ہے ایک سیل ندامت اس آبگینے میں ۔ سعود عثمانی
نعت کائنات سے
ہے ایک سیل ندامت اس آبگینے میں
عجیب ہے یہ سمندر کہ ہے سفینے میں
ہے بند آنکھ میں بھی عکس مسجد نبوی
جڑا ہوا ہے یہی خواب اس نگینے میں
کسی نے اسم محمدؐ پڑھا تو ایسا لگا
کہ جیسے کوئی پرندہ اڑا ہو سینے میں
میں ایک بے ادب و کم شناس اعرابی
سلگتے دشت سے آیا ہوا مدینے میں
سعودؔ یوں بھی تو ممکن ہے حاضری لگ جائے
میں اپنے شہر میں ہوں اور دل مدینے میں