میر انیس
میر انیس نے اپنا پہلا شعر آٹھ سال كی عمر میں اپنے والد كے دوست معروف شاعر ناسخ كے سامنے سنایا جس پر ناسخ ششدر رہ گئے اور پیش گوئی كر دی كہ یہ بچہ سلطنت شعر كا بادشاہ بنے گا۔ وہ شعر یوں ہے <ref> رفعت عباس زیدی ۔ http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=670 </ref> ۔۔
كھلا باعث یہ اس بیداد كے آنسو نكلنے كا
دھواں لگتا ہے آنكھوں میں كسی كے دل كے جلنے كا
پیدائش
میر انیس کی پیدائش کے حوالے سے دو روایات موجود ہیں ایک جنوری 1802 کی اور دوسری1803 کی تاہم زیادہ تر محققین نے 1803 ہی کو درست قرار دیا ہے گویا ہر دو روایات کے پس منظر میں انیس دو سو سال سے آسمان ادب پر زوال سے نا آشنا ماہ کامل کی طرح رخشندہ ہیں۔
اساتذہ کی اراء
ابولکلام آزاد
ٰٰٰٰٰدنیائے ادب کو اردو ادب کی جانب سے میر انیس کے مرثئے اور مرزا غالب کی غزلیں تحفہ تصور کی جائیں۔ ادبیباتِ اُردو اور اُردو زبان کو قصرِ گمنامی سے نکال کر مراثئ انیس نے بین الاقوامی سطح پر پہنچا دیاٰٰٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰ
وفات
انیس کی تاریخ وفات پر تمام محققین کا اتفاق ہے اور انکی وفات 1874 میں بہتر تہتر برس کی عمر میں ہوئ۔ میر انیس اتر پردیش میں فیض آباد کے محلے گلاب باڑی میں پیدا ہوۓ اور اس وقت ہندوستان پر بادشاہ امجد علی شاہ کی حکومت تھی۔ انیس کے والد میر خلیق اور دادا میر حسن مثنوی سحر البیان اور بدر منیر کے خالق اپنے عہد کے معروف شعرا میں شمار ہوتے تھے اور انکے ہی مشورے پر انیس نے غزل گوئ کو خیرباد کہہ کر مرثیہ اور سلام لکھنا شروع کیا۔
تازہ مضمون نظم می فرمود ہر بحر شعر
چشمئہ چشمم شودہم چشمِ کوثر بے انیس
آسماں بے ماہِ کامل سدرہ بے رح الامین
طور سینا بے کلیم اُللہ ممبر بے انیس
کہا جاتا ہے مرزا دبیر نے میر کی وفات پر رو رو کر یہ اشعار برسر منبر پڑھے <ref> ظفر جعفری http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=670 </ref>