تبادلۂ خیال:پہلی قومی ادبی نعت کانفرنس 2022

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search

تحسین فراقی (صدرِ مشاعرہ):

آنکھ کا روزن بند کریں اور دل کا دریچہ باز کریں

یادِ نبیؐ میں آؤ ہم بھی نعتِ نبیؐ آغاز کریں

پلکوں پر اشکوں کو سجا کر چھیڑیں راگ جدائی کا

دل کی لحظہ لحظہ دھڑکن کو اُن کا ہم راز کریں

سید ریاض حسین زیدی (ادب سرائے ساہیوال):

آداب ، حوصلے سبھی جینے کے آگئے

جس کی نظر میں رستے مدینے کے آگئے

دامانِ تار تار سے کیا دل گرفتگی

دل کو ہنر جو چاک کو سینے سے آگئے

وجدان ، دل ، شعور ، مقدر مہک اُٹھا

خوش بو بھرے خیال پسینے میں آگئے __________

رفیع الدین ذکی قریشی (لاہور):

آئے حبیبِ ربِ اکبر جاگ اُٹھا دنیا کا مقدر، صلی اللہ علیہ وسلّم

سمٹا سمٹا شب کا اندھیرا پھیلا پھیلا صبح کا منظر ، صلی اللہ علیہ وسلّم


یہ احترام کا دیکھا اثر مدینے میں

جھکی جھکی سی تھی ہر اک نظر مدینے میں

اُدھر اُدھر سے مہک آئی اُن کی زُلفوں کی

جِدھر جِدھر سے کیا تھا سفر مدینے میں

صدف چنگیزی (کوئٹہ):

روتے روتے کبھی احوال سنانا دل کا

رُکتے رُکتے کسی قابو میں نہ آنا دل کا

المدد میرے آقاؐ کہ دعا دوں اُن کو

آج پھر زخم اُبھر آیا ہے پرانا دل کا

ہچکیاں لینے سے زرخیز ہوئی دل کی زمیں

اب تو چھلکا ہُوا رہتا ہے خزانہ دل کا

پروفیسر عباس مرزا: =

آپؐ کو ہوگا عطا جوں ہی مقامِ محمود

پھر تو آئے گا مزا روزِ جزا دیکھنے کا

__________

میں ہوں پنجابی سو برکت کی خدائی چھوڑ کر

آپ نے سکھلایا تو مجھ میں خدا شامل ہُوا

__________

تبسّم مقصود کاظمی (دبئی):

اگر حضورؐ کے دندان موتیوں سے حَسیں

صدف کا حُسنِ رعایت ، حضورؐ کے شفتین

عمرؓ نے چوما تھا یہ کہہ کے سنگِ اَسود کو

بڑھا گئے تری عظمت ، حضورؐ کے شفتین

__________


ریاض ندیم نیازی (سبی): =

سو جاؤں دُعا کرکے پھر خواب میں روضہ ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو

جاگوں تو حضوری کا پیغام بھی آیا ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو

آقاؐ کے دوانو نے طیبہ میں سجائی ہو ، محفل بھی جمائی ہو

اور نام ہمارا بھی فہرست میں لکھّا ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو

نعتوں کے وسیلے سے عزت بھی ملے مجھ کو شہرت بھی ملے مجھ کو

قسمت میں ندیم اُس نے میری یہی لکھّا ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو


سرور حسین نقشبندی (لاہور):

کچھ بھی نہ رہا اَوجِ ثریا میرے آگے

ہر آن ہے وہ نقشِ کفِ پا میرے آگے

ہریالی سی رہتی ہے خیالوں میں شب و روز

رہتا ہے جو وہ گنبدِ خضرا میرے آگے

کیا رنگ دکھائے ہیں ترے ذکر نے آقاؐ

بچھتی ہی چلی جاتی ہے دنیا میرے آگے

علی اصغر عباس (اسلام آباد):

خدا نے آپؐ سے جب رُو بہ رُو کلام کیا

درود آپؐ پہ بھیجا گیا سلام کیا

پسند آئی ہے اپنی ادا اُسے اتنی

زمین و آسماں پہ چرچا اُسی کا عام کیا

ابو الحسن خاور(لاہور):

صاحبِ شقِ قمر جس پہ عنایت کر دیں

وہ اگر آئینہ جوڑیں تو نشاں تک نہ رہے

ایک شب سیر کو نکلے تھے شہِ کون و مکاں

اور پھر کون و مکاں کون و مکاں تک نہ رہے

روزِ محشر تھا میرا نام ثناخوانوں میں

یعنی یہ شعر مِرے ایک جہاں تک نہ رہے

= منظر نقوی

اُس سرورِ لولاک کے در لگ کے کھڑا ہوں اور مدح سرا ہوں

الحمد کہ اولادِ محمدؐ کے غلاموں کا گدا ہوں اور مدح سرا ہوں

حسین امجد (حسن ابدال):

دل و نظر میں بسالوں مدینہ شہر کی خاک

اجل ٹہر ، میں ذرا لوں مدینہ شہر کی خاک

کبھی تو آنکھ سے چوموں میں حجرِ اَسود کو

کبھی تو آنکھ میں ڈالوں مدینہ شہر کی خاک

حضورؐ آپ کا منگتا ہوں میں حُسین امجدؔ

حضور کیا میں اُٹھا لوں مدینہ شہر کی خاک __________ نصرت (اسلام آباد): یا نبیؐ بس آپؐ کی ہردم عنایت چاہیے روزِ محشر آپؐ کی مجھ کو شفاعت چاہیے نفسِ امارا میرا بن جائے نفسِ مطمئن بادشاہِ دین و دنیا کی اطاعت چاہیے نقشِ پائے رہبرِ دینِ مبینِ کبریا کام یابی کے لیے بس یہ ضمانت چاہیے حاضری دربارِ اقدس میں اگر درکار ہو عاجزی لہجے میں آنکھوں میں ندامت چاہیے __________ ذوالفقار علی دانش (حسن ابدالی): لکھی ہے نعت یہ میں نے بہ صد ہزار ادب کہ اُنؐ کے در پہ کیا جائے گا شمار ادب خدائے پاک کی حمد اور نعتِ سرورِ دیں یہی تو ہے جسے کہتے ہیں شاہکارِ ادب تِرے ہی نام سے پاتا ہے ہر سخن توقیر تِرے ہی ذکر سے بنتا ہے شان دار ادب __________ نسیمِ سحر (راولپنڈی): جتنے بھی دکھ ملے ہمیں اغیار کے سبب سب کا ازالہ ہوتا ہے سرکارؐ کے سبب انصافِ بے مثال کی قائم ہوئی مثال اِک کھردری چٹائی پہ دربار کے سبب کوئی عجب نہیں کہ نسیمِ سحر میری بخشش ہو اپنے نعتیہ اشعار کے سبب __________ طاہر علی سید (تونسہ شریف): دم سادھے مؤدب ہوں میں کیا نیم شبی ہے مدحت کا نزول اور مِرے دل پہ بنی ہے اُس در کی گدائی سے مِلا ہے مجھے اتنا اب دل میں اگر ہے تو فقط بے طلبی ہے دنیا کو مُیسر ہُوا جب حُسنِ مجسّم تب جا کے کہیں عشق کی بنیاد پڑی ہے __________ بشریٰ فرخ: تِرے بغیر تھی جو زندگی کہانی ہوئی جو تِری یاد میں گزری وہ جاودانی ہوئی میں دل کی آنکھوں سے پہچانتی ہوں یہ رستہ یہی جگہ تھی جہاں زیست پُرمعانی ہوئی میں دل اور آنکھیں مدینے میں چھوڑ آئی ہوں جہاں شروع محبت کی یہ کہانی ہوئی __________ عارف قادری (واہ کینٹ): یہ گھر کسی کو اور بسانے نہیں دیا دل سے نبیؐ کی یاد کو جانے نہیں دیا خوش ہیں کہ نعتِ سرورِ کونینؐ کے سِوا کچھ زندگی نے ہم کو کمانے نہیں دیا عارف میرے حضورؐ کو میری خبر نہ ہو ایسا خیال ذہن میں آنے نہیں دیا __________ حکیم خان حکیم: بُلا کر عرشِ اعظم پر محبت سے تجھے آقاؐ خدا جب رو بہ رو ہو جائے تیری نعت ہوتی ہے دل کی دھڑکن میں آنکھوں کا اُجالا تم ہو میرے جینے میرے مرنے کا حوالہ تم ہو __________ واجد امیر: شہرِ نبیؐ کو عرش بھی جب ہم نشیں کہے دل ایسے آسمان کو کیوں کر زمیں کہے اُنؐ سے ، سنی سنائی کو منسوب مت کرو وہ لفظ مت کہو جو اُنھوں نے نہیں کہے کہنے کو نعت ہو تو گئی ہے مگر حضورؐ جو شعر کہنا چاہتے تھے وہ نہیں کہے __________ اشفاق احمد غوری: جہاں نوشابۂ لطف و کرم رکھا ہُوا ہے اُسی در پر سرِ تسلیمِ خم رکھا ہُوا ہے عطا ہوگا کبھی اِک نعت کا مقبول مصرعہ درِ اُمید پر کاغذ قلم رکھا ہُوا ہے مِرا ہر عیب دُنیا کی نگاہوں سے چھپا کر شہِ ابرار نے میرا بھرم رکھا ہوا ہے __________ سیدہ فرح شاہ: درودِ پاک کے گجرے بنا کے لائی ہوں نبیؐ کی نعت کا یوں اہتمام کرنا ہے ردائے حُبِّ نبیؐ اوڑھ کر نکل آئی دل و نگاہ کو اُنؐ کا غلام کرنا ہے __________ یٰسین قمر: سر بہ سر عجز قبلہ رُو ہوکر یادِ طیبہ سے مُشک بُو ہوکر جانے کب حکمِ نعت ہو جائے لفظ رہتے ہیں باوضو ہوکر __________ شبیر احمد شبیر: جملہ اعداد نہ حرف مِلانے سے کھُلا حُجلۂ علم ترے غار میں آنے سے کھُلا ہم تو گنتی ہی گِنے جانے کے دھوکے میں رہے حُسنِ ترتیب ترے بعد میں آنے سے کھُلا __________ حسنین مُحسن: کتنا مشکل ہے فاصلہ رکھنا نعت کو حمد سے جدا رکھنا نعت کے شعر کہہ رہا ہوں میں تم دِیے سے دِیا جلا رکھنا __________ اعجاز حسین گوجرانوالہ: پیام دیتی ہے بادِ صبا مدینے سے نکہتیں نہیں ہوتیں جدا مدینے سے سوال چھوٹا کیا تھا مگر ، جہاں دونوں فقیر کاسے میں لے کر اُٹھا مدینے میں __________ سیّد ثقلین نقوی (مدینہ شریف): اوڑھ کر عجز و عقیدت کی رِدا کہتا ہوں گوندھ کر حرفِ وِلا اُنؐ کی ثنا کہتا ہوں اُنؐ کا مولا میرے اس کام پہ خوش ہوتا ہے جب بھی میں صلِّ علیٰ صلِّ علیٰ کہتا ہوں __________ سلمان مسعود: چشمِ فلک نے دیکھا ہے ایک نظارا ایسا بھی عشقِ نبیؐ نے کر دیا ایک سیاہ فام خاص شاہ و گدا کا امتیاز آکے مٹایا آپؐ نے آپؐ کی بارگاہ میں ہو گئے سارے عام ، خاص __________ صغیر احمد صغیرؔ: میں ایک شام مدینے میں دیکھ آیا ہوں بڑے ادب سے ہے چلتی ہَوا مدینے میں سکونِ دائمی ، پوچھا ، کہاں سے ملتا ہے؟ تو اِک فقیر نے مجھ سے کہا ، مدینے میں __________ توقیر احمد: گزر رہی ہے جو یہ زندگی سرور کے ساتھ یہی وجہ ہے کہ ہیں نسبتیں حضورؐ کے ساتھ __________ سچ تو یہ ہے کہ بِنا نعت نہیں کھلتا ہے ایک زینہ جو سرِ عرشِ بریں کھلتا ہے ایک رستہ جو مدینے سے شروع ہوتا ہے دوسری سمت پہ جنت کے قریں ہوتا ہے __________ احسان علی حیدر: بول ممکن تو نہیں پھر بھی اگر آتا ہے میرے آقاؐ سا کوئی اور نظر آتا ہے؟ شوقِ دیدار مِری آنکھ ذرا نم رکھیو خاک نم ہو تبھی ڈالی پہ ثمر آتا ہے نعت کہنے کے لیے خون سے سینچو الفاظ پھر مقدر سے کوئی مصرعۂ تر آتا ہے __________ ارسلان احمد ارسل: عاصی درِ رحمت پہ کھڑے دیکھ رہے ہیں کب چشمِ کرم اُن پہ پڑے ، دیکھ رہے ہیں بچے تری سیرت سے ہوئے جاتے ہیں انجان اور اِس پہ ستم یہ کہ بڑے دیکھ رہے ہیں __________ ہم بناوٹ سے نہیں کہتے کہ ہم تیرے ہیں ہم ترے در کی اٹھاتے ہیں قسم تیرے ہیں تُو گدایانِ محمدؐ کا گدا ہے ارسل بس اِسی واسطے دنیا میں بھرم تیرے ہیں __________ ریاض احمد شیخ: طائرِ روح کا مسکن ہے ریاضِ احمد کیسے اغیار کے اشجار پہ ٹہرے جاکر __________ جو اِک طرف ہے محمدؐ تو اِک طرف احمدؐ ریاض سرورِ کونینؐ کے حصار میں ہے __________ زاہد فخری (لاہور): دلوں سے غم مٹاتا ہے محمدؐ نام ایسا ہے نگر اُجڑے بساتا ہے محمدؐ نام ایسا ہے __________ یہ دنیا اِک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے ہر اِک موجِ بلا کی راہ میں حائل مدینہ ہے کرم کتنا ہے فخری اُن کی ذاتِ پاک کا مجھ پر میں اتنی دور ہوں لیکن مجھے حاصل مدینہ ہے __________ علی اختر خلیق (اسلام آباد): سرفرازی ہے دو عالم میں منافع میرا عشقِ سرکارِ دو عالم مِرا سرمایا ہے حُسنِ یوسف کی گواہی ہے زلیخا کی تڑپ پر محمدؐ پہ تو اللہ کا دل آیا ہے __________ فائق ترابی (اٹک): میری مٹی سے کوئی دیپ بنایا جاتا پھر ترے شہر کی گلیوں میں جلایا جاتا کاش طیبہ کے گلستان کا کانٹا ہوتا اور پھولوں کی حفاظت پہ لگایا جاتا __________ ندیم شیخ (لاہور): لکھوں گا نعتِ رسولِ اکرم تو بات اپنی بناؤں گا میں مجھے یقیں ہے کہ ایسا کرنے سے سیدھا جنت میں جاؤں گا میں __________ بہ فیضِ عجز و عنایت سمجھ میں آیا درُود لہو کو عشق سکھایا ، بدن بنایا درُود عجب نہیں تھا کہ اشکوں میں ڈوب جاتا میں خدا کو یاد کیا تو مدد کو آیا درُود __________ باقر علی زیدی: ثنائے احمدِ مُرسلؐ کی سلسبیل پہ ہوں ابھی تو سلطنتِ نعت کی فصیل پہ ہوں __________ کشتِ ویراں میں سرسبز حوالے کی طرح تیرگی میں ہے کوئی نام اُجالے کی طرح خاک دانِ دلِ ہستی میں وہ مثلِ خورشید جگمگاتے ہیں کسی نور کے ہالے کی طرح __________ ندیم سحر (لاہور): بام و در روشنی ہر نگر روشنی ہے مدینے کا سارا سفر روشنی نعت کہنے کو جب بھی اُٹھایا قلم ہو گیا میرا علم و ہنر روشنی __________ نعیم رضا بھٹی (منڈی بہاؤالدین): نظامِ کُن میں ارتقا ضروری ہے تِرا قلم تِری رضا ضروری ہے فصاحتوں کی جس میں پڑا ہوں میں مجھے حجاز کی ہَوا ضروری ہے __________ ریاض خاور اعوان (اسلام آباد): صرف اُس جادۂ رحمت کے مَیاں دِکھتا ہے ورنہ ہر دیکھنے والے کو کہاں دِکھتا ہے نعت پڑھتے ہوئے اِک حجرے میں آ جاتا ہوں جس کی کھڑکی سے پسِ کون و مکاں دِکھتا ہے __________ شعیب کا شر (آزاد کشمیر): تجھ کو شایان ہے دارین کی شاہی، میرے ماہی میں تِری فوج کا اِک ادنیٰ سپاہی ، میرے ماہی ترے صدقے ترا شاعر ترے واری ترا کاشر مِرے آقاؐ مِرے مولا مِرے ماہی، میرے ماہی __________ سائل نظامی (گجر خان): یک لخت چمک اُٹھیں مِرے سوگ زدہ نین ، اے سیّدِ کونینؐ آنکھوں سے لگا پاؤں اگر آپؐ کے نعلین ، اے سیّدِ کونینؐ اے پیکرِ رحمت مِرے بچوں کو بھی رکھنا منگتوں میں ہمیشہ جیسے درِ رحمت پہ پڑے ہیں مِرے اب غین ، اے سیّدِ کونینؐ __________ شاہد: زہے نصیب جو پالوں حضورؐ کے نعلین تو سر کا تاج بنا لوں حضورؐ کے نعلین یہ مہر و ماہ زیارت کو میرے گھر آئیں جو اپنے گھر میں سجا لوں حضورؐ کے نعلین __________ خالد محبوب (بہاولپور): لفظ خود نعت کے امکان میں آ جاتے ہیں جب بھی سرکارؐ مِرے دھیان میں آ جاتے ہیں آپؐ کی پیروی کرنے سے کھُلا ہے مجھ پر ضابطے جینے کے انسان میں آ جاتے ہیں __________ عبدالعزیز دباغ: میری اوقات کیا پوچھتے ہو میں ہوں خاشاکِ دُنیا کا سایا مجھ کو بوسے دِیے قدسیوں نے میں مدینے گیا اور آیا میں نے صلِّ علیٰ کہہ کے جس دم طوفِ کعبہ سے رب کو پکارا میں کھڑا تھا مقامِ دُعا پر اُس نے چہرے سے پردہ ہٹایا اِک تجلّی سے روشن تھا سینہ میں نے کعبے میں دیکھا مدینہ نور کا یہ عجب سلسلہ ہے مجھ کو روضے نے کعبہ دِکھایا ٭٭٭