"سرمایہء حیات۔ سید وحید القادری عارف" کے نسخوں کے درمیان فرق
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 48: | سطر 48: | ||
===== ڈاکٹر توفیق انصاری احمد ===== | ===== ڈاکٹر توفیق انصاری احمد ===== | ||
جنابِ وحید قادری عارفؔ اپنے والدِ محترم حضرت العلامہ ابو الفضل سید محمود قادری ؒ کے فرزندِ دلبند ہیں جن کی عربی' اُردو اور فارسی تعلیم و تربیت پر حضرت ؒ کی نگاہِ خاص رہی اور حضرت ؒ نے اپنی زندگی میں ہی اپنا علمی جانشین پیدا فرمادیا تھا۔ [[نعتِ نبیﷺ کا نعت گو عارف ۔ ڈاکٹر توفیق انصاری احمد | مزید دیکھیے ]] | جنابِ وحید قادری عارفؔ اپنے والدِ محترم حضرت العلامہ ابو الفضل سید محمود قادری ؒ کے فرزندِ دلبند ہیں جن کی عربی' اُردو اور فارسی تعلیم و تربیت پر حضرت ؒ کی نگاہِ خاص رہی اور حضرت ؒ نے اپنی زندگی میں ہی اپنا علمی جانشین پیدا فرمادیا تھا۔ | ||
[[نعتِ نبیﷺ کا نعت گو عارف ۔ ڈاکٹر توفیق انصاری احمد | مزید دیکھیے ]] | |||
===== ڈاکٹر مشاہد رضوی ===== | ===== ڈاکٹر مشاہد رضوی ===== | ||
نسخہ بمطابق 19:57، 9 جولائی 2017ء
’’سرمایہء حیات‘‘ سید وحید القادری عارفؔ کے منتخب نعتیہ کلام کا مجموعہ ہے جو سن2014ء میں حیدرآباد دکن سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ’’نقد و نظر‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں نعت اور احمد علی برقی کی شاعری کے حوالے سے مختلف دانشوروں کے مضامین شامل ہیں جبکہ دوسرا حصہ ’’نعتیہ کلام‘‘ پر محتوی ہے۔سرِ ورق دیدہ زیب ہے جبکہ کتاب کی پشت پر جناب ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کے حسبِ ذیل منظوم تاثرات درج ہیں۔
ڈاکٹر احمد علی برقی کے منظوم تا اثرات
’’سرمایہء حیات‘‘ ہے تخلیق شاہکار
اس کو جہانِ علم میں حاصل ہو اعتبار
ُحُبِّ نبی نمایاں ہے ہر ایک شعر سے
عارفؔ کا حُسنِ فکر سبھی پر ہے آشکار
اک قادر الکلام سخنور ہیں آج وہ
اُن کی نگارشات ادب میں ہیں باوقار
اردو ادب کو اُن پہ ہمیشہ رہے گا ناز
ہے جوہرِ سخن سے عیاں دُرِّ شاہوار
حاصل انہیں عبور ہے علمِ عروض پر
اردو ادب میں ہیں وہ روایت کے پاسدار
برقی شعورِ فکر کا اُن کے ہے قدرداں
’’سرمایہء حیات‘‘ ہو یہ فخرِ روزگار
کتاب کی جیکٹ کے اندرونی حصہ پر کتاب میں شامل مضامین سے بعض اقتباسات تحریر کئے گئے ہیں جن سے جنابِ عارفؔ کی نعتیہ شاعری پر مختصر ضوفشانی ہوتی ہے:
احباب کی آراء سے اقتباسات
ڈاکٹر توفیق انصاری احمد
جنابِ وحید قادری عارفؔ اپنے والدِ محترم حضرت العلامہ ابو الفضل سید محمود قادری ؒ کے فرزندِ دلبند ہیں جن کی عربی' اُردو اور فارسی تعلیم و تربیت پر حضرت ؒ کی نگاہِ خاص رہی اور حضرت ؒ نے اپنی زندگی میں ہی اپنا علمی جانشین پیدا فرمادیا تھا۔
ڈاکٹر مشاہد رضوی
حضرت سید وحید القادری صاحب کی نعت گوئی روایتی نعت نگاری کے اسلوب کے ساتھ ساتھ جدّت و ندرت کی آئینہ دار ہے۔ جس کے سبب آپ کے کلام میں تازگی و طرفگی کے گلہائے رنگارنگ قاری و سامع کو براہِ راست متاثر کرنے میں مکمل طور پر کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر احمد اللہ خان
جناب ابو الحسین سید وحید القادری عارفؔ صاحب اُن چند لوگوں میں شامل ہیں جن کو نہ صرف فنِ شعرگوئی کا شعور ہے بلکہ اس فن کی اعلیٰ صنف یعنی نعت گوئی کا سلیقہ بھی آتا ہے۔
عزیز بلگامی
نعتِ نبی کے حوالہ سے اپنے قاری کو عقیدت کے دائرے سے نکال کر اطاعت کے دائرے میں لانے کے لئے عارفؔ بھائی نے شعوری اور دانستہ کوشش کی ہے۔ ان کی ہر نعت پر یہ احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے ہماری فرمائش پر نعت تخلیق فرمائی ہے اور وہ اپنی تازہ نعت سناتے ہیں تو ہم واقعتاً جھوم اُٹھتے ہیں۔
غلام ربّانی فدا
سید وحید القادری عارفؔ کی نعتیہ فکر سُتھرا اسلوبِ بیان رکھتی ہے۔ اُن کے ذخیرہء علم میں دین اور ادبِ اُردو اور فارسی و عربی دونوں کی رونقیں یکجا ہیں۔ اس لئے اُن کے اسلوب و اظہار میں دونوں کے انعکاسات ملتے ہیں۔ وہ جہاں عربی و فارسی کے الفاظ اور ترکیبیں استعمال کرتے ہیں وہیں اودھ اور دلّی کی شستگی سے بھی اُن کا لسانی انسلاک نظر آتا ہے۔ ثقیل اور بھاری بھرکم الفاظ کے ساتھ عام فہم اور رواں بول چال کے آسان الفاط بھی ان سے مانوس نظر آتے ہیں۔
سید افتخار حیدر
محترم جناب سید وحید القادری عارفؔ صاحب کا کلام چاہے وہ حمد ہو نعت ہو منقبت و سلام ہو یا غزل ہو ہر آن عرفان و آگہی کا درس ہوتا ہے۔ خصوصاً جب نعت و منقبت اور سلام کہنے کی جسارت فرمائیں تو ایسے جیسے نور السمٰواتِ و الارض ایک سراجاً منیرا میں سمٹ آیا ہے اور آپ اس کا پروانہ وار طواف فرما رہے ہیں اور مجال نہیں جو پاسِ ادب ہاتھ سے نکلنے پائے۔
ابو الفضل سید احمد اعزار
سدا بہار لڑیوں میں سے ایک لڑی یا ایک پھول پسند کر کے علٰحدہ کرنا ہر کسی کے لئے مشکل کام ہے۔ موصوف کی باغبانی سے تیار شدہ گل ہائے صد رنگِ چمنِ نعت کی ایک پتّی پر نظر جمایئے اور لامحالہ اسے پسند کرنے کا شرف حاصل کیجئے ۔۔پھر دوسری پتّی پر۔ کتنی دیر تک؟ جب تک آپ میں طاقت و ہمت ہے۔