گر تو می بینی حسابم نہ گزیر

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 05:33، 10 جون 2023ء از ADMIN 3 (تبادلۂ خیال | شراکتیں) link=علامہ اقبال {{بسم اللہ }} زمرہ : واقعات یہ مصرع اقبال کی اس رباعی کا غلط العوام مصرع ہے جو انہوں نے ماسٹررمضان عطائی کوعنایت کر دی تھی ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : قصہ علامہ اقبال کی ایک رباعی کا ہمارے محقق عمر فاروق وڑائچ ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search

یہ مصرع اقبال کی اس رباعی کا غلط العوام مصرع ہے جو انہوں نے ماسٹررمضان عطائی کوعنایت کر دی تھی ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے  : قصہ علامہ اقبال کی ایک رباعی کا

ہمارے محقق عمر فاروق وڑائچ اس پر فرماتے ہیں کہ

یہرباعیعلامہ اقبال نے ماسٹر محمد رمضان عطائی کو دے دی تھی، اس لیے کلیات میں نہیں چھپی۔ پہلا، دوسرا اور چوتھا مصرع سب جگہ یکساں ہے۔ تیسرے مصرعے کے متن میں اختلاف ہے۔اس کی درج ذیل صورتیں ملتی ہیں:


ور حسابم را تو بینی ناگزیر

تو اگر بینی حسابم ناگزیر

یا اگر بینی حسابم ناگزیر

یہ تین متن کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ پہلا متن شیخ عطاء اللہ نے ماسٹر رمضان کے نام خط کے حاشیے میں نقل کیا ہے۔ دوسرا اسلم جیراج پوری نے اور تیسرا سعید اکبر آبادی نے۔ کلیات مکاتیب اقبال میں ماسٹر رمضان کے نام خط کے حاشیے میں تینوں کا ذکر ہے لیکن شیخ عطاء اللہ کا نام نہیں۔ ایک اور متن بھی مشہور ہے لیکن کسی کتاب میں نہیں دیکھا۔

گر تو می بینی حسابم ناگزیر

مزید دیکھیے

قصہ علامہ اقبال کی ایک رباعی کا