شاعرہ: فوزیہ شیخ
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
رکھا ھے کائنات میں کیا آپکے سوا
ھے کون اس جہاں میں مرا آپکے سوا
واپس پلٹ کے آگئ باب ِ قبول سے
جا ئے گا لے کے کون دعا آپکے سوا
ہنگامِ فتحِ مکّہ کیا سبکو ہی معاف
بخشی ھے یوں کسی نے خطا آپ کے سوا ؟
محبوب رو برو ہوا، لمحات تھم گئے
ایسی ہوئی ہے کس پہ عطا آپ کے سوا
عورت کو فرش سے ہے سر ِ عرش کر دیا
دے گا بھی کون ایسی ردا آپ کے سوا
دنیا میں ہر طرف ہی اندھیرے کا راج تھا
روشن کیا ھے کس نے دیا آپکے سوا
ہراک دوا ھے آپکے قدموں کی خاک سے
پائی کہاں سے ہم نے شفا آپکے سوا
بھٹکا ہوا تھا قافلہ، چل چل کےتھک گیا
کوئی بھی راہبر نہ ملا آپکے سوا
|
شاعر: شبنم رومانی
حمدِ باری تعالی جل جلالہ
اَزل سے یہی ایک سودا ہے سر میں
تجھے دیکھ لوں، تجھ کو بھر لُوں نظر میں
زمیں کی طرح میرا سر گھومتا ہے
کہاں طاقتِ حمدِ باری بشر میں
مجھے جسم بخشا، مجھے روح بخشی
اُجالا کیا تنگ، تاریک گھر میں
یہاں جو بھی شے ہے، کمال اُس کے طے ہے
ہوا باندھ دی ہے پرندے کے پر میں
عجب نعمتیں شب کے پردے میں بخشیں
عجب رحمتیں گھول دی ہیں سحر میں
درِ کعبہ پر دیر سے چُپ کھڑا ہوں
قیامت کا منطر ہے میری نظر میں
محمدﷺ میں بھی حمد ہے جزوِ اعظم
کہی حمد ہی نعتِ خیرالبشر میں
|