خورشید رسالت کی شعاوں کا اثر ہے ۔ کوثر نیازی

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 07:31، 5 اگست 2017ء از تیمورصدیقی (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (نیا صفحہ: {{بسم اللہ}} شاعر: کوثر نیازی ==== {{نعت}} ==== خورشید رسالت کی شعاوں کا اثر ہے احرام کی مانند مرا دام...)

(فرق) → پرانا نسخہ | Approved revision (فرق) | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search


شاعر: کوثر نیازی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

خورشید رسالت کی شعاوں کا اثر ہے

احرام کی مانند مرا دامن تر ہے


نظارہ فردوس کی یا رب نہیں فرصت

اس وقت مدینے کی فضا پیش نظر ہے


اس شہر کے ذرے ہیں مہ و مہر سے بڑھ کر

جس شہر میں اللہ کے محبوب کا گھر ہے


یہ راہ کے کنکر ہیں کہ بکھرے ہوئے تارے

یہ کہکشاں ہے کہ تری گرد سفر ہے


اس صاحب معراج کے در کا ہوں بھکاری

قرآن میں جس کیلئے ماذا غ البصرہے


اک مہر لقا ، ماہ ادا کا ہے یہ اعجاز

ہر اشک مری آنکھ کا تابندہ گہر ہے


میں گنبد خضری کی طرف دیکھ رہا ہوں

کوثر مرے نزدیک یہ معراج نظر ہے