"فیصل قادری گنوری" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(نیا صفحہ: {{بسم اللہ }} {{ٹکر 1 }} زمرہ: نعت گو شعراء نام: محمد فیصؔل قادری تخلص: فیصل گنوری تاریخ پیدائش: 21 م...)
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 9: سطر 9:
تخلص: فیصل گنوری
تخلص: فیصل گنوری


تاریخ پیدائش: [[21 مئی ]] [[2015 ]]
تاریخ پیدائش: [[21 مئی ]] [[1995 ]]


ولدیت: جمیل احمد قادری
ولدیت: جمیل احمد قادری
سطر 141: سطر 141:


ہو فیصؔل کی بخشش کا سامان آقا
ہو فیصؔل کی بخشش کا سامان آقا
1
Manage

حالیہ نسخہ بمطابق 18:46، 23 مئی 2025ء


اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔

نام: محمد فیصؔل قادری

تخلص: فیصل گنوری

تاریخ پیدائش: 21 مئی 1995

ولدیت: جمیل احمد قادری

شہر : گنور اترپردیش, ہندوستان


نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

بیاں کس سے ہو آپ کی شان آقا

ہوئے عرش پر آپ مہمان آقا


ہے غم سے مرا دل پریشان آقا

مری مشکلیں بھی ہوں آسان آقا


ہو تم ہی میرا دین و ایمان آقا

دل و جان سب تم پہ قربان آقا


بروزِ جزا آسرا ہے تمہارا

ہو امت کے تم ہی نگہبان آقا


غریبوں سے الفت ! یتیموں پہ شفقت

ہیں کتنے دیالو ! دیاوان آقا


زمانے کے سلطاں گدا آپ کے ہیں

دو عالم کے ہیں آپ سلطان آقا


تمہاری بلندی کا ہے کیا ٹھکانہ

ہیں جبریل بھی در کے دربان آقا


یقیناً وہ ارشادِ رب العُلیٰ ہیں

تمہارے جو ہیں قول و فرمان آقا


جدھر آپ کی چشمِ رحمت ہوئی ہے

ہوا ہے ادھر فضلِ رحمان آقا


دکھایا ہمیں آپ نے حق کا رستہ

ملا آپ کے صدقے قرآن آقا


کرا دو مجھے بھی حرم کا نظارہ

ہو پورا مرے دل کا ارمان آقا


تمہارا نہیں کوئی ثانی جہاں میں

ہو تم سب سے اعلیٰ و ذیشان آقا


مدد کیجیے ظلم ڈھاتے ہیں ظالم

ہے گھیرے ہوئے غم کا طوفان آقا


سوئے ہند چشمِ کرم ہو خدارا

پریشان ہیں اب مسلمان آقا


کرو اپنے جلووں سے روشن خدارا

میرے دل کی دنیا ہے ویران آقا


منور کرے حجرہ ءِ عائشہ کو

تمہاری وہ پیاری سی مسکان آقا


بنایا ہمیں نام لیوا تمہارا

ہے خالق کا ہم پر یہ احسان آقا


بہائیں ہیں راتوں کو سجدوں میں آنسو

ہیں کس درجہ ہم پر مہربان آقا


ترے نام پر حرف آنے نہ دیں گے

لگا دیں گے ہم داؤ پر جان آقا


ہیں گھیرے ہوئے رنج و آفت کے بادل

سمسّیاؤں کا ہو سمادھان آقا


کلی فاطمہ پھول شبّیر و شبّر

گُلستانِ حیدر کا گُلدان آقا


ہو تم چاند ، تارے صحابہ تمہارے

ہیں صدیق ، فاروق و عثمان ، آقا


ہے حامی ہمارے بروزِ قیامت

شہِ مقتدر ، شاہِ جیلان ، آقا


ثنا خواں ہوں ادنیٰ سا میں بھی تمہارا

ہے مجھ پر تمہارا یہ فیضان آقا


نہیں نیکیاں اس کے فردِ عمل میں

ہو فیصؔل کی بخشش کا سامان آقا