"تبادلۂ خیال:پہلی قومی ادبی نعت کانفرنس 2022" کے نسخوں کے درمیان فرق
| سطر 694: | سطر 694: | ||
__________ | __________ | ||
====علی | ====علی کسور خلیق (اسلام آباد):==== | ||
سرفرازی ہے دو عالم میں منافع میرا | سرفرازی ہے دو عالم میں منافع میرا | ||
عشقِ سرکارِ دو عالم مِرا سرمایا ہے | عشقِ سرکارِ دو عالم مِرا سرمایا ہے | ||
| سطر 700: | سطر 700: | ||
پر محمدؐ پہ تو اللہ کا دل آیا ہے | پر محمدؐ پہ تو اللہ کا دل آیا ہے | ||
__________ | __________ | ||
====فائق ترابی (اٹک):==== | ====فائق ترابی (اٹک):==== | ||
میری مٹی سے کوئی دیپ بنایا جاتا | میری مٹی سے کوئی دیپ بنایا جاتا | ||
نسخہ بمطابق 05:26، 1 اگست 2019ء
تحسین فراقی (صدرِ مشاعرہ):
آنکھ کا روزن بند کریں اور دل کا دریچہ باز کریں
یادِ نبیؐ میں آؤ ہم بھی نعتِ نبیؐ آغاز کریں
پلکوں پر اشکوں کو سجا کر چھیڑیں راگ جدائی کا
دل کی لحظہ لحظہ دھڑکن کو اُن کا ہم راز کریں
سید ریاض حسین زیدی (ادب سرائے ساہیوال):
آداب ، حوصلے سبھی جینے کے آگئے
جس کی نظر میں رستے مدینے کے آگئے
دامانِ تار تار سے کیا دل گرفتگی
دل کو ہنر جو چاک کو سینے سے آگئے
وجدان ، دل ، شعور ، مقدر مہک اُٹھا
خوش بو بھرے خیال پسینے میں آگئے __________
رفیع الدین ذکی قریشی (لاہور):
آئے حبیبِ ربِ اکبر جاگ اُٹھا دنیا کا مقدر، صلی اللہ علیہ وسلّم
سمٹا سمٹا شب کا اندھیرا پھیلا پھیلا صبح کا منظر ، صلی اللہ علیہ وسلّم
یہ احترام کا دیکھا اثر مدینے میں
جھکی جھکی سی تھی ہر اک نظر مدینے میں
اُدھر اُدھر سے مہک آئی اُن کی زُلفوں کی
جِدھر جِدھر سے کیا تھا سفر مدینے میں
صدف چنگیزی (کوئٹہ):
روتے روتے کبھی احوال سنانا دل کا
رُکتے رُکتے کسی قابو میں نہ آنا دل کا
المدد میرے آقاؐ کہ دعا دوں اُن کو
آج پھر زخم اُبھر آیا ہے پرانا دل کا
ہچکیاں لینے سے زرخیز ہوئی دل کی زمیں
اب تو چھلکا ہُوا رہتا ہے خزانہ دل کا
پروفیسر عباس مرزا: =
آپؐ کو ہوگا عطا جوں ہی مقامِ محمود
پھر تو آئے گا مزا روزِ جزا دیکھنے کا
__________
میں ہوں پنجابی سو برکت کی خدائی چھوڑ کر
آپ نے سکھلایا تو مجھ میں خدا شامل ہُوا
__________
تبسّم مقصود کاظمی (دبئی):
ظُہورِ فخرِ مشیّت حُضور ﷺکے شَفَتَین حسیں کرشمۂ قدرت حُضور ﷺکے شَفَتَین
زبان ذاکرِ حُسنِ تلاوتِ توحید ہیں رحلِ مُصحفِ مدحت حضور ﷺکے شَفَتَین
اگر حضورﷺ کے دندان موتیوں سے حسیں صدف کا حُسنِ رعایت حُضور ﷺکے شَفَتَین
عُمر(رضي ) نے چُوما تھا یہ کہہ کے سنگِ اسود کو بڑھا گئے تری عظمت حُضور ﷺکے شَفَتَین
جمالِ لعلِ بدخشاں میں اپنے رنگ کہاں جہانِ قاسمِ رنگت حُضور ﷺ کے شَفَتَین
نزولِ آیۂ مَا يَنطِقُ ہے شان اِن کی ہیں ترجمانِ حقیقت حُضور ﷺکے شَفَتَین
خدا کو اِس لئے ہم مانتے ہیں دیکھے بغیر سنائیں متنِ ہویّت حُضور ﷺکے شَفَتَین
لبوں سے چھُو کے دُعا مُستجاب ہو جاتی ہیں استعارۂ قدرت حُضور ﷺکے شَفَتَین
حُروف اُنﷺکے لبوں سے دوام پاتے تھے بِنائے معنی و نُدرت حُضور ﷺکے شَفَتَین
حسین ہو گئی یہ نعت اس لئے مقصودؔ
بنے کلام کی زینت حُضور ﷺکے شَفَتَین
__________
ریاض ندیم نیازی (سبی): =
سو جاؤں دُعا کرکے پھر خواب میں روضہ ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو
جاگوں تو حضوری کا پیغام بھی آیا ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو
آقاؐ کے دوانو نے طیبہ میں سجائی ہو ، محفل بھی جمائی ہو
اور نام ہمارا بھی فہرست میں لکھّا ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو
نعتوں کے وسیلے سے عزت بھی ملے مجھ کو شہرت بھی ملے مجھ کو
قسمت میں ندیم اُس نے میری یہی لکھّا ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو
سرور حسین نقشبندی (لاہور):
کچھ بھی نہ رہا اَوجِ ثریا میرے آگے
ہر آن ہے وہ نقشِ کفِ پا میرے آگے
ہریالی سی رہتی ہے خیالوں میں شب و روز
رہتا ہے جو وہ گنبدِ خضرا میرے آگے
کیا رنگ دکھائے ہیں ترے ذکر نے آقاؐ
بچھتی ہی چلی جاتی ہے دنیا میرے آگے
علی اصغر عباس (اسلام آباد) . مکمل:
خدا نے آپ سے جب رُوبرو کلام کیا درود آپ پہ بھیجا گیا ، سلام کیا
پسند آئی یہ اپنی ادا اسے اتنی زمین و عرش پہ چرچا اسی کا عام کیا
تمام عالم حیرت پہ ان کا سایہ ہے قیاس ، فہم ، ذکاء عقل کو غلام کیا
کوئی بھی قوم نہ محروم التفات رہے تمام انبیاء کا اس لیے امام کیا
نماز عرش سے اُترا عظیم تحفہ ہے برائے حمد و ثناء اس کا اہتمام کیا
جو رہگزار مدینے کی خاک چھانتا ہے اسے بہاروں کی خوشبو نے خوش خرام کیا
ثنائے احمد مرسل نے وہ سُرور دیا پھر اس کے بعد نہ کوئی اور کام کیا
مدینہ دور بھی ہو کر قریب ہے دل کے گماں سرائے میں ہم نے میاں قیام کیا
درود آپؐ پہ پڑھنا تو فرض ہے اصغر وظیفہ عمر بھر یہ ہم نے صبح شام کیا
ابو الحسن خاور(لاہور): ۔۔ مکمل
صابارش ِ رحمت و انوار یہاں تک نہ رہے
اے خدا، نعت فقط حرف و بیاں تک نہ رہے
روح تک اترے تراوٹ تو کوئی بات بنے
شبنم عشق ِ نبی قلب ِ تپاں تک نہ رہے
اے مرے آتش ِ فارس کے بجھانے والے
اس طرح ہجر بجھا دیں کہ دھواں تک نہ رہے
شہر طبیہ میں ٹھکانہ ہو دل ِ بے دل کا
یوں قرار آئے کہ پھر خواہش ِ جاں تک نہ رہے
صاحب ِ شق ِ قمر جس پہ عنایت کر دیں
وہ اگر آئینہ جوڑے تو نشاں تک نہ رہے
سینہ ءِسنگ میں حشرات بھی پڑھتے ہیں سلام
زمزمے نعت کے پتھر کی زباں تک نہ رہے
ایک شب سیر کو نکلے تھے شہ ِ کون و مکاں
اور پھر کون و مکاں کون و مکاں تک نہ رہے
روز محشر تھا مرا نام ثنا خوانوں میں
یعنی یہ شعر میرے ایک جہاں تک نہ رہے
منظر پھلوری
اس والیِ لولاک کے در لگ کے کھڑا ہوں اور مدح سرا ہوں الحمد کہ اولادِمحمد کا گدا ہوں اور مدح سرا ہوں
ہر لمحہ کرم اس کا اسی کی ہی عطا ہے اعلیٰ ہے علا ہے داماں مرا معمور ہےآ سودہ ہوا ہوں اور مدح سرا ہوں
مالک وہی مولا وہی مہدی وہی ہادی اور رحم کے عادی اس واسطے مملوکِ درِ اہلِ کسا ہوں اور مدح سرا ہوں
داٸم کروں سردارِ رسولاں کی گداٸی اعلیٰ ہے کماٸی اک حاملِ اکرام ہوں سرور کا گدا ہوں اور مدح سرا ہوں
وہ حلم ہے وہ سلم ہے وہ مہرو عطا ہے اور ماہِ حرا ہے عالم کے دروں اس کی ولاٶں کی صدا ہوں اور مدح سرا ہوں
وہ سرور و سردار مددگار ہمارا عالم کا سہارا اس واسطے آلام سے صدموں سے رہا ہوں اور مدح سرا ہوں
ہر گام اسی راحم و ارحم کا احساں اور مہر کا اعلاں ساٸل ہوں اسی در کا اسی در کا سدا ہوں اور مدح سرا ہوں
حسین امجد (حسن ابدال): مکمل
دل ونظر میں بسا لوں , مدینہ شہر کی خاک متاعِ زیست بنا لوں مدینہ شہر کی خاک حضور آپ کے لطف و کرم سے ہںے ممکن میں ایک بار کما لوں , مدینہ شہر کی خاک کبھی تو آنکھ سے چوموں میں حجرِ اسود کو کبھی تو آنکھ میں ڈالوں , مدینہ شہر کی خاک مدینہ شہر میں اے کاش دفن ہوجاوں بدن , کفن پہ سجا لوں , مدینہ شہر کی خاک حضور آپ کا منگتا ہوں میں حسین امجد حضور کیا میں اٹھا لوں , مدینہ شہر کی خاک
نصرت (اسلام آباد):
یا نبیؐ بس آپؐ کی ہردم عنایت چاہیے روزِ محشر آپؐ کی مجھ کو شفاعت چاہیے نفسِ امارا میرا بن جائے نفسِ مطمئن بادشاہِ دین و دنیا کی اطاعت چاہیے نقشِ پائے رہبرِ دینِ مبینِ کبریا کام یابی کے لیے بس یہ ضمانت چاہیے حاضری دربارِ اقدس میں اگر درکار ہو عاجزی لہجے میں آنکھوں میں ندامت چاہیے __________
ذوالفقار علی دانش (حسن ابدالی): . مکمل
لکھی ہے نعت یہ میں نے بصد ہزار ادب کہ اُن کے در پہ کیا جائے گا شمار ادب
خدائے پاک کی حمد اور نعتِ سرورِ دیں یہی تو ہے جسے کہتے ہیں شاہکار ادب
نبی کے عشق کی مے ہے کوئی مذاق نہیں مرا جنوں بھی ادب ہے ، مرا خمار ادب
"ہزار بار بشویم دہن بہ مشک و گلاب " کہاں زبان سے ہو پھر بھی اختیار ادب
اسی سے حُسنِ ادب ہے ، یہی ہے رنگِ سخن کیا ہے صنفِ ثنا نے ہی مشکبار ادب
نبی کے پائے مبارک کو چوم کر جبریل بتا گئے کہ یہ ہوتا ہے بے شمار ادب
ترے ہی نام سے پاتا ہے ہر سخن توقیر ترے ہی ذکر سے بنتا ہے شاندار ادب
کہ ہے یہ حکمِ خدا بھی ، یہی قرینہ بھی نبی کے عشق میں رکھتا ہے اعتبار ادب
ادب کے سارے قرینے ہیں اک طرف ، لیکن دکھا گیا جو فرشتوں کا تاجدار ، ادب !!!
سوال تھا درِ سرکار پر ہے کیا لازم ؟ مرا جواب یہی تھا بہ اختصار ، ادب !!!
نبی کی شان کے شایاں جسے کہیں دانش ! ہوا نہ ہو گا کسی سے بھی اختیار ادب
__________
نسیمِ سحر (راولپنڈی):
جتنے بھی دکھ ملے ہمیں اغیار کے سبب سب کا ازالہ ہوتا ہے سرکارؐ کے سبب انصافِ بے مثال کی قائم ہوئی مثال اِک کھردری چٹائی پہ دربار کے سبب کوئی عجب نہیں کہ نسیمِ سحر میری بخشش ہو اپنے نعتیہ اشعار کے سبب
طاہر علی سید (تونسہ شریف): ۔ مکمل
دم سادھے ، مؤد ب ہوں میں ، کیا نیم شبی ہے مد حت کا نزول ا ور مر ے د ل پہ بنی ہے
اُس د ر کی گد ا ئی سے ملا ہے مجھے ا تنا ا ب د ل میں ا گر ہے تو فقط بے طلبی ہے
یوسفؑ بھی بہ صد رشک پکا ر ا ٹھے ، جو دیکھے کیا خو ش نظری ، خو ش لقبی ، خو ش بد نی ہے
جو ا ن کا بد ن چھو کے گیا ، ہو گا کہیں پر ا س جھو نکے کو ا ب سا نس مری ڈھو نڈ ر ہی ہے
د نیا کو میسر ہو ا جب حسن ِ مجسم !!!!!! تب جا کے کہیں عشق کی بنیا د پڑ ی ہے
میں اُ س د رِ ا قد س پہ کھڑ ا ہو ں بہ عقید ت سا نسو ں کی کثا فت بھی جہا ں بے ا دبی ہے
تا حشر درو د و ں سے تجھے فیض ہے طاہرؔ توُ آ ل ِ شہہِ د یں ہے تر ی خو ش نسبی ہے__________
بشریٰ فرخ:
تِترے بغیر تھی جو زندگی کہانی ہوئی جو تیری یاد میں گزری وہ جاودانی ہوئی
میں دل کی آنکھوں سے پہچانتی ہوں یہ رستہ یہی جگہ تھی جہاں زیست پُر معانی ہوئی
کہاں تھی تاب لبِ منتظر کو جنبش کی جو گفتگو ہوئی آنکھوں کی ہی زبانی ہوئی
یہ لمحہ لمحہ جو دل بہہ رہا ہے آنکھوں سے تری نگاہِ کرم کی یہی نشانی ہوئی
میں دل اور آنکھیں مدینے میں چھوڑ آئی ہوں جہاں شروع محبت کی یہ کہانی ہوئی
وہ جانتے ہیں مرا حال، ہے خبر ان کو کہاں میں ٹوٹ کے بکھری کہاں دوانی ہوئی
گزر کے ساری حدود و قیود سے آقاؐ میں عاشقی کی کوئی حدِ لا مکانی ہوئی
عطا کیا جو مجھے آپؐ کی غلامی نے وہ تاج پہن لیا شہرِ دل کی رانی ہوئی
محبتوں میں نیا کام کچھ کرو بشریٰؔ کہ بات جان سے جانے کی اب پرانی ہوئی __________
عارف قادری (واہ کینٹ):=
یہ گھر کسی کو اور بسانے نہیں دِیا دِل سے نبی کی یاد کو جانے نہیں دِیا
بخشا ہے اُن کے اسمِ مبارک نے جتنا فیض یُوں فاٸدہ کسی بھی دَوا نے نہیں دِیا
پُوری ہر ایک حسرت و خواہش بھی کر گۓ ہونٹوں پہ اِلتجا کو بھی لانے نہیں دِیا
ہوتی مُجھے بھی صُحبتِ مِیرِ اُمم نصیب ”تُو نے وہ وقت مُجھ کو زمانے! نہیں دِیا“
خُوش ہیں کہ نعتِ سرورِ کونین کے سِوا کُچھ زندگی نے ہم کو کمانے نہیں دِیا
کِس سمت وہ نگاہِ عنایت نہیں اُٹھی کِس کو نبی کے دستِ عطا نے نہیں دِیا
شاید درِ رسول کو آٸی ہے چُوم کر ایسا سرُور پہلے صبا نے نہیں دِیا
کیوں آدمی کے خُون کا پیاسا ہے آدمی یہ درس تو رسولِ خُدا نے نہیں دِیا
عارف مِرے حضور کو میری خبر نہ ہو ایسا خیال ذہن میں آنے نہیں دِیا
(مُحمد عارف قادری، واہ کینٹ) __________
حکیم خان حکیم:
بُلا کر عرشِ اعظم پر محبت سے تجھے آقاؐ خدا جب رو بہ رو ہو جائے تیری نعت ہوتی ہے دل کی دھڑکن میں آنکھوں کا اُجالا تم ہو میرے جینے میرے مرنے کا حوالہ تم ہو __________
واجد امیر:
شہرِ نبیؐ کو عرش بھی جب ہم نشیں کہے دل ایسے آسمان کو کیوں کر زمیں کہے اُنؐ سے ، سنی سنائی کو منسوب مت کرو وہ لفظ مت کہو جو اُنھوں نے نہیں کہے کہنے کو نعت ہو تو گئی ہے مگر حضورؐ جو شعر کہنا چاہتے تھے وہ نہیں کہے __________
اشفاق احمد غوری: مکمل
جہاں نوشابہء لطف و کرم رکھا ہوا ہے اسی در پر سرِ تسلیم خم رکھا ہوا ہے
مرا ہر عیب دنیا کی نگاہوں سے چھپا کر شہِ ابرار نے میرا. بھرم رکھا ہوا ہے
مجھے تھکنے نہیں دیتا درِ سرکارِ بطحا اسی در کی کشش نے تازہ دم رکھا ہوا ہے
یقیناً اشک شوئی آپ فرمائیں گے میری اسی امید پر آنکھوں کو نم رکھا ہوا ہے
تصور میں دیارِ نور ہو ہر وقت میرے تعلق اس لئے دنیا سے کم رکھا ہوا ہے
کہاں ممکن ہے ایسا دوسرا آقا، کہ جس نے غلاموں کو بصد ناز و نعم رکھا ہوا ہے
عطا ہوگا کبھی اک نعت کا مقبول مصرع درِ امید پر کاغذ قلم رکھا ہوا ہے
جناں کا بوستاں اللہ نے ہر ایک ماں کے طفیلِ آمنہ زیرِ قدم رکھا ہوا ہے
مرے آنسو معطر کیوں نہ ہوں اشفاق، میں نے حسین ابنِ علی کا دل میں غم رکھا ہوا ہے
سیدہ فرح شاہ: مکمل
زہے نصیب جو ہوتی رہے حضورؐ کی نعت یہ خاکسار بھی لکھتی ریے حضور کی نعت
اسی لیےُ تو خدا نے پڑھا درودوسلام کہ کایُنات بھی پڑھتی رہے حضورؐ کی نعت
تصورات میں تکتی رہوں کهجور کے پیڑ تخیلات میں چلتی رهے حضور کی نعت
نبیؐ کی نعت سے سینہ مرا منور ہو بہ فیضِ عشق دمکتی رہے حضورؐ کی نعت
بروزِ حشر وسیلہ ہماری بخشش کا نہیں بعید کہ بنتی رہے حضور کی نعت
علاج روح کی پژمردگی کا ہے یہ فرح کہ اہتمام سے سنتی رہے حضور کی نعت ؐ __________
یٰسین قمر:
سر بہ سر عجز قبلہ رُو ہوکر یادِ طیبہ سے مُشک بُو ہوکر جانے کب حکمِ نعت ہو جائے لفظ رہتے ہیں باوضو ہوکر __________
شبیر حسن، لاہور ۔ مکمل :
جملہ اعداد سے، نے حرف ملانے سے کُھلا حجلہِ علم ترے غار میں آنے سے کھلا
رات کے نصف کو ہم سینہ۶شب جانتے ہیں شب کا سینہ ترے قرآن سنانے سے کھلا
ہم پہ کیا چھاؤں، ترے دھوپ میں چلنے سے کھلی ہم پہ کیا رنگ ترے زخم اٹھانے سے کھلا
یہ زمیں خاک کا ایک ڈھیڑ ہی لگتی تھی ہمیں خاک کا رتبہ ترے پاؤں لگانے سے کھلا
ہم تو گنتی ہی گنے جانے کے دھوکے میں رہے حسنِ ترتیب ترے بعد میں آنے سے کھلا
دھیما دھیما تو ستارے بھی بتاتے تھے مگر سنگ لو دیتا یے یہ تیرے سرہانے سے کھلا __________
حسنین مُحسن: مکمل
کتنا مشکل ہے فاصلہ رکھنا نعت کو حمد سے جُدا رکھنا
نعت کے شعر کہہ رہا ہُوں میں تم دیے سے دیا جلا رکھنا
مشکلیں مشکلوں میں پڑ جائیں تم فقط زیر _ لب دعا رکھنا
نقش _ پائے رسول (ص) کی دولت دل کے ہر نقش پر سجا رکھنا
دل مدینے کی سمت جائے گا اپنی سوچوں میں کربلا رکھنا ۔
__________
اعجاز حسین گوجرانوالہ: مکمل نعت
پیام دیتی ہے بادِ صبا مدینے سے کہ نکہتیں نہیں ہوتیں جدا مدینے سے
میں مر گیا کہ مدینے نہ جا سکا ورنہ
حیات بن کے پلٹتی قضا مدینے سے
سوال چھوٹا کیا تھا مگر جہاں دونوں فقیر کاسے میں لے کر اٹھا مدینے سے
عطا کے ساتھ ملے گی رِضا کی نعمت بھی پکاریے تو خدا کو ذرا مدینے سے
نہ کیسے ہوتا ثمر بار گلشنِ مدحت خیال نو کی ہوئی جب عطا مدینے سے
عبث میں ڈھونڈتا پھرتا تھا اسکو سینے میں کہ جالیوں میں ملا دل مرا مدینے سے
وہ جنتوں میں رہا جو رہا مدینے میں وہ جنتوں سے رہا جو رہا مدینے سے
مہیب شب کی طوالت نے باندھا رخت سفر ظہورِ صبحِ دل آرا ہوا مدینے سے
رہِ حیات پہ عاجزؔ بلا کی گرمی تھی میں مضمحل تھا کہ اٹھی گھٹا مدینے سے
سید اعجاز شاہ عاجزؔ__________
سیّد ثقلین نقوی (مدینہ شریف):
اوڑھ کر عجز و عقیدت کی رِدا کہتا ہُوں گُوندھ کر اُن کی وِلا حرفِ ثنا کہتا ہُوں
بے قراری کا جو بڑھتا ہے مِرے دِل پہ فشار بابِ جبریل پہ آقا سے میں جا کہتا ہُوں
اُن کا مولا مِرے اِس کام پہ خُوش ہوتا ہے جب بھی میں صلِ علٰی صلِ علٰی کہتا ہُوں
تُو گُزرتی ہے مدینے کے خیابانوں سے میں مبارک تجھے اے بادِ صبا کہتا ہُوں
شہرِ طیبہ میں بُلا کر وہ نوازیں جائیں اپنے احباب کے حق میں یہ دُعا کہتا ہُوں
اُن کو آقا، کبھی مولا، کبھی سرکار کہوں خُود کو اُس در کا فقیر اور گدا کہتا ہُوں
میں نہیں کہتا کبھی اُن کو خُدا کا ہم سٙر ہاں خُدا سے نہ مگر اُن کو جُدا کہتا ہُوں
مجھ کو دیکھے جو کبھی کرب و بلا کی صُورت "یا حُسین ابنِ علی شیرِ خُدا!" کہتا ہُوں
حشر میں حسنیؔ مدینے سے اُٹھایا جائے صدقہء بنتِ شہِ ہر دو سٙرا کہتا ہُوں
__________
سلمان رسول : مکمل
ارض و سما کی بزم میں ہو گا مرا بھی نام خاص شاہ ِ امم کا دوستو میں بھی ہوں اک غلام خاص ختم ِ رُسُل بھی ہیں وہی، وہ ہی امامِ انبیا ان کو سبھی رسولوں میں بخشا گیا مقام خاص چشمِ فلک نے دیکھا ہے ایک نظارا ایسا بھی عشقِ نبیؐ نے کر دیا ایک سیاہ فام خاص شہرِ نبی کی ساعتیں لطف میں خلد سے فزوں راتیں بھی اس کی منفرداور ہیں صبح و شام خاص شاہ و گدا کا امتیاز آکے مٹایا آپؐ نے آپؐ کی بارگاہ میں ہو گئے سارے عام ، خاص __________
صغیر احمد صغیرؔ:
ہوئی قبول میری ہر دعا مدینے میں میں کیا بتاؤں کہ کیا کیا ملا مدینے میں
میں مانتا ہوں کہ کعبے کی شان ہے اپنی مگر یہ سچ ہے بڑا دل لگا مدینے میں
میں ایک شام مدینے میں دیکھ آیا ہوں بڑے ادب سے ہے چلتی ہوا مدینے میں
سکونِ دائمی پوچھا کہاں سے ملتا ہے تو اک فقیر نے مجھ سے کہا، مدینے میں
وہ عیش و عشرتِ دنیا، تمام لہو و لعب میں چھوڑ چھاڑ کے سب، آ گیا مدینے میں
وہ کاش خواب نہ ہوتا، صغیر سچ ہوتا خوشا وہ خواب کہ میں مر گیا مدینے میں
__________
توقیر احمد:
سچ تو یہ ہے کہ بِنا نعت نہیں کھلتا ہے ایک زینہ جو سرِ عرشِ بریں کھلتا ہے ایک رستہ جو مدینے سے شروع ہوتا ہے دوسری سمت پہ جنت کے قریں ہوتا ہے __________
احسان علی حیدر:
بول!ممکن تو نہیں،پهر بهی اگر آتا ہے میرے آقا سا کوئی اور نظر آتا ہے ؟
بعد میں آتی ہے نعلین _ محمد ص بہ زمیں اس سے پہلے وہاں جبریل کا پر آتا ہے
شوق دیدار میری آنکھ زرا نم رکهیو خاک نم ہو تبهی ڈالی پہ ثمر آتا ہے
تو ابهی شہر_مودت سے بہت پیچھے ہے تیری باتوں میں اگر اور مگر آتا ہے
جب عقیدت سے مدینے کی طرف دیکهتا ہوں مرکزی باب پہ سلمان نظر آتا ہے
اے خدا آج مجهے تخت سلیمانی دے مجهکو درپیش مدینے کا سفر آتا ہے
اس لئے چومنے جاتا ہوں لحد پرکهوں کی جانتا ہوں کہ مرا مولا ادهر آتا ہے
باب_جنت پہ ملائک نے کہا ملاں سے ٹهہر جا! دشمن_حیدر تو کدھر آتا ہے
دیکھیے گود میں لیلٰی کی بشکل_اکبر ع آج دنیا میں نبی باردگر آتا ہے
میں نے دیکھا ہے ابهی سبز قبا کا لاشہ سبز گنبد بهی مجهے سرخ نظر آتا ہے
نعت کہنے کے لئے خون سے سینچو الفاظ پهر مقدر سے کوئی مصرعہ تر آتا ہے
احسان علی حیدر
__________
ارسلان احمد ارسل:
ہم بناوٹ سے نہیں کہتے کہ ہم تیرے ہیں
ہم ترے در کی اٹھاتے ہیں قسم ، تیرے ہیں
چوم کر جن کو ملے کیف و سرور و مستی
کیسے تاثیر رسا نقشِ قدم تیرے ہیں
غم دنیا کبھی پہلے ، نہ اب ہوگا کبھی
شکرِ ایزاد! کہ مرے سینے میں غم تیرے ہیں
ہوں ابوبکر و عمر ، یا کہ ہوں عثمان و علی
سارے تابندہ یہ اصحابِ حشم تیرے ہیں
خوف کیا پیاس کی شدت کا بروزِ محشر
ہم کہ پروردہ و آسودہ ء یم تیرے ہیں
تو گدایانِ محمد ﷺ کا گدا ہے ارسل
بس اسی واسطے دنیا میں بھرم تیرے ہیں
ریاض احمد شیخ:
طائرِ روح کا مسکن ہے ریاضِ احمد کیسے اغیار کے اشجار پہ ٹہرے جاکر __________ جو اِک طرف ہے محمدؐ تو اِک طرف احمدؐ ریاض سرورِ کونینؐ کے حصار میں ہے __________ ==== زاہد فخری (لاہور):====دلوں سے غم مٹاتا ہے محمد نام ایسا ہے
نگر اجڑے بساتا ہے محمد نام ایسا ہے
انہی کے نام سے پائی فقیروں نے شہنشاہی
خدا سے بھی ملاتا ہے محمد نام ایسا ہے
انہی کے ذکر سے روشن راتیں پھر لوٹ آتی ہیں
نصیبوں کو جگاتا ہے محمد نام ایسا ہے
درودوں کی مہک سے محفلیں آباد رہتی ہیں
میری نعتیں سجاتا ہے محمد نام ایسا ہے
محبت کے کنول کھلتے ہیں انکو یاد کرنے سے
بڑی خوشبوئیں لاتا ہے محمد نام ایسا ہے
مدد حاصل ہے مجھ کو ہر گھڑی شاہِ مدینہ کی
میری بگڑی بناتا ہے محمد نام ایسا ہے
میں فخری فکر دنیا وآخرت سب بھول جاتا ہوں
مجھے جب یاد آتا ہے محمد نام ایسا ہے __________
علی کسور خلیق (اسلام آباد):
سرفرازی ہے دو عالم میں منافع میرا عشقِ سرکارِ دو عالم مِرا سرمایا ہے حُسنِ یوسف کی گواہی ہے زلیخا کی تڑپ پر محمدؐ پہ تو اللہ کا دل آیا ہے __________
فائق ترابی (اٹک):
میری مٹی سے کوئی دیپ بنایا جاتا پھر ترے شہر کی گلیوں میں جلایا جاتا کاش طیبہ کے گلستان کا کانٹا ہوتا اور پھولوں کی حفاظت پہ لگایا جاتا __________
ندیم شیخ (لاہور):
لکھوں گا نعتِ رسولِ اکرم تو بات اپنی بناؤں گا میں مجھے یقیں ہے کہ ایسا کرنے سے سیدھا جنت میں جاؤں گا میں __________ بہ فیضِ عجز و عنایت سمجھ میں آیا درُود لہو کو عشق سکھایا ، بدن بنایا درُود عجب نہیں تھا کہ اشکوں میں ڈوب جاتا میں خدا کو یاد کیا تو مدد کو آیا درُود __________
باقر علی زیدی:
ثنائے احمدِ مُرسلؐ کی سلسبیل پہ ہوں ابھی تو سلطنتِ نعت کی فصیل پہ ہوں __________ کشتِ ویراں میں سرسبز حوالے کی طرح تیرگی میں ہے کوئی نام اُجالے کی طرح خاک دانِ دلِ ہستی میں وہ مثلِ خورشید جگمگاتے ہیں کسی نور کے ہالے کی طرح __________
ندیم سحر (لاہور):
بام و در روشنی ہر نگر روشنی ہے مدینے کا سارا سفر روشنی نعت کہنے کو جب بھی اُٹھایا قلم ہو گیا میرا علم و ہنر روشنی __________
نعیم رضا بھٹی (منڈی بہاؤالدین): ۔ مکمل
نظام کن میں ارتقاء ضروری ہے ترا کرم تری رضا ضروری ہے
میں اپنی خاک آنسوؤں گوندھ لوں کہ اک سبیل کیمیا ضروری ہے
فصاحتوں کی حبس میں پڑا ہوں میں مجھے حجاز کی ہوا ضروری ہے
جو بامراد اشک ہیں سمیٹ لوں سفر میں ہوں سو آسرا ضروری ہے
وہ سامنے ہوں اور نظر ہٹے نہیں فقیر کو بس اک دعا ضروری ہے
__________
ریاض خاور اعوان (اسلام آباد):
صرف اُس جادۂ رحمت کے مَیاں دِکھتا ہے ورنہ ہر دیکھنے والے کو کہاں دِکھتا ہے نعت پڑھتے ہوئے اِک حجرے میں آ جاتا ہوں جس کی کھڑکی سے پسِ کون و مکاں دِکھتا ہے __________
شوزیب کاشر (آزاد کشمیر):
تجھ کو شایان ہے دارین کی شاہی مرے ماہی میں تری فوج کا اک ادنی سپاہی مرے ماہی
صرف اتنا ہی نہیں فخر کہ مشتاق ہیں فرشی
کریں عرشی بھی تری چشم براہی مرے ماہی
تو کہ تہذیب و تمدن کا ہے میعار ابدآثار
جان عالم ہے تری ژرف نگاہی مرے ماہی
نہیں انسان کی اوقات کہ رتبہ ترا جانے
ذات تیری ہے تو پھر جانے خدا ہی مرے ماہی
تیری خوشبو کے تعاقب میں زمانہ پھرے غلطاں
نہیں پہنچا کبھی تجھ تک ترا راہی مرے ماہی
میں کہ اک نقشِ غلط ، کور نگاہے ، پرِ کاہے
تو کہ تصویرِ ابد ، ظلِ الہی مرے ماہی
عکسِ آئینہِ کُن ! ایک گزارش ہے مری سُن
دور ہو میرے مقّدر کی سیاہی مرے ماہی
جادۂ حق کی طرف راہنمائی کا وسیلہ
کج کلاہوں کو تری راست کلاہی مرے ماہی
زندگی در پئے آزار ہے اور تُو ہی مسیحا
تجھ کو منظور ہو کیوں میری تباہی مرے ماہی
موج میں تیز بھنور اور شکستہ مری کشتی
مجھ کو درکار تری پشت پناہی مرے ماہی
میں کہ اک کشتِ بیاباں سِر صحرا ، تُو ہے دریا ختم تجھ سے مری بے آب و گیاہی مرے ماہی
تیرے ہوتے مرے سرور مجھے کیا ڈر سرِ محشر
ہو مرے حق میں اگر تیری گواہی مرے ماہی
میں تو احسان فراموش ہوں پر تیری عنایت مجھ جفا کیش سے بھی تو نے نباہی مرے ماہی
مل گئی مل کے رہی جود و کرم سے ترے در سے تو نے جو چیز جہاں جیسے بھی چاہی مرے ماہی
میرے ساقی تجھے رب نے دیے کوثر کے خزانے مئے انوار سے بھر دل کی صراحی مرے ماہی
رومی و جامی ہوئے وہ کہ جنھیں تو نے سراہا میرا فن بھی ہے تری داد کا خواہی مرے ماہی
تیرے صدقے ترا شاعر ترے واری ترا کاشر میرے مولا مرے آقا مرے ماہی مرے ماہی
شوزیب کاشر__________
سائل نظامی (گجر خان):
یک لخت چمک اُٹھیں مِرے سوگ زدہ نین ، اے سیّدِ کونینؐ آنکھوں سے لگا پاؤں اگر آپؐ کے نعلین ، اے سیّدِ کونینؐ اے پیکرِ رحمت مِرے بچوں کو بھی رکھنا منگتوں میں ہمیشہ جیسے درِ رحمت پہ پڑے ہیں مِرے اب غین ، اے سیّدِ کونینؐ __________
شاہد:
زہے نصیب جو پالوں حضورؐ کے نعلین تو سر کا تاج بنا لوں حضورؐ کے نعلین یہ مہر و ماہ زیارت کو میرے گھر آئیں جو اپنے گھر میں سجا لوں حضورؐ کے نعلین __________
خالد محبوب (بہاولپور):
لفظ خود نعت کے امکان میں آ جاتے ہیں جب بھی سرکارؐ مِرے دھیان میں آ جاتے ہیں آپؐ کی پیروی کرنے سے کھُلا ہے مجھ پر ضابطے جینے کے انسان میں آ جاتے ہیں __________
عبدالعزیز دباغ:
میری اوقات کیا پوچھتے ہو میں ہوں خاشاکِ دُنیا کا سایا مجھ کو بوسے دِیے قدسیوں نے میں مدینے گیا اور آیا میں نے صلِّ علیٰ کہہ کے جس دم طوفِ کعبہ سے رب کو پکارا میں کھڑا تھا مقامِ دُعا پر اُس نے چہرے سے پردہ ہٹایا اِک تجلّی سے روشن تھا سینہ میں نے کعبے میں دیکھا مدینہ نور کا یہ عجب سلسلہ ہے مجھ کو روضے نے کعبہ دِکھایا ٭٭٭