تبادلۂ خیال:رضی عظیم آبادی
محمد رضی احمد، قلمی نام رضی عظیم آبادی کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ تاریخ پیدائش 27 اکتوبر 1947ء ہے۔ لیکن پیدائشی سر ٹیفکیٹ میں 20 فروری 1953ء درج کی گئ ہے <ref> ڈاکٹر شہزاد احمد، ایک سو ایک پاکستانی نعت گو شعراء، رنگ ادب کراچی ، 2007 </ref> ۔ جائے پیدائش پان منڈی، کراچی ہے۔ آبائی وطن بہار (انڈیا) اور والد کا نام غلام مصطفی ہے۔
تعلیمی اور عملی زندگی
رضیؔ عظیم آبادی نے ابتدائی تعلیم کرنا فلی انگلش میڈیم اسکول سے حاصل کی۔ بعدازاں چاٹگام پورٹ ٹرسٹ ہائی اسکول سے 1968ء میں میٹرک کیا ۔ چاٹگام سٹی کالج سے ایف اے پاس کیا۔ مشرقی پاکستان میں قتل وغارت گری کے دوران اکتوبر 1971ء کو کراچی میں وارد ہوئے۔ علامہ اقبال کراچی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ایڈووکیٹ اور ممبر آف بار کونسل ہیں۔ جب کہ موجودہ پیشہ ’’ اکائونٹنگ ‘‘ ہے اور گیٹکو اینڈ ٹریڈنگ کمپنی کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شاعری و نعت گوئی
رضیؔ عظیم آباد ی وہ خوش نصیب شاعر ہیں کہ جن کا اثاثۂ نعت وقیع ہے۔ غزل بھی کہتے ہیں مگر ان کا توشۂ نعتآئینہ یزداں - رضی عظیم آبادی کے طفیل ’’ ذکر خیر الوری ‘‘ سے مالا مال ہے۔ ’’ حلقہ مری زنجیر کا‘‘ غزلوں کا مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔
رضیؔ عظیم آبادی کی شاعری کو مہمیز دینے والوں میں کاوشؔ عمر، مبارکؔ مونگیری مرحوم، جمیلؔ عظیم آبادی، افسرؔ ماہ پوری کے نام شامل ہیں۔ جب کہ فہیمؔ ردولوی کے سامنے زانوئے تلمذتہ کیے۔ محمد رضیؔ صاحب کی نعتیہ شاعری میں جذبات کی روانی اور عقیدت کی جاودانی موجود ہے۔ ان کی نعتیں عقیدت کے ساتھ احتیاط کی علامت سے بھی مزّین ہیں۔