلا آداب اس دربار کے عارفؔ کہے کیونکر

پڑھو احزاب کو حجرات کو فرقان کے صدقے