"پیار محمد" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(نیا صفحہ: برید ثانی کے عہد حکومت (۱۰۱۰ ھ تا ۱۰۱۸ھ) میں بیدر کے ایک شاعر پیارمحمد | پیار محمد بن عیسیٰ خاں قریش...)
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
برید ثانی کے عہد حکومت (۱۰۱۰ ھ تا ۱۰۱۸ھ) میں بیدر کے ایک شاعر [[پیارمحمد | پیار محمد بن عیسیٰ خاں قریشی]] نے جنسیات کے موضوع پر ایک [[مثنوی]] لکھی‘ جس کا نام بھوگ بل ہے۔ مولوی عبدالحق نے اس کا سنہ تصنیف درج ذیل شعر کی بنیاد پر ۱۰۲۳ھ میں بتایا ہے۔<ref> ۶۔مولوی عبدالحق،اردو زبان و ادب ،مرتبہ: ابن فرید علی گڑہ ،سنہ ندارد، ص ۶۴ بحوالہ [[دکنی مثنویوں میں نعت ۔ ڈاکٹر نسیم الدین فریس ]] </ref>
برید ثانی کے عہد حکومت (۱۰۱۰ ھ تا ۱۰۱۸ھ) میں بیدر کے ایک شاعر [[پیار محمد | پیار محمد بن عیسیٰ خاں قریشی]] نے جنسیات کے موضوع پر ایک [[مثنوی]] لکھی‘ جس کا نام بھوگ بل ہے۔ مولوی عبدالحق نے اس کا سنہ تصنیف درج ذیل شعر کی بنیاد پر ۱۰۲۳ھ میں بتایا ہے۔<ref> ۶۔مولوی عبدالحق،اردو زبان و ادب ،مرتبہ: ابن فرید علی گڑہ ،سنہ ندارد، ص ۶۴ بحوالہ [[دکنی مثنویوں میں نعت ۔ ڈاکٹر نسیم الدین فریس ]] </ref>





نسخہ بمطابق 19:02، 30 اکتوبر 2017ء

برید ثانی کے عہد حکومت (۱۰۱۰ ھ تا ۱۰۱۸ھ) میں بیدر کے ایک شاعر پیار محمد بن عیسیٰ خاں قریشی نے جنسیات کے موضوع پر ایک مثنوی لکھی‘ جس کا نام بھوگ بل ہے۔ مولوی عبدالحق نے اس کا سنہ تصنیف درج ذیل شعر کی بنیاد پر ۱۰۲۳ھ میں بتایا ہے۔<ref> ۶۔مولوی عبدالحق،اردو زبان و ادب ،مرتبہ: ابن فرید علی گڑہ ،سنہ ندارد، ص ۶۴ بحوالہ دکنی مثنویوں میں نعت ۔ ڈاکٹر نسیم الدین فریس </ref>


ہزار (اوپر) نیولیس تھے سال جب

کیا میں مرتب سوخوش حال سب

نمونہ کلام

قریشی کو فیروز بیدری (مصنف مثنوی پرت نامہ) سے بیعت حاصل تھی۔ ’’بھوگ بل‘‘ میں اس نے کوک شاستر کا دکنی زبان میں منظوم ترجمہ کیا ہے۔ اس مثنوی کا موضوع بھوگ بلاس اور نائکہ بھید ہے‘ لیکن مثنوی کی شروعات حسب دستور حمد و نعت سے کی گئی ہے۔ نعتیہ اشعار میں وہ کہتا ہے۔حق تعالیٰ نے نبیؐ پر سلام اور درود کے اعلیٰ ترین تحفے نثار کیے۔ دن رات نبیؐ پر ہزاروں سلام بھیجے۔ بے شک خدا ہی نبیؐ کے مقام ہیں۔ نبیؐ حق کے پیارے ہیں۔ خدا نے آپؐ پر تمام عنایتیں کیں۔


سلام ہوا دروداں کے تحفے اپار

محمد نبی پر کیا حق نثار

سداگال نس دن ہزاراں سلام

خدا تھے ہیں بے شک نبی کے مقام

ہمارے نبی کو خدا نے جس طرح نوازا ہے‘ دیگر انبیاء پر ایسی نظر عنایت نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرتؐ کے لیے فرمایا: ’’اگر آپؐ نہ ہوتے تو میں کوئی چیز خلق نہ کرتا۔‘‘

ہمارے نبی کوں خدا جوں دیا

نہ بعضے نبی کوں نظر یوں کیا

کھیارب محمد کیرے حق میں یوں

نہ ہوتا جے توں کچھ نپاتا نہ ہوں


آگے معراج کا ذکر کرتے ہوئے قریشی کہتا ہے کہ اس رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمنے حق تعالیٰ کی تجلیات کا مشاہدہ فرمایا۔ ایک پل میں سات آسمانوں کا سفر کیا،جہاں ملائک نے آپ کی خدمت کی۔ آپ کو ایسا قرب حق حاصل ہوا کہ حق تعالیٰ نے آپ سے بات کی۔ ایک رات میں سارے انعامات عطا فرمائے۔ حضرت موسیٰؑ نے کوہ طور پر چڑھ کر خدا سے کلام کیا تھا۔ ہمارے نبی سات آسمان کی بلندی پر گئے۔


اہے جس پر آئی سو معراج رین

نبی دیکھا ہے ربی کوں سوعین


چڑیا سات آکاس یک تل منے

ملائک کیے خدمتاں سب جنے

تقرب سوں کیتا خدا سات بات

دیا سب عنایت خدا ایک رات


کیا بات موسیٰ نے چڑکوہ طور

محمد چڑیا سات آکاس دور <ref> قریشی،مثنوی بھوگ بل (قلمی) مخطوطہ Illustraions مخزونہ سالار جنگ میوزیم حیدرآباد ،ص۳ بحوالہ دکنی مثنویوں میں نعت ۔ ڈاکٹر نسیم الدین فریس </ref>

مزید دیکھیے

حواشی و حوالہ جات