"عرش ملسیانی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م (Admin نے صفحہ عرش ملیسانی کو بجانب عرش ملسیانی منتقل کیا) |
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 15: | سطر 15: | ||
=== مجموعہ کلام === | === مجموعہ کلام === | ||
آہنگ | آہنگ حجاز، [[ 1952]] | ||
=== نمونہ کلام === | === نمونہ کلام === | ||
نسخہ بمطابق 17:58، 28 مارچ 2017ء
عرش ملیسانی بھی صاحب ِدیوان نعت گو شعرا میں سے ہیں۔آپ کی خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعہ مسلم ہندو کے مخلوط معاشرے میں مذہبی تعصب سے اوپر اٹھ کر باہمی محبت و یگانگت کو فروغ دیا۔آپ کی شاعری میں نبی کی ذات سے عقیدت و محبت دلی تڑپ اور خلوص کی چاہت پائی جاتی ہے۔جیسے
تیرے عمل کے درس سے گرم ہے خونِ ہر بشر
حسن نمود زندگی، رنگ رخ حیات نو <ref> (عرش ملیسانی،آہنگِ حجاز ص۶) </ref>
آپ کے بارے آراء
مولانا عبد الماجد دریا آبادی ‘ مشہور شاعر بال مکند عرش ملسیانی کی نعتیہ شاعری کے ضمن میں ہندو مسلم مخلوط معاشرے میں اس انداز کی شاعری سے نمایاں ہونے والی باہمی محبت و یگانگت کی فضا کے بارے میں فرماتے ہیں
’’قومی اور اجتماعی حیثیت سے وہ اس وقت بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں، ایک پل،اور ایک ربط کا کام دے رہے ہیں ،ملک کی دو بڑی قوتوں ،دو بڑی تہذیبوں ،دو بڑے مذہبوں کے درمیان ‘وہی خدمت جو ماضی قریب میں اس ملک کی دو محترم ہستیاں انجام دے چکی ہیں، ایک مسز سروجنی نائیڈو اور دوسرے سرکشن پرشاد شاد ؔ حیدر آبادی۔‘‘
مجموعہ کلام
آہنگ حجاز، 1952
نمونہ کلام
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
وفات
مزید دیکھیے
دلو رام کوثری | رانا بھگوان داس | فراق گورکھپوری | پنڈت ہر چند اختر | جگن ناتھ کمال کرتار پوری | کشن پرشاد