"قندیل حرا ۔ تنویر پھول" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 19: سطر 19:


کیسے چھوڑے گا  آخرت میں  وہ  ؟ ۔    جو  یہاں  بھی خیال رکھتا    ہے
کیسے چھوڑے گا  آخرت میں  وہ  ؟ ۔    جو  یہاں  بھی خیال رکھتا    ہے
تنویرپھول کی ایک اور حمد یہاں ملاحظہ کیجئے [[http://www.naatkainaat.org/index.php?title=%DB%81%DB%92_%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%D8%A7%DA%BA_%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C_%D9%84%D8%B9%D9%84_%D9%88_%DA%AF%DB%81%D8%B1_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%DB%94_%D8%AA%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%B1_%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84]]





نسخہ بمطابق 01:35، 9 اکتوبر 2017ء


قندیل حرا معروف شاعر شاعر تنویر پھول کا نعتیہ مجموعہ ہے جو ۱۶۰ صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس سے پہلے ان کا حمد و نعت و منقبت کا مجموعہ انوار حرا جو ۳۰۴ صفحات پر مشتمل تھا، منظر عام پر آچکا ہے ۔ قندیل حرا جہان حمد پبلی کیشنز کے زیر اہتمام 2003 ء میں شائع ہوا جبکہ انوار حرا ، حرا فاونڈیشن پاکستان نے 1997ء میں شائع کیا تھا ۔ قندیل حرا میں تنویر پھول نے ۹۲ نعتیں شامل کی ہیں جو بحساب ابجد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسم مبارک محمد کی عددی قیمت کے برابر ہیں ۔ شروع میں اسم ذات اللہ کے عدد کے مطابق 66 اشعار پر مشتمل ایک حمد بھی اس مجموعے میں شامل ہے جس کے چند اشعار یہ ہیں :


پاک مولا ہے ، سب سے اعلیٰ ہے ۔ حمد اللہ کا قصیدہ ہے

بندگی کا یہ اِک طریقہ ہے ۔ حمد ساری اُسی کو زیبا ہے

مصلحت اُس کی کوئی کیا سمجھے ۔ توسنِ فہم پا شکستہ ہے

اُس کی تعریف کی نہیں طاقت ۔ طائر فکر پر بریدہ ہے

سورہ ء نصر نے کہا ہم سے ۔ حمد کرنا بھی اِک فریضہ ہے

اُس کو چاہو ، وہ چاہتا ہے تمھیں ۔ غور کرنے کی دوستو ، جا ہے

کیسے چھوڑے گا آخرت میں وہ ؟ ۔ جو یہاں بھی خیال رکھتا ہے

تنویرپھول کی ایک اور حمد یہاں ملاحظہ کیجئے [[1]]


اس مجموعے اور شاعر کے بارے میں ڈاکٹر جمیل عظیم آبادی اور طاہر سلطانی نے بصورت تقاریظ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔

قندیل حرا میں شامل ایک نعت ملاحظہ کیجئے :


مدینے کی زمیں روشن ، وہاں کا آسماں روشن ۔ ہیں طیبہ میں شہ بطحا کے قدموں کے نشاں روشن

دیارِ نور و نکہت میں شہِ والا کے جلوے ہیں ۔ ہُوا انوار ِ طیبہ سے مِرے دل کا مکاں روشن

ہر اِک ظلمت مٹی ہے فیض سے نورِ مجسم کے ۔ سنہری جالیوں پر ہو گئے ہیں قلب و جاں روشن

ندھیرا ہی اندھیرا تھا یہاں شرک و ضلالت کا ۔ سراپا نور جب آئے ، ہُوا اُن سے جہاں روشن

یقینا فیض تھا یہ عشق ِ سرکار ِ دوعالم کا ۔ ہوئی لحن ِ بلالی سے مدینے کی اذاں روشن

ضیا نورالہدیٰ کی چاند میں،سورج میں ، تاروں میں۔ ہوئی ہے گردِ نعلینِ نبی سے کہکشاں روشن

سخن ہے پھول کا روشن ثنائے شاہ ِ طیبہ سے ۔ بفیض ِ مدحت ِ سرکار ہے اس کا بیاں روشن

"قندیل حرا" میں شامل ایک اور نعت جو ریڈیو البنی،نیویارک سے نشر کی گئی [کلام شاعر بزبان شاعر]اس لنک پر سماعت فرمائیے:
 https://archive.org/details/NaatAlbanyRadioNewYork

مزید دیکھیے

تنویر پھول | انوار حرا | قندیل حرا | زبور سخن | ارحم الراحمین | دیگر مجموعہ ہائے نعت