"منصور آفاق" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 53: سطر 53:


آگ سینے میں محبت کی دبی کیسے ہو
آگ سینے میں محبت کی دبی کیسے ہو


مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادو گری پر ہے
مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادو گری پر ہے
تری توصیف اک احسان مری شاعری پر ہے
تری توصیف اک احسان مری شاعری پر ہے


ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہے
ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہے
تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری پر ہے
تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری پر ہے


تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا
تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا
ترا عرفان طنزِ مستقل دانشوری پر ہے
ترا عرفان طنزِ مستقل دانشوری پر ہے


سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے
سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے
  خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے
  خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے


صلائے عام ہے وہ نبضِ ہستی تھام لے آکر
صلائے عام ہے وہ نبضِ ہستی تھام لے آکر
جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے
جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے


مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور
مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور
کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے
کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے


جب مجھے حسنِ التماس ملا
جب مجھے حسنِ التماس ملا
تیرا فیضان بے قیاس ملا
تیرا فیضان بے قیاس ملا


تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی
تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی
جب کہیں کوئی بھی اداس ملا
جب کہیں کوئی بھی اداس ملا


جب بھی کعبہ ڈھونڈنا چاہا
جب بھی کعبہ ڈھونڈنا چاہا
تیرے قدموں کے آس پاس ملا
تیرے قدموں کے آس پاس ملا


تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے
تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے
بس وہی مرتبہ شناس ملا
بس وہی مرتبہ شناس ملا


یوں بدن میں سلام لہرایا
یوں بدن میں سلام لہرایا
جیسے کوثر کا اک گلاس ملا
جیسے کوثر کا اک گلاس ملا


سطر 94: سطر 106:


چاند اُلجھا ہے کھجوروں کی گھنی شاخوں میں
چاند اُلجھا ہے کھجوروں کی گھنی شاخوں میں
چاندنی جھولتے سایوں میں بھٹک جاتی ہے
چاندنی جھولتے سایوں میں بھٹک جاتی ہے


جیسے بلور کی ٹوٹی ہوئی رنگیں چوڑی!
جیسے بلور کی ٹوٹی ہوئی رنگیں چوڑی!
گیسوئے یار کے پیچوں میں اٹک جاتی ہے
گیسوئے یار کے پیچوں میں اٹک جاتی ہے




رات ڈھلکائے ستارں سے مُرصع آنچل
رات ڈھلکائے ستارں سے مُرصع آنچل
کھولے بیٹھی ہے جنوں بخش سی شہلا آنکھیں
کھولے بیٹھی ہے جنوں بخش سی شہلا آنکھیں


اور ہر سانس سے انسان کو صدا دیتی ہے
اور ہر سانس سے انسان کو صدا دیتی ہے
آ میری گود میں آ نیند سے بہلا آنکھیں
آ میری گود میں آ نیند سے بہلا آنکھیں




ہو چکی ختم وہ تقریبِ حیا سوزِعکاظ
ہو چکی ختم وہ تقریبِ حیا سوزِعکاظ
سوچکے جام بجھے آتشِ سیال کے خم
سوچکے جام بجھے آتشِ سیال کے خم


رقص ابلیس کا نا پاک تسلسل ٹوٹا
رقص ابلیس کا نا پاک تسلسل ٹوٹا
ارضِ کعبہ ہے مگر ایک عجب سوچ میں گم
ارضِ کعبہ ہے مگر ایک عجب سوچ میں گم




میری تقدیس کی تاریخ کہاں کھو گئی
میری تقدیس کی تاریخ کہاں کھو گئی
میری تقدیر میں صدیوں سے ہیں شیطان کے جلوس
میری تقدیر میں صدیوں سے ہیں شیطان کے جلوس


میری آغوش ہے ملعون بتوں سے بوجھل!
میری آغوش ہے ملعون بتوں سے بوجھل!
ربِ کعبہ کبھی تو نے بھی کیا ہے محسوس
ربِ کعبہ کبھی تو نے بھی کیا ہے محسوس




اور اسی وقت ادھر غارِحرا میں کوئی
اور اسی وقت ادھر غارِحرا میں کوئی
ہے اسی فکر میں انسان کو ملے کیسے نجات
ہے اسی فکر میں انسان کو ملے کیسے نجات


جس کی قسمت میں ادھر قیصر و کسر یٰ کا عذاب
جس کی قسمت میں ادھر قیصر و کسر یٰ کا عذاب
اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں اِدھر لات و منات
اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں اِدھر لات و منات




جب بھی بجتی ہے کوئی درد کی زنجیر کہیں
جب بھی بجتی ہے کوئی درد کی زنجیر کہیں
دلِ احمد میں بھی طوفان دھڑک اُٹھتے ہیں
دلِ احمد میں بھی طوفان دھڑک اُٹھتے ہیں


زندہ درگور جو ہو جاتی ہے کوئی بچی!
زندہ درگور جو ہو جاتی ہے کوئی بچی!
اسکے ہر انگ میں شعلے سے بھڑک اٹھتے ہیں
اسکے ہر انگ میں شعلے سے بھڑک اٹھتے ہیں




پھر محمدؐ کے خدا نے کوئی تاخیر نہ کی
پھر محمدؐ کے خدا نے کوئی تاخیر نہ کی
سو گئی رات شفق تاب سویرے آئے
سو گئی رات شفق تاب سویرے آئے


پھر بہاروں کی جبیں آ کے زمیں بوس ہوئی
پھر بہاروں کی جبیں آ کے زمیں بوس ہوئی
صحنِ کعبہ میں وہ زلفوں کو بکھیرے آئے
صحنِ کعبہ میں وہ زلفوں کو بکھیرے آئے

نسخہ بمطابق 12:04، 30 دسمبر 2016ء

منصور آفاق کے بارے محمد اشفاق چغتائی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

"نعت اگر رسمانہ لکھی گئی ہو بلکہ کسی باطنی کر ب کے اظہار کا ذریعہ کر سامنے آئے تو پڑھنے والے پر ایک جداتاثر چھوڑتی ہے۔ ایسی نعت داغ محبت رکھنے والے ہر دل کو وہی کیفیت عطا کرتی ہے جو اس کے خالق پر لمحات تخلیق میں طاری ہوتی ہے۔ محمد منصور آفاق کی نعتیں اس کے طواف عقیدت کا سلسلہ جمیل ہیں۔ تحدیثِ نعمت کا دلکش اسلوب ہیں ۔ سنت اللہ کا حسین اتباع ہیں ۔ اپنی احتیاج وضرورت کا خوبصورت اظہار ہیں اور اس کے ساتھ عصر حاضر کی اذیت رسانیوں کے خلاف بارگاہ رسالت مآب میں استغاثہ ہیں۔ یہی میری نگاہ میں اس کتاب کی نمایاں ترین خصوصیت ہے ۔آفاق نمادنیائے شعر و ادب میں منصور آفاق کی اولین پہچان بن کر آرہی ہے۔ میری دعاہے کہ رب کریم اسی نسبت کواس کی دائمی پہچان بنادے ۔ امین ثم امین

حالات زندگی

مجموعہ ہائے کلام

نمونہ کلام

نعت ِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


نور بہتا ہو جہا ں تشنہ لبی کیسے ہو

آپ کے ہوتے ہوئے تیرہ شبی کیسے ہو


آپ کا دورِ بنوت تو قیامت تک ہے

آپ کے بعد بھلا کوئی نبی کیسے ہو


آسمانوں پہ کہیں ذاتِ الہی کے بعد

جو ہمیشہ سےچمکتا ہو کبھی کیسے ہو


کیسی تخمین ِ خرد، کوئی بجز اللہ کے

مرتبہ دانِ رسولِ عربی کیسے ہو


عمر گزری ہے اِسی خواہشِ نم دیدہ میں

ان کے دربار میں اپنی طلبی کیسے ہو


بے اجازت میں چلا جائوں درِ اقدس پر

حالت ِ ہوش میں یہ بے ادبی کیسے ہو


میں گنہگار ،سیہ کار مدنیے جائوں

مجھ سے ایسی کوئی بھی بوالعجبی کیسے ہو


پھیل جانا ہے اسے کوہِ نداتک منصور

آگ سینے میں محبت کی دبی کیسے ہو


مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادو گری پر ہے

تری توصیف اک احسان مری شاعری پر ہے

ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہے

تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری پر ہے

تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا

ترا عرفان طنزِ مستقل دانشوری پر ہے

سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے

خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے

صلائے عام ہے وہ نبضِ ہستی تھام لے آکر

جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے

مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور

کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے

جب مجھے حسنِ التماس ملا

تیرا فیضان بے قیاس ملا

تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی

جب کہیں کوئی بھی اداس ملا

جب بھی کعبہ ڈھونڈنا چاہا

تیرے قدموں کے آس پاس ملا

تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے

بس وہی مرتبہ شناس ملا

یوں بدن میں سلام لہرایا

جیسے کوثر کا اک گلاس ملا

تجھ سے وہ صبح جاوداں آئی مجھ کو بھی نور کا لباس ملا

سویرا


چاند اُلجھا ہے کھجوروں کی گھنی شاخوں میں

چاندنی جھولتے سایوں میں بھٹک جاتی ہے

جیسے بلور کی ٹوٹی ہوئی رنگیں چوڑی!

گیسوئے یار کے پیچوں میں اٹک جاتی ہے


رات ڈھلکائے ستارں سے مُرصع آنچل

کھولے بیٹھی ہے جنوں بخش سی شہلا آنکھیں

اور ہر سانس سے انسان کو صدا دیتی ہے

آ میری گود میں آ نیند سے بہلا آنکھیں


ہو چکی ختم وہ تقریبِ حیا سوزِعکاظ

سوچکے جام بجھے آتشِ سیال کے خم

رقص ابلیس کا نا پاک تسلسل ٹوٹا

ارضِ کعبہ ہے مگر ایک عجب سوچ میں گم


میری تقدیس کی تاریخ کہاں کھو گئی

میری تقدیر میں صدیوں سے ہیں شیطان کے جلوس

میری آغوش ہے ملعون بتوں سے بوجھل!

ربِ کعبہ کبھی تو نے بھی کیا ہے محسوس


اور اسی وقت ادھر غارِحرا میں کوئی

ہے اسی فکر میں انسان کو ملے کیسے نجات

جس کی قسمت میں ادھر قیصر و کسر یٰ کا عذاب

اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں اِدھر لات و منات


جب بھی بجتی ہے کوئی درد کی زنجیر کہیں

دلِ احمد میں بھی طوفان دھڑک اُٹھتے ہیں

زندہ درگور جو ہو جاتی ہے کوئی بچی!

اسکے ہر انگ میں شعلے سے بھڑک اٹھتے ہیں


پھر محمدؐ کے خدا نے کوئی تاخیر نہ کی

سو گئی رات شفق تاب سویرے آئے

پھر بہاروں کی جبیں آ کے زمیں بوس ہوئی

صحنِ کعبہ میں وہ زلفوں کو بکھیرے آئے