"شان نبی منشی پیارے لال صاحب رونق دہلوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
سطر 74: سطر 74:




===  کلام رونق ===
=== مجموعہ ہائے کلام ===
 
 


کلام رونق


=== مزید دیکھیے ===
=== مزید دیکھیے ===


[[رونق دہلوی ]]
[[رونق دہلوی ]]

نسخہ بمطابق 13:47، 15 اپريل 2017ء


شاعر: پیارے لال صاحب رونق دہلوی

شان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ستارہ اوج پر کیونکر نہ ہو شان نبوت کا

فلک منظر ہے رتبہ تیرے احکام شریعت کا

کھلا تجھ سے جہاں میں راز سربستہ حقیقت کا

دکھایا حسن کثرت میں ہے جلوہ راز وحدت کا

نہ تجھ سا پیشوائے دیں اگر پیدا یہاں ہوتا

نہ بنیاد زمیں ہوتی نہ قائم آسماں ہوتا


جہاں میں تو نے چمکایا ہے وہ آئینہ قرآں کا

کہ جس سے ہر طرف پھیلا ہوا ہے نور ایماں کا

ضیاءدیں ہے بہر چشم عالم باب عرفاں کا

دلوں میں تو نے جلوہ بھر دیا توحید یزداں کا

جلائی بزم امکاں میں وہ مشعل حق پرستی کی

ہوئی روشن حقیقت جس سے تیری پاک ہستی کی


تجھے ختم الرسل کہتے ہیں شاہ انبیاء تو ہے

جناب سرور عالم محمد مصطفی تو ہے

یہ حق ہے نائب حق ہے حبیب کبریاء تو ہے

ہمارا ہیشوائے دیں ہمارا راہنما تو ہے

ہوئی ہے دم قدم سے تیرے مذہب کی فراوانی

تجھی سے ہے یہاں قائم یہ بنیاد مسلمانی


نہ ہوتا کیوں زمانہ معتقد تیری رسالت کا

چلایا ہر طرف تو نے یہاں سکہ شریعت کا

ہوا عالم ہر اک لے کر سبق قرآں کی آیت کا

چلن ہر سو ہوا تجھ سے عبادت کا ریاضت کا

جبھی تجھ کو شفیع دو جہاں حق نے بنایا ہے

کلام پاک میں نام محمد صاف آیا ہے


حقیقت میں مطیع حکم ہے سارا جہاں تیرا

تسلط ہے دوعالم میں یہاں تیرا وہاں تیرا

زمیں پر بھی ہے گھر تیرا فلک پر بھی مکاں تیرا

نشان حق سے ملتا ہے ہر اک جا پر نشاں تیرا

دل رونق نے ڈھونڈا جس طرف تجھ کو ادھر پایا

یہاں بھی جلوہ گر پایا، وہاں بھی جلوہ گر پایا


مجموعہ ہائے کلام

کلام رونق

مزید دیکھیے

رونق دہلوی