میر انیس
میر انیس نے اپنا پہلا شعر آٹھ سال كی عمر میں اپنے والد كے دوست معروف شاعر ناسخ كے سامنے سنایا جس پر ناسخ ششدر رہ گئے اور پیش گوئی كر دی كہ یہ بچہ سلطنت شعر كا بادشاہ بنے گا۔ وہ شعر یوں ہے <ref> رفعت عباس زیدی ۔ http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=670 </ref> ۔۔
كھلا باعث یہ اس بیداد كے آنسو نكلنے كا
دھواں لگتا ہے آنكھوں میں كسی كے دل كے جلنے كا
اساتذہ کی اراء
ابولکلام آزاد
ٰٰٰٰٰدنیائے ادب کو اردو ادب کی جانب سے میر انیس کے مرثئے اور مرزا غالب کی غزلیں تحفہ تصور کی جائیں۔ ادبیباتِ اُردو اور اُردو زبان کو قصرِ گمنامی سے نکال کر مراثئ انیس نے بین الاقوامی سطح پر پہنچا دیاٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰ
وفات
تازہ مضمون نظم می فرمود ہر بحر شعر
چشمئہ چشمم شودہم چشمِ کوثر بے انیس
آسماں بے ماہِ کامل سدرہ بے رح الامین
طور سینا بے کلیم اُللہ ممبر بے انیس
کہا جاتا ہے مرزا دبیر نے میر کی وفات پر رو رو کر یہ اشعار برسر منبر پڑھے <ref> ظفر جعفری http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=670 </ref>