"دیارِ طیبہ میں دائم جو قربتیں ملتیں" کے نسخوں کے درمیان فرق
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 4: | سطر 4: | ||
==={{نعت }}=== | ==={{نعت }}=== | ||
(امامِ نعت گویاں امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی کے ایک مصرعِ اولیٰ پر طبع آزمائی) | (امامِ نعت گویاں امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی کے ایک مصرعِ اولیٰ پر طبع آزمائی) | ||
دیارِ طیبہ میں دائم جو قربتیں ملتیں | دیارِ طیبہ میں دائم جو قربتیں ملتیں | ||
بیان کر نہیں سکتا وہ لذتیں ملتیں | بیان کر نہیں سکتا وہ لذتیں ملتیں | ||
مرا وقار تو آقا کی نعت گوئی ہے | مرا وقار تو آقا کی نعت گوئی ہے | ||
جو نعت لکھتا نہیں تو، یہ رفعتیں ملتیں؟ | جو نعت لکھتا نہیں تو، یہ رفعتیں ملتیں؟ | ||
انھوں نے رتبہ بڑھایا بہت غلاموں کا | انھوں نے رتبہ بڑھایا بہت غلاموں کا | ||
نبیﷺ نہ آتے تو انساں کو عظمتیں ملتیں؟ | نبیﷺ نہ آتے تو انساں کو عظمتیں ملتیں؟ | ||
انھوں نے دخترِ حوّا کو مرتبہ بخشا | انھوں نے دخترِ حوّا کو مرتبہ بخشا | ||
نبیﷺ نہ آتے تو نسواں کو عصمتیں ملتیں؟ | نبیﷺ نہ آتے تو نسواں کو عصمتیں ملتیں؟ | ||
نبیﷺ نے ہم کو دیا ہے خدا نے جو بخشا | نبیﷺ نے ہم کو دیا ہے خدا نے جو بخشا | ||
اگر حضور نہ آتے تو نعمتیں ملتیں؟ | اگر حضور نہ آتے تو نعمتیں ملتیں؟ | ||
نبیﷺ کی سیرتِ اطہر پہ ہم اگر چلتے | نبیﷺ کی سیرتِ اطہر پہ ہم اگر چلتے | ||
ہمیں دوبارہ وہ ماضی کی عزتیں ملتیں | ہمیں دوبارہ وہ ماضی کی عزتیں ملتیں | ||
جو دل سے اُن کے فرامین پر عمل کرتے | جو دل سے اُن کے فرامین پر عمل کرتے | ||
تو علم و فضل کی ہم کو بھی وسعتیں ملتیں | تو علم و فضل کی ہم کو بھی وسعتیں ملتیں | ||
جو پڑھتے رہتے دُرود ان پہ صدق دل سے ہم | جو پڑھتے رہتے دُرود ان پہ صدق دل سے ہم | ||
ہمارے رزق میں لاریب برکتیں ملتیں | ہمارے رزق میں لاریب برکتیں ملتیں | ||
وسیلہ آپ کا جو مشکلات میں دیتے | وسیلہ آپ کا جو مشکلات میں دیتے | ||
قسم خدا کی ہمیں رب کی نصرتیں ملتیں | قسم خدا کی ہمیں رب کی نصرتیں ملتیں | ||
بقیعِ پاک میں مدفن ہمارا بن جاتا | بقیعِ پاک میں مدفن ہمارا بن جاتا | ||
عطاے رب سے ہمیں بھی تو جنتیں ملتیں | عطاے رب سے ہمیں بھی تو جنتیں ملتیں | ||
پڑا ہی رہتا مُشاہد نبیﷺ کے قدموں میں | پڑا ہی رہتا مُشاہد نبیﷺ کے قدموں میں | ||
| سطر 51: | سطر 63: | ||
"کنارِ خاکِ مدینہ میں راحتیں ملتیں" | "کنارِ خاکِ مدینہ میں راحتیں ملتیں" | ||
=== مزید دیکھیے === | === مزید دیکھیے === | ||
* [[امین آپ امانت کی آبرو بھی آپ۔ مشاہد رضوی| امین آپ امانت کی آبرو بھی آپ ]] | [[ مشاہد رضوی ]] | | * [[امین آپ امانت کی آبرو بھی آپ۔ مشاہد رضوی| امین آپ امانت کی آبرو بھی آپ ]] | [[ مشاہد رضوی ]] | | ||
نسخہ بمطابق 18:24، 17 اکتوبر 2017ء
شاعر: مشاہد رضوی
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(امامِ نعت گویاں امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی کے ایک مصرعِ اولیٰ پر طبع آزمائی)
دیارِ طیبہ میں دائم جو قربتیں ملتیں
بیان کر نہیں سکتا وہ لذتیں ملتیں
مرا وقار تو آقا کی نعت گوئی ہے
جو نعت لکھتا نہیں تو، یہ رفعتیں ملتیں؟
انھوں نے رتبہ بڑھایا بہت غلاموں کا
نبیﷺ نہ آتے تو انساں کو عظمتیں ملتیں؟
انھوں نے دخترِ حوّا کو مرتبہ بخشا
نبیﷺ نہ آتے تو نسواں کو عصمتیں ملتیں؟
نبیﷺ نے ہم کو دیا ہے خدا نے جو بخشا
اگر حضور نہ آتے تو نعمتیں ملتیں؟
نبیﷺ کی سیرتِ اطہر پہ ہم اگر چلتے
ہمیں دوبارہ وہ ماضی کی عزتیں ملتیں
جو دل سے اُن کے فرامین پر عمل کرتے
تو علم و فضل کی ہم کو بھی وسعتیں ملتیں
جو پڑھتے رہتے دُرود ان پہ صدق دل سے ہم
ہمارے رزق میں لاریب برکتیں ملتیں
وسیلہ آپ کا جو مشکلات میں دیتے
قسم خدا کی ہمیں رب کی نصرتیں ملتیں
بقیعِ پاک میں مدفن ہمارا بن جاتا
عطاے رب سے ہمیں بھی تو جنتیں ملتیں
پڑا ہی رہتا مُشاہد نبیﷺ کے قدموں میں
"کنارِ خاکِ مدینہ میں راحتیں ملتیں"