"تبادلۂ خیال:پہلی قومی ادبی نعت کانفرنس 2022" کے نسخوں کے درمیان فرق
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
|||
| سطر 152: | سطر 152: | ||
حضور کیا میں اُٹھا لوں مدینہ شہر کی خاک | حضور کیا میں اُٹھا لوں مدینہ شہر کی خاک | ||
__________ | __________ | ||
نصرت (اسلام آباد): | ==== نصرت (اسلام آباد): ==== | ||
یا نبیؐ بس آپؐ کی ہردم عنایت چاہیے | یا نبیؐ بس آپؐ کی ہردم عنایت چاہیے | ||
روزِ محشر آپؐ کی مجھ کو شفاعت چاہیے | روزِ محشر آپؐ کی مجھ کو شفاعت چاہیے | ||
| سطر 162: | سطر 162: | ||
عاجزی لہجے میں آنکھوں میں ندامت چاہیے | عاجزی لہجے میں آنکھوں میں ندامت چاہیے | ||
__________ | __________ | ||
ذوالفقار علی دانش (حسن ابدالی): | ====ذوالفقار علی دانش (حسن ابدالی):==== | ||
لکھی ہے نعت یہ میں نے بہ صد ہزار ادب | لکھی ہے نعت یہ میں نے بہ صد ہزار ادب | ||
کہ اُنؐ کے در پہ کیا جائے گا شمار ادب | کہ اُنؐ کے در پہ کیا جائے گا شمار ادب | ||
| سطر 170: | سطر 170: | ||
تِرے ہی ذکر سے بنتا ہے شان دار ادب | تِرے ہی ذکر سے بنتا ہے شان دار ادب | ||
__________ | __________ | ||
نسیمِ سحر (راولپنڈی): | ====نسیمِ سحر (راولپنڈی):==== | ||
جتنے بھی دکھ ملے ہمیں اغیار کے سبب | جتنے بھی دکھ ملے ہمیں اغیار کے سبب | ||
سب کا ازالہ ہوتا ہے سرکارؐ کے سبب | سب کا ازالہ ہوتا ہے سرکارؐ کے سبب | ||
| سطر 178: | سطر 178: | ||
بخشش ہو اپنے نعتیہ اشعار کے سبب | بخشش ہو اپنے نعتیہ اشعار کے سبب | ||
__________ | __________ | ||
طاہر علی سید (تونسہ شریف): | ====طاہر علی سید (تونسہ شریف):==== | ||
دم سادھے مؤدب ہوں میں کیا نیم شبی ہے | دم سادھے مؤدب ہوں میں کیا نیم شبی ہے | ||
مدحت کا نزول اور مِرے دل پہ بنی ہے | مدحت کا نزول اور مِرے دل پہ بنی ہے | ||
| سطر 186: | سطر 186: | ||
تب جا کے کہیں عشق کی بنیاد پڑی ہے | تب جا کے کہیں عشق کی بنیاد پڑی ہے | ||
__________ | __________ | ||
بشریٰ فرخ: | |||
====بشریٰ فرخ:==== | |||
تِرے بغیر تھی جو زندگی کہانی ہوئی | تِرے بغیر تھی جو زندگی کہانی ہوئی | ||
جو تِری یاد میں گزری وہ جاودانی ہوئی | جو تِری یاد میں گزری وہ جاودانی ہوئی | ||
| سطر 194: | سطر 195: | ||
جہاں شروع محبت کی یہ کہانی ہوئی | جہاں شروع محبت کی یہ کہانی ہوئی | ||
__________ | __________ | ||
عارف قادری (واہ کینٹ): | === عارف قادری (واہ کینٹ):==== | ||
یہ گھر کسی کو اور بسانے نہیں دیا | یہ گھر کسی کو اور بسانے نہیں دیا | ||
دل سے نبیؐ کی یاد کو جانے نہیں دیا | دل سے نبیؐ کی یاد کو جانے نہیں دیا | ||
| سطر 202: | سطر 203: | ||
ایسا خیال ذہن میں آنے نہیں دیا | ایسا خیال ذہن میں آنے نہیں دیا | ||
__________ | __________ | ||
حکیم خان حکیم: | ====حکیم خان حکیم:==== | ||
بُلا کر عرشِ اعظم پر محبت سے تجھے آقاؐ | بُلا کر عرشِ اعظم پر محبت سے تجھے آقاؐ | ||
خدا جب رو بہ رو ہو جائے تیری نعت ہوتی ہے | خدا جب رو بہ رو ہو جائے تیری نعت ہوتی ہے | ||
| سطر 208: | سطر 210: | ||
میرے جینے میرے مرنے کا حوالہ تم ہو | میرے جینے میرے مرنے کا حوالہ تم ہو | ||
__________ | __________ | ||
واجد امیر: | |||
===== واجد امیر: ===== | |||
شہرِ نبیؐ کو عرش بھی جب ہم نشیں کہے | شہرِ نبیؐ کو عرش بھی جب ہم نشیں کہے | ||
دل ایسے آسمان کو کیوں کر زمیں کہے | دل ایسے آسمان کو کیوں کر زمیں کہے | ||
| سطر 216: | سطر 219: | ||
جو شعر کہنا چاہتے تھے وہ نہیں کہے | جو شعر کہنا چاہتے تھے وہ نہیں کہے | ||
__________ | __________ | ||
اشفاق احمد غوری: | ==== اشفاق احمد غوری:==== | ||
جہاں نوشابۂ لطف و کرم رکھا ہُوا ہے | جہاں نوشابۂ لطف و کرم رکھا ہُوا ہے | ||
اُسی در پر سرِ تسلیمِ خم رکھا ہُوا ہے | اُسی در پر سرِ تسلیمِ خم رکھا ہُوا ہے | ||
| سطر 224: | سطر 228: | ||
شہِ ابرار نے میرا بھرم رکھا ہوا ہے | شہِ ابرار نے میرا بھرم رکھا ہوا ہے | ||
__________ | __________ | ||
سیدہ فرح شاہ: | ==== سیدہ فرح شاہ: ==== | ||
درودِ پاک کے گجرے بنا کے لائی ہوں | درودِ پاک کے گجرے بنا کے لائی ہوں | ||
نبیؐ کی نعت کا یوں اہتمام کرنا ہے | نبیؐ کی نعت کا یوں اہتمام کرنا ہے | ||
| سطر 230: | سطر 234: | ||
دل و نگاہ کو اُنؐ کا غلام کرنا ہے | دل و نگاہ کو اُنؐ کا غلام کرنا ہے | ||
__________ | __________ | ||
یٰسین قمر: | ====یٰسین قمر:==== | ||
سر بہ سر عجز قبلہ رُو ہوکر | سر بہ سر عجز قبلہ رُو ہوکر | ||
یادِ طیبہ سے مُشک بُو ہوکر | یادِ طیبہ سے مُشک بُو ہوکر | ||
| سطر 236: | سطر 240: | ||
لفظ رہتے ہیں باوضو ہوکر | لفظ رہتے ہیں باوضو ہوکر | ||
__________ | __________ | ||
شبیر احمد شبیر: | ====شبیر احمد شبیر:==== | ||
جملہ اعداد نہ حرف مِلانے سے کھُلا | جملہ اعداد نہ حرف مِلانے سے کھُلا | ||
حُجلۂ علم ترے غار میں آنے سے کھُلا | حُجلۂ علم ترے غار میں آنے سے کھُلا | ||
| سطر 242: | سطر 246: | ||
حُسنِ ترتیب ترے بعد میں آنے سے کھُلا | حُسنِ ترتیب ترے بعد میں آنے سے کھُلا | ||
__________ | __________ | ||
حسنین مُحسن: | ====حسنین مُحسن:==== | ||
کتنا مشکل ہے فاصلہ رکھنا | کتنا مشکل ہے فاصلہ رکھنا | ||
نعت کو حمد سے جدا رکھنا | نعت کو حمد سے جدا رکھنا | ||
| سطر 248: | سطر 252: | ||
تم دِیے سے دِیا جلا رکھنا | تم دِیے سے دِیا جلا رکھنا | ||
__________ | __________ | ||
اعجاز حسین گوجرانوالہ: | ====اعجاز حسین گوجرانوالہ:==== | ||
پیام دیتی ہے بادِ صبا مدینے سے | پیام دیتی ہے بادِ صبا مدینے سے | ||
نکہتیں نہیں ہوتیں جدا مدینے سے | نکہتیں نہیں ہوتیں جدا مدینے سے | ||
| سطر 254: | سطر 258: | ||
فقیر کاسے میں لے کر اُٹھا مدینے میں | فقیر کاسے میں لے کر اُٹھا مدینے میں | ||
__________ | __________ | ||
س====یّد ثقلین نقوی (مدینہ شریف):==== | |||
اوڑھ کر عجز و عقیدت کی رِدا کہتا ہوں | اوڑھ کر عجز و عقیدت کی رِدا کہتا ہوں | ||
گوندھ کر حرفِ وِلا اُنؐ کی ثنا کہتا ہوں | گوندھ کر حرفِ وِلا اُنؐ کی ثنا کہتا ہوں | ||
| سطر 260: | سطر 264: | ||
جب بھی میں صلِّ علیٰ صلِّ علیٰ کہتا ہوں | جب بھی میں صلِّ علیٰ صلِّ علیٰ کہتا ہوں | ||
__________ | __________ | ||
سلمان مسعود: | ====سلمان مسعود:==== | ||
چشمِ فلک نے دیکھا ہے ایک نظارا ایسا بھی | چشمِ فلک نے دیکھا ہے ایک نظارا ایسا بھی | ||
عشقِ نبیؐ نے کر دیا ایک سیاہ فام خاص | عشقِ نبیؐ نے کر دیا ایک سیاہ فام خاص | ||
| سطر 266: | سطر 270: | ||
آپؐ کی بارگاہ میں ہو گئے سارے عام ، خاص | آپؐ کی بارگاہ میں ہو گئے سارے عام ، خاص | ||
__________ | __________ | ||
صغیر احمد صغیرؔ: | ====صغیر احمد صغیرؔ:==== | ||
میں ایک شام مدینے میں دیکھ آیا ہوں | میں ایک شام مدینے میں دیکھ آیا ہوں | ||
بڑے ادب سے ہے چلتی ہَوا مدینے میں | بڑے ادب سے ہے چلتی ہَوا مدینے میں | ||
| سطر 272: | سطر 276: | ||
تو اِک فقیر نے مجھ سے کہا ، مدینے میں | تو اِک فقیر نے مجھ سے کہا ، مدینے میں | ||
__________ | __________ | ||
توقیر احمد: | ==== توقیر احمد:==== | ||
سچ تو یہ ہے کہ بِنا نعت نہیں کھلتا ہے | سچ تو یہ ہے کہ بِنا نعت نہیں کھلتا ہے | ||
ایک زینہ جو سرِ عرشِ بریں کھلتا ہے | ایک زینہ جو سرِ عرشِ بریں کھلتا ہے | ||
| سطر 281: | سطر 282: | ||
دوسری سمت پہ جنت کے قریں ہوتا ہے | دوسری سمت پہ جنت کے قریں ہوتا ہے | ||
__________ | __________ | ||
احسان علی حیدر: | ====احسان علی حیدر:==== | ||
بول ممکن تو نہیں پھر بھی اگر آتا ہے | بول ممکن تو نہیں پھر بھی اگر آتا ہے | ||
میرے آقاؐ سا کوئی اور نظر آتا ہے؟ | میرے آقاؐ سا کوئی اور نظر آتا ہے؟ | ||
| سطر 289: | سطر 290: | ||
پھر مقدر سے کوئی مصرعۂ تر آتا ہے | پھر مقدر سے کوئی مصرعۂ تر آتا ہے | ||
__________ | __________ | ||
ارسلان احمد ارسل: | ==== ارسلان احمد ارسل:==== | ||
عاصی درِ رحمت پہ کھڑے دیکھ رہے ہیں | عاصی درِ رحمت پہ کھڑے دیکھ رہے ہیں | ||
کب چشمِ کرم اُن پہ پڑے ، دیکھ رہے ہیں | کب چشمِ کرم اُن پہ پڑے ، دیکھ رہے ہیں | ||
| سطر 299: | سطر 300: | ||
تُو گدایانِ محمدؐ کا گدا ہے ارسل | تُو گدایانِ محمدؐ کا گدا ہے ارسل | ||
بس اِسی واسطے دنیا میں بھرم تیرے ہیں | بس اِسی واسطے دنیا میں بھرم تیرے ہیں | ||
ریاض احمد شیخ: | ====ریاض احمد شیخ:==== | ||
طائرِ روح کا مسکن ہے ریاضِ احمد | طائرِ روح کا مسکن ہے ریاضِ احمد | ||
کیسے اغیار کے اشجار پہ ٹہرے جاکر | کیسے اغیار کے اشجار پہ ٹہرے جاکر | ||
| سطر 307: | سطر 308: | ||
ریاض سرورِ کونینؐ کے حصار میں ہے | ریاض سرورِ کونینؐ کے حصار میں ہے | ||
__________ | __________ | ||
زاہد فخری (لاہور): | ==== زاہد فخری (لاہور):==== | ||
دلوں سے غم مٹاتا ہے محمدؐ نام ایسا ہے | دلوں سے غم مٹاتا ہے محمدؐ نام ایسا ہے | ||
نگر اُجڑے بساتا ہے محمدؐ نام ایسا ہے | نگر اُجڑے بساتا ہے محمدؐ نام ایسا ہے | ||
| سطر 316: | سطر 317: | ||
میں اتنی دور ہوں لیکن مجھے حاصل مدینہ ہے | میں اتنی دور ہوں لیکن مجھے حاصل مدینہ ہے | ||
__________ | __________ | ||
علی اختر خلیق (اسلام آباد): | ====علی اختر خلیق (اسلام آباد):==== | ||
سرفرازی ہے دو عالم میں منافع میرا | سرفرازی ہے دو عالم میں منافع میرا | ||
عشقِ سرکارِ دو عالم مِرا سرمایا ہے | عشقِ سرکارِ دو عالم مِرا سرمایا ہے | ||
| سطر 322: | سطر 323: | ||
پر محمدؐ پہ تو اللہ کا دل آیا ہے | پر محمدؐ پہ تو اللہ کا دل آیا ہے | ||
__________ | __________ | ||
فائق ترابی (اٹک): | ====فائق ترابی (اٹک):==== | ||
میری مٹی سے کوئی دیپ بنایا جاتا | میری مٹی سے کوئی دیپ بنایا جاتا | ||
پھر ترے شہر کی گلیوں میں جلایا جاتا | پھر ترے شہر کی گلیوں میں جلایا جاتا | ||
| سطر 328: | سطر 329: | ||
اور پھولوں کی حفاظت پہ لگایا جاتا | اور پھولوں کی حفاظت پہ لگایا جاتا | ||
__________ | __________ | ||
ندیم شیخ (لاہور): | ====ندیم شیخ (لاہور):==== | ||
لکھوں گا نعتِ رسولِ اکرم تو بات اپنی بناؤں گا میں | لکھوں گا نعتِ رسولِ اکرم تو بات اپنی بناؤں گا میں | ||
مجھے یقیں ہے کہ ایسا کرنے سے سیدھا جنت میں جاؤں گا میں | مجھے یقیں ہے کہ ایسا کرنے سے سیدھا جنت میں جاؤں گا میں | ||
| سطر 337: | سطر 338: | ||
خدا کو یاد کیا تو مدد کو آیا درُود | خدا کو یاد کیا تو مدد کو آیا درُود | ||
__________ | __________ | ||
باقر علی زیدی: | ====باقر علی زیدی:==== | ||
ثنائے احمدِ مُرسلؐ کی سلسبیل پہ ہوں | ثنائے احمدِ مُرسلؐ کی سلسبیل پہ ہوں | ||
ابھی تو سلطنتِ نعت کی فصیل پہ ہوں | ابھی تو سلطنتِ نعت کی فصیل پہ ہوں | ||
| سطر 346: | سطر 347: | ||
جگمگاتے ہیں کسی نور کے ہالے کی طرح | جگمگاتے ہیں کسی نور کے ہالے کی طرح | ||
__________ | __________ | ||
ندیم سحر (لاہور): | ==== ندیم سحر (لاہور):==== | ||
بام و در روشنی ہر نگر روشنی | بام و در روشنی ہر نگر روشنی | ||
ہے مدینے کا سارا سفر روشنی | ہے مدینے کا سارا سفر روشنی | ||
| سطر 352: | سطر 353: | ||
ہو گیا میرا علم و ہنر روشنی | ہو گیا میرا علم و ہنر روشنی | ||
__________ | __________ | ||
نعیم رضا بھٹی (منڈی بہاؤالدین): | ==== نعیم رضا بھٹی (منڈی بہاؤالدین):==== | ||
نظامِ کُن میں ارتقا ضروری ہے | نظامِ کُن میں ارتقا ضروری ہے | ||
تِرا قلم تِری رضا ضروری ہے | تِرا قلم تِری رضا ضروری ہے | ||
| سطر 358: | سطر 359: | ||
مجھے حجاز کی ہَوا ضروری ہے | مجھے حجاز کی ہَوا ضروری ہے | ||
__________ | __________ | ||
ریاض خاور اعوان (اسلام آباد): | ==== ریاض خاور اعوان (اسلام آباد):==== | ||
صرف اُس جادۂ رحمت کے مَیاں دِکھتا ہے | صرف اُس جادۂ رحمت کے مَیاں دِکھتا ہے | ||
ورنہ ہر دیکھنے والے کو کہاں دِکھتا ہے | ورنہ ہر دیکھنے والے کو کہاں دِکھتا ہے | ||
| سطر 364: | سطر 365: | ||
جس کی کھڑکی سے پسِ کون و مکاں دِکھتا ہے | جس کی کھڑکی سے پسِ کون و مکاں دِکھتا ہے | ||
__________ | __________ | ||
شعیب کا شر (آزاد کشمیر): | ====شعیب کا شر (آزاد کشمیر):==== | ||
تجھ کو شایان ہے دارین کی شاہی، میرے ماہی | تجھ کو شایان ہے دارین کی شاہی، میرے ماہی | ||
میں تِری فوج کا اِک ادنیٰ سپاہی ، میرے ماہی | میں تِری فوج کا اِک ادنیٰ سپاہی ، میرے ماہی | ||
| سطر 370: | سطر 371: | ||
مِرے آقاؐ مِرے مولا مِرے ماہی، میرے ماہی | مِرے آقاؐ مِرے مولا مِرے ماہی، میرے ماہی | ||
__________ | __________ | ||
سائل نظامی (گجر خان): | ====سائل نظامی (گجر خان):==== | ||
یک لخت چمک اُٹھیں مِرے سوگ زدہ نین ، اے سیّدِ کونینؐ | یک لخت چمک اُٹھیں مِرے سوگ زدہ نین ، اے سیّدِ کونینؐ | ||
آنکھوں سے لگا پاؤں اگر آپؐ کے نعلین ، اے سیّدِ کونینؐ | آنکھوں سے لگا پاؤں اگر آپؐ کے نعلین ، اے سیّدِ کونینؐ | ||
| سطر 376: | سطر 377: | ||
جیسے درِ رحمت پہ پڑے ہیں مِرے اب غین ، اے سیّدِ کونینؐ | جیسے درِ رحمت پہ پڑے ہیں مِرے اب غین ، اے سیّدِ کونینؐ | ||
__________ | __________ | ||
شاہد: | ====شاہد: ==== | ||
زہے نصیب جو پالوں حضورؐ کے نعلین | زہے نصیب جو پالوں حضورؐ کے نعلین | ||
تو سر کا تاج بنا لوں حضورؐ کے نعلین | تو سر کا تاج بنا لوں حضورؐ کے نعلین | ||
| سطر 382: | سطر 383: | ||
جو اپنے گھر میں سجا لوں حضورؐ کے نعلین | جو اپنے گھر میں سجا لوں حضورؐ کے نعلین | ||
__________ | __________ | ||
خالد محبوب (بہاولپور): | ====خالد محبوب (بہاولپور):==== | ||
لفظ خود نعت کے امکان میں آ جاتے ہیں | لفظ خود نعت کے امکان میں آ جاتے ہیں | ||
جب بھی سرکارؐ مِرے دھیان میں آ جاتے ہیں | جب بھی سرکارؐ مِرے دھیان میں آ جاتے ہیں | ||
| سطر 388: | سطر 389: | ||
ضابطے جینے کے انسان میں آ جاتے ہیں | ضابطے جینے کے انسان میں آ جاتے ہیں | ||
__________ | __________ | ||
عبدالعزیز دباغ: | ====عبدالعزیز دباغ:==== | ||
میری اوقات کیا پوچھتے ہو میں ہوں خاشاکِ دُنیا کا سایا | میری اوقات کیا پوچھتے ہو میں ہوں خاشاکِ دُنیا کا سایا | ||
مجھ کو بوسے دِیے قدسیوں نے میں مدینے گیا اور آیا | مجھ کو بوسے دِیے قدسیوں نے میں مدینے گیا اور آیا | ||
نسخہ بمطابق 03:34، 17 جولائی 2019ء
تحسین فراقی (صدرِ مشاعرہ):
آنکھ کا روزن بند کریں اور دل کا دریچہ باز کریں
یادِ نبیؐ میں آؤ ہم بھی نعتِ نبیؐ آغاز کریں
پلکوں پر اشکوں کو سجا کر چھیڑیں راگ جدائی کا
دل کی لحظہ لحظہ دھڑکن کو اُن کا ہم راز کریں
سید ریاض حسین زیدی (ادب سرائے ساہیوال):
آداب ، حوصلے سبھی جینے کے آگئے
جس کی نظر میں رستے مدینے کے آگئے
دامانِ تار تار سے کیا دل گرفتگی
دل کو ہنر جو چاک کو سینے سے آگئے
وجدان ، دل ، شعور ، مقدر مہک اُٹھا
خوش بو بھرے خیال پسینے میں آگئے __________
رفیع الدین ذکی قریشی (لاہور):
آئے حبیبِ ربِ اکبر جاگ اُٹھا دنیا کا مقدر، صلی اللہ علیہ وسلّم
سمٹا سمٹا شب کا اندھیرا پھیلا پھیلا صبح کا منظر ، صلی اللہ علیہ وسلّم
یہ احترام کا دیکھا اثر مدینے میں
جھکی جھکی سی تھی ہر اک نظر مدینے میں
اُدھر اُدھر سے مہک آئی اُن کی زُلفوں کی
جِدھر جِدھر سے کیا تھا سفر مدینے میں
صدف چنگیزی (کوئٹہ):
روتے روتے کبھی احوال سنانا دل کا
رُکتے رُکتے کسی قابو میں نہ آنا دل کا
المدد میرے آقاؐ کہ دعا دوں اُن کو
آج پھر زخم اُبھر آیا ہے پرانا دل کا
ہچکیاں لینے سے زرخیز ہوئی دل کی زمیں
اب تو چھلکا ہُوا رہتا ہے خزانہ دل کا
پروفیسر عباس مرزا: =
آپؐ کو ہوگا عطا جوں ہی مقامِ محمود
پھر تو آئے گا مزا روزِ جزا دیکھنے کا
__________
میں ہوں پنجابی سو برکت کی خدائی چھوڑ کر
آپ نے سکھلایا تو مجھ میں خدا شامل ہُوا
__________
تبسّم مقصود کاظمی (دبئی):
اگر حضورؐ کے دندان موتیوں سے حَسیں
صدف کا حُسنِ رعایت ، حضورؐ کے شفتین
عمرؓ نے چوما تھا یہ کہہ کے سنگِ اَسود کو
بڑھا گئے تری عظمت ، حضورؐ کے شفتین
__________
ریاض ندیم نیازی (سبی): =
سو جاؤں دُعا کرکے پھر خواب میں روضہ ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو
جاگوں تو حضوری کا پیغام بھی آیا ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو
آقاؐ کے دوانو نے طیبہ میں سجائی ہو ، محفل بھی جمائی ہو
اور نام ہمارا بھی فہرست میں لکھّا ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو
نعتوں کے وسیلے سے عزت بھی ملے مجھ کو شہرت بھی ملے مجھ کو
قسمت میں ندیم اُس نے میری یہی لکھّا ہو ، اے کاش کہ ایسا ہو
سرور حسین نقشبندی (لاہور):
کچھ بھی نہ رہا اَوجِ ثریا میرے آگے
ہر آن ہے وہ نقشِ کفِ پا میرے آگے
ہریالی سی رہتی ہے خیالوں میں شب و روز
رہتا ہے جو وہ گنبدِ خضرا میرے آگے
کیا رنگ دکھائے ہیں ترے ذکر نے آقاؐ
بچھتی ہی چلی جاتی ہے دنیا میرے آگے
علی اصغر عباس (اسلام آباد):
خدا نے آپؐ سے جب رُو بہ رُو کلام کیا
درود آپؐ پہ بھیجا گیا سلام کیا
پسند آئی ہے اپنی ادا اُسے اتنی
زمین و آسماں پہ چرچا اُسی کا عام کیا
ابو الحسن خاور(لاہور):
صاحبِ شقِ قمر جس پہ عنایت کر دیں
وہ اگر آئینہ جوڑیں تو نشاں تک نہ رہے
ایک شب سیر کو نکلے تھے شہِ کون و مکاں
اور پھر کون و مکاں کون و مکاں تک نہ رہے
روزِ محشر تھا میرا نام ثناخوانوں میں
یعنی یہ شعر مِرے ایک جہاں تک نہ رہے
= منظر نقوی
اُس سرورِ لولاک کے در لگ کے کھڑا ہوں اور مدح سرا ہوں
الحمد کہ اولادِ محمدؐ کے غلاموں کا گدا ہوں اور مدح سرا ہوں
حسین امجد (حسن ابدال):
دل و نظر میں بسالوں مدینہ شہر کی خاک
اجل ٹہر ، میں ذرا لوں مدینہ شہر کی خاک
کبھی تو آنکھ سے چوموں میں حجرِ اَسود کو
کبھی تو آنکھ میں ڈالوں مدینہ شہر کی خاک
حضورؐ آپ کا منگتا ہوں میں حُسین امجدؔ
حضور کیا میں اُٹھا لوں مدینہ شہر کی خاک __________
نصرت (اسلام آباد):
یا نبیؐ بس آپؐ کی ہردم عنایت چاہیے روزِ محشر آپؐ کی مجھ کو شفاعت چاہیے نفسِ امارا میرا بن جائے نفسِ مطمئن بادشاہِ دین و دنیا کی اطاعت چاہیے نقشِ پائے رہبرِ دینِ مبینِ کبریا کام یابی کے لیے بس یہ ضمانت چاہیے حاضری دربارِ اقدس میں اگر درکار ہو عاجزی لہجے میں آنکھوں میں ندامت چاہیے __________
ذوالفقار علی دانش (حسن ابدالی):
لکھی ہے نعت یہ میں نے بہ صد ہزار ادب کہ اُنؐ کے در پہ کیا جائے گا شمار ادب خدائے پاک کی حمد اور نعتِ سرورِ دیں یہی تو ہے جسے کہتے ہیں شاہکارِ ادب تِرے ہی نام سے پاتا ہے ہر سخن توقیر تِرے ہی ذکر سے بنتا ہے شان دار ادب __________
نسیمِ سحر (راولپنڈی):
جتنے بھی دکھ ملے ہمیں اغیار کے سبب سب کا ازالہ ہوتا ہے سرکارؐ کے سبب انصافِ بے مثال کی قائم ہوئی مثال اِک کھردری چٹائی پہ دربار کے سبب کوئی عجب نہیں کہ نسیمِ سحر میری بخشش ہو اپنے نعتیہ اشعار کے سبب __________
طاہر علی سید (تونسہ شریف):
دم سادھے مؤدب ہوں میں کیا نیم شبی ہے مدحت کا نزول اور مِرے دل پہ بنی ہے اُس در کی گدائی سے مِلا ہے مجھے اتنا اب دل میں اگر ہے تو فقط بے طلبی ہے دنیا کو مُیسر ہُوا جب حُسنِ مجسّم تب جا کے کہیں عشق کی بنیاد پڑی ہے __________
بشریٰ فرخ:
تِرے بغیر تھی جو زندگی کہانی ہوئی جو تِری یاد میں گزری وہ جاودانی ہوئی میں دل کی آنکھوں سے پہچانتی ہوں یہ رستہ یہی جگہ تھی جہاں زیست پُرمعانی ہوئی میں دل اور آنکھیں مدینے میں چھوڑ آئی ہوں جہاں شروع محبت کی یہ کہانی ہوئی __________
عارف قادری (واہ کینٹ):=
یہ گھر کسی کو اور بسانے نہیں دیا دل سے نبیؐ کی یاد کو جانے نہیں دیا خوش ہیں کہ نعتِ سرورِ کونینؐ کے سِوا کچھ زندگی نے ہم کو کمانے نہیں دیا عارف میرے حضورؐ کو میری خبر نہ ہو ایسا خیال ذہن میں آنے نہیں دیا __________
حکیم خان حکیم:
بُلا کر عرشِ اعظم پر محبت سے تجھے آقاؐ خدا جب رو بہ رو ہو جائے تیری نعت ہوتی ہے دل کی دھڑکن میں آنکھوں کا اُجالا تم ہو میرے جینے میرے مرنے کا حوالہ تم ہو __________
واجد امیر:
شہرِ نبیؐ کو عرش بھی جب ہم نشیں کہے دل ایسے آسمان کو کیوں کر زمیں کہے اُنؐ سے ، سنی سنائی کو منسوب مت کرو وہ لفظ مت کہو جو اُنھوں نے نہیں کہے کہنے کو نعت ہو تو گئی ہے مگر حضورؐ جو شعر کہنا چاہتے تھے وہ نہیں کہے __________
اشفاق احمد غوری:
جہاں نوشابۂ لطف و کرم رکھا ہُوا ہے اُسی در پر سرِ تسلیمِ خم رکھا ہُوا ہے عطا ہوگا کبھی اِک نعت کا مقبول مصرعہ درِ اُمید پر کاغذ قلم رکھا ہُوا ہے مِرا ہر عیب دُنیا کی نگاہوں سے چھپا کر شہِ ابرار نے میرا بھرم رکھا ہوا ہے __________
سیدہ فرح شاہ:
درودِ پاک کے گجرے بنا کے لائی ہوں نبیؐ کی نعت کا یوں اہتمام کرنا ہے ردائے حُبِّ نبیؐ اوڑھ کر نکل آئی دل و نگاہ کو اُنؐ کا غلام کرنا ہے __________
یٰسین قمر:
سر بہ سر عجز قبلہ رُو ہوکر یادِ طیبہ سے مُشک بُو ہوکر جانے کب حکمِ نعت ہو جائے لفظ رہتے ہیں باوضو ہوکر __________
شبیر احمد شبیر:
جملہ اعداد نہ حرف مِلانے سے کھُلا حُجلۂ علم ترے غار میں آنے سے کھُلا ہم تو گنتی ہی گِنے جانے کے دھوکے میں رہے حُسنِ ترتیب ترے بعد میں آنے سے کھُلا __________
حسنین مُحسن:
کتنا مشکل ہے فاصلہ رکھنا نعت کو حمد سے جدا رکھنا نعت کے شعر کہہ رہا ہوں میں تم دِیے سے دِیا جلا رکھنا __________
اعجاز حسین گوجرانوالہ:
پیام دیتی ہے بادِ صبا مدینے سے نکہتیں نہیں ہوتیں جدا مدینے سے سوال چھوٹا کیا تھا مگر ، جہاں دونوں فقیر کاسے میں لے کر اُٹھا مدینے میں __________ س====یّد ثقلین نقوی (مدینہ شریف):==== اوڑھ کر عجز و عقیدت کی رِدا کہتا ہوں گوندھ کر حرفِ وِلا اُنؐ کی ثنا کہتا ہوں اُنؐ کا مولا میرے اس کام پہ خوش ہوتا ہے جب بھی میں صلِّ علیٰ صلِّ علیٰ کہتا ہوں __________
سلمان مسعود:
چشمِ فلک نے دیکھا ہے ایک نظارا ایسا بھی عشقِ نبیؐ نے کر دیا ایک سیاہ فام خاص شاہ و گدا کا امتیاز آکے مٹایا آپؐ نے آپؐ کی بارگاہ میں ہو گئے سارے عام ، خاص __________
صغیر احمد صغیرؔ:
میں ایک شام مدینے میں دیکھ آیا ہوں بڑے ادب سے ہے چلتی ہَوا مدینے میں سکونِ دائمی ، پوچھا ، کہاں سے ملتا ہے؟ تو اِک فقیر نے مجھ سے کہا ، مدینے میں __________
توقیر احمد:
سچ تو یہ ہے کہ بِنا نعت نہیں کھلتا ہے ایک زینہ جو سرِ عرشِ بریں کھلتا ہے ایک رستہ جو مدینے سے شروع ہوتا ہے دوسری سمت پہ جنت کے قریں ہوتا ہے __________
احسان علی حیدر:
بول ممکن تو نہیں پھر بھی اگر آتا ہے میرے آقاؐ سا کوئی اور نظر آتا ہے؟ شوقِ دیدار مِری آنکھ ذرا نم رکھیو خاک نم ہو تبھی ڈالی پہ ثمر آتا ہے نعت کہنے کے لیے خون سے سینچو الفاظ پھر مقدر سے کوئی مصرعۂ تر آتا ہے __________
ارسلان احمد ارسل:
عاصی درِ رحمت پہ کھڑے دیکھ رہے ہیں کب چشمِ کرم اُن پہ پڑے ، دیکھ رہے ہیں بچے تری سیرت سے ہوئے جاتے ہیں انجان اور اِس پہ ستم یہ کہ بڑے دیکھ رہے ہیں __________ ہم بناوٹ سے نہیں کہتے کہ ہم تیرے ہیں ہم ترے در کی اٹھاتے ہیں قسم تیرے ہیں تُو گدایانِ محمدؐ کا گدا ہے ارسل بس اِسی واسطے دنیا میں بھرم تیرے ہیں
ریاض احمد شیخ:
طائرِ روح کا مسکن ہے ریاضِ احمد کیسے اغیار کے اشجار پہ ٹہرے جاکر __________ جو اِک طرف ہے محمدؐ تو اِک طرف احمدؐ ریاض سرورِ کونینؐ کے حصار میں ہے __________
زاہد فخری (لاہور):
دلوں سے غم مٹاتا ہے محمدؐ نام ایسا ہے نگر اُجڑے بساتا ہے محمدؐ نام ایسا ہے __________ یہ دنیا اِک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے ہر اِک موجِ بلا کی راہ میں حائل مدینہ ہے کرم کتنا ہے فخری اُن کی ذاتِ پاک کا مجھ پر میں اتنی دور ہوں لیکن مجھے حاصل مدینہ ہے __________
علی اختر خلیق (اسلام آباد):
سرفرازی ہے دو عالم میں منافع میرا عشقِ سرکارِ دو عالم مِرا سرمایا ہے حُسنِ یوسف کی گواہی ہے زلیخا کی تڑپ پر محمدؐ پہ تو اللہ کا دل آیا ہے __________
فائق ترابی (اٹک):
میری مٹی سے کوئی دیپ بنایا جاتا پھر ترے شہر کی گلیوں میں جلایا جاتا کاش طیبہ کے گلستان کا کانٹا ہوتا اور پھولوں کی حفاظت پہ لگایا جاتا __________
ندیم شیخ (لاہور):
لکھوں گا نعتِ رسولِ اکرم تو بات اپنی بناؤں گا میں مجھے یقیں ہے کہ ایسا کرنے سے سیدھا جنت میں جاؤں گا میں __________ بہ فیضِ عجز و عنایت سمجھ میں آیا درُود لہو کو عشق سکھایا ، بدن بنایا درُود عجب نہیں تھا کہ اشکوں میں ڈوب جاتا میں خدا کو یاد کیا تو مدد کو آیا درُود __________
باقر علی زیدی:
ثنائے احمدِ مُرسلؐ کی سلسبیل پہ ہوں ابھی تو سلطنتِ نعت کی فصیل پہ ہوں __________ کشتِ ویراں میں سرسبز حوالے کی طرح تیرگی میں ہے کوئی نام اُجالے کی طرح خاک دانِ دلِ ہستی میں وہ مثلِ خورشید جگمگاتے ہیں کسی نور کے ہالے کی طرح __________
ندیم سحر (لاہور):
بام و در روشنی ہر نگر روشنی ہے مدینے کا سارا سفر روشنی نعت کہنے کو جب بھی اُٹھایا قلم ہو گیا میرا علم و ہنر روشنی __________
نعیم رضا بھٹی (منڈی بہاؤالدین):
نظامِ کُن میں ارتقا ضروری ہے تِرا قلم تِری رضا ضروری ہے فصاحتوں کی جس میں پڑا ہوں میں مجھے حجاز کی ہَوا ضروری ہے __________
ریاض خاور اعوان (اسلام آباد):
صرف اُس جادۂ رحمت کے مَیاں دِکھتا ہے ورنہ ہر دیکھنے والے کو کہاں دِکھتا ہے نعت پڑھتے ہوئے اِک حجرے میں آ جاتا ہوں جس کی کھڑکی سے پسِ کون و مکاں دِکھتا ہے __________
شعیب کا شر (آزاد کشمیر):
تجھ کو شایان ہے دارین کی شاہی، میرے ماہی میں تِری فوج کا اِک ادنیٰ سپاہی ، میرے ماہی ترے صدقے ترا شاعر ترے واری ترا کاشر مِرے آقاؐ مِرے مولا مِرے ماہی، میرے ماہی __________
سائل نظامی (گجر خان):
یک لخت چمک اُٹھیں مِرے سوگ زدہ نین ، اے سیّدِ کونینؐ آنکھوں سے لگا پاؤں اگر آپؐ کے نعلین ، اے سیّدِ کونینؐ اے پیکرِ رحمت مِرے بچوں کو بھی رکھنا منگتوں میں ہمیشہ جیسے درِ رحمت پہ پڑے ہیں مِرے اب غین ، اے سیّدِ کونینؐ __________
شاہد:
زہے نصیب جو پالوں حضورؐ کے نعلین تو سر کا تاج بنا لوں حضورؐ کے نعلین یہ مہر و ماہ زیارت کو میرے گھر آئیں جو اپنے گھر میں سجا لوں حضورؐ کے نعلین __________
خالد محبوب (بہاولپور):
لفظ خود نعت کے امکان میں آ جاتے ہیں جب بھی سرکارؐ مِرے دھیان میں آ جاتے ہیں آپؐ کی پیروی کرنے سے کھُلا ہے مجھ پر ضابطے جینے کے انسان میں آ جاتے ہیں __________
عبدالعزیز دباغ:
میری اوقات کیا پوچھتے ہو میں ہوں خاشاکِ دُنیا کا سایا مجھ کو بوسے دِیے قدسیوں نے میں مدینے گیا اور آیا میں نے صلِّ علیٰ کہہ کے جس دم طوفِ کعبہ سے رب کو پکارا میں کھڑا تھا مقامِ دُعا پر اُس نے چہرے سے پردہ ہٹایا اِک تجلّی سے روشن تھا سینہ میں نے کعبے میں دیکھا مدینہ نور کا یہ عجب سلسلہ ہے مجھ کو روضے نے کعبہ دِکھایا ٭٭٭