عطا کی انتہا ہے اور کیا ہے ۔ رحمان حفیظ
نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 14:05، 16 اکتوبر 2017ء از Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
شاعر : رحمان حفیظ
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
عطا کی انتہا ہے ، اور کیاہے
نہیں مانگا تھاجو ، وہ بھی ملا ہے
اگرچہ جانبِِ صحرا گیا تھا
تخّیل تازہ ہو کر آ گیا ہے
مہک اٹھّی ہے دنیائے تکلم
تمہارا نام لب پر کیا کِھلا ہے
عطا کیسے نہ ہو حُسنِ تخیل
تخّیل میں ترا حسنِ ِعطا ہے
محمد مصطفیٰ کے لب پہ آ کر
جو مردہ لفظ بھی تھا، جی اٹھا ہے
ہے پھولوں میں اسی چہر ے کی رونق
دیوں میں اس نظر کی ہی ضیا ہے
ہمارے باپ داد نعت گو تھے
محبت سلسلہ در سلسلہ ہے
ہوا ہے نعت کے درجے پہ فائز
سخن جو میرے اشکوں نے کیا ہے
یہ نعتیں تو سند ہیں مغفرت کی
یہ سندیسے خدا ہی بھیجتا ہے