"میر انیس" کے نسخوں کے درمیان فرق
نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 5: | سطر 5: | ||
دھواں لگتا ہے آنكھوں میں كسی كے دل كے جلنے كا | دھواں لگتا ہے آنكھوں میں كسی كے دل كے جلنے كا | ||
=== وفات === | |||
تازہ مضمون نظم می فرمود ہر بحر شعر | |||
چشمئہ چشمم شودہم چشمِ کوثر بے انیس | |||
آسماں بے ماہِ کامل سدرہ بے رح الامین | |||
طور سینا بے کلیم اُللہ ممبر بے انیس | |||
کہا جاتا ہے [[ مرزا دبیر ]] نے میر کی وفات پر رو رو کر یہ اشعار برسر منبر پڑھے <ref> ظفر جعفری http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=670 </ref> | |||
=== حواشی و حوالہ جات === | === حواشی و حوالہ جات === | ||
نسخہ بمطابق 10:01، 31 دسمبر 2016ء
میر انیس نے اپنا پہلا شعر آٹھ سال كی عمر میں اپنے والد كے دوست معروف شاعر ناسخ كے سامنے سنایا جس پر ناسخ ششدر رہ گئے اور پیش گوئی كر دی كہ یہ بچہ سلطنت شعر كا بادشاہ بنے گا۔ وہ شعر یوں ہے <ref> رفعت عباس زیدی ۔ http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=670 </ref> ۔۔
كھلا باعث یہ اس بیداد كے آنسو نكلنے كا
دھواں لگتا ہے آنكھوں میں كسی كے دل كے جلنے كا
وفات
تازہ مضمون نظم می فرمود ہر بحر شعر
چشمئہ چشمم شودہم چشمِ کوثر بے انیس
آسماں بے ماہِ کامل سدرہ بے رح الامین
طور سینا بے کلیم اُللہ ممبر بے انیس
کہا جاتا ہے مرزا دبیر نے میر کی وفات پر رو رو کر یہ اشعار برسر منبر پڑھے <ref> ظفر جعفری http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=670 </ref>