"شفیع اوکاڑوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 3: سطر 3:




پاکستان کے نقیب اول "[[شہر یار قدوسی]] " بلبل بستان ِ رضا کا خطاب پانے [[سعید ہاشمی]] پر گفتگو فرماتے ہوئے 1960 کی دہائی بارے فرماتے ہیں   
پاکستان کے نقیب اول "[[شہر یار قدوسی]] " بلبل بستان ِ رضا کا خطاب پانے والے  [[سعید ہاشمی]] کی [[ نعت خوانی ]] کے حوالے سے  [[1960]] کی دہائی بارے فرماتے ہیں   


" یہ وہ دور تھا جب خطیب پاکستان علامہ محمد شفیع اکاڑوی  رحمتہ اللہ علیہ نے نعت ِ سرورِ کونین کے ذریعے عوام الناس  کے قلوب  میں عشق ِ رسالت کا جذبہ بیدار کرنے کا عزم کر رکھا تھا ۔ ا ور اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں فروغ ِ نعت کا اولین سہرا عاشق رسول ، خطیب پاکستان کے سر ہے جن کا مرتب کردہ نعتیہ کلام "نغمہ حبیب" کے نام سے اس دور میں چار آنے  میں مل جایا کرتا تھا "
" یہ وہ دور تھا جب خطیب پاکستان علامہ محمد شفیع اکاڑوی  رحمتہ اللہ علیہ نے نعت ِ سرورِ کونین کے ذریعے عوام الناس  کے قلوب  میں عشق ِ رسالت کا جذبہ بیدار کرنے کا عزم کر رکھا تھا ۔ ا ور اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں فروغ ِ نعت کا اولین سہرا عاشق رسول ، خطیب پاکستان کے سر ہے جن کا مرتب کردہ نعتیہ کلام "نغمہ حبیب" کے نام سے اس دور میں چار آنے  میں مل جایا کرتا تھا "

نسخہ بمطابق 11:45، 27 جولائی 2017ء



پاکستان کے نقیب اول "شہر یار قدوسی " بلبل بستان ِ رضا کا خطاب پانے والے سعید ہاشمی کی نعت خوانی کے حوالے سے 1960 کی دہائی بارے فرماتے ہیں

" یہ وہ دور تھا جب خطیب پاکستان علامہ محمد شفیع اکاڑوی رحمتہ اللہ علیہ نے نعت ِ سرورِ کونین کے ذریعے عوام الناس کے قلوب میں عشق ِ رسالت کا جذبہ بیدار کرنے کا عزم کر رکھا تھا ۔ ا ور اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں فروغ ِ نعت کا اولین سہرا عاشق رسول ، خطیب پاکستان کے سر ہے جن کا مرتب کردہ نعتیہ کلام "نغمہ حبیب" کے نام سے اس دور میں چار آنے میں مل جایا کرتا تھا "

نمونہ کلام

اللہ اللہ اللہ ہو لا الہ الا ہو

شراکتیں

صارف:تیمورصدیقی