"تبادلۂ خیال:رضی عظیم آبادی" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(نیا صفحہ: محمد رضی احمد، قلمی نام رضی عظیم آبادی کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ تاریخ پیدائش 27 اکتوبر 1947ء ہے۔...)
 
(تمام مندرجات حذف)
 
(ایک ہی صارف کا 2 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
محمد رضی احمد، قلمی نام رضی عظیم آبادی  کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ تاریخ پیدائش [[27 اکتوبر]] [[1947]]ء ہے۔ لیکن پیدائشی  سر ٹیفکیٹ میں [[20 فروری]] [[1953]]ء  درج کی گئ ہے  <ref> ڈاکٹر شہزاد احمد، ایک سو ایک پاکستانی نعت گو شعراء، رنگ ادب کراچی ، 2007 </ref> ۔ جائے پیدائش پان منڈی، [[کراچی]] ہے۔ آبائی وطن بہار (انڈیا) اور والد کا نام غلام مصطفی ہے۔


=== تعلیمی اور عملی زندگی ===
رضیؔ عظیم آبادی نے ابتدائی تعلیم کرنا فلی انگلش میڈیم اسکول سے حاصل کی۔ بعدازاں چاٹگام پورٹ ٹرسٹ ہائی اسکول سے 1968ء میں میٹرک کیا ۔ چاٹگام سٹی کالج سے ایف اے پاس کیا۔ مشرقی پاکستان میں قتل وغارت گری کے دوران اکتوبر 1971ء کو کراچی میں وارد ہوئے۔ علامہ اقبال کراچی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ایڈووکیٹ اور ممبر آف بار کونسل ہیں۔ جب کہ موجودہ پیشہ ’’ اکائونٹنگ ‘‘ ہے اور گیٹکو اینڈ ٹریڈنگ کمپنی کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
===  شاعری و نعت گوئی ===
رضیؔ عظیم آباد ی وہ خوش نصیب شاعر ہیں کہ جن کا اثاثۂ نعت وقیع ہے۔ غزل بھی کہتے ہیں مگر ان کا توشۂ نعت[[ آئینہ یزداں - رضی عظیم آبادی ]]  کے طفیل ’’ [[ذکر خیر الوریٰ ۔ رضی عظیم آبادی | ذکر خیر الوری ]]‘‘ سے مالا مال ہے۔ ’’ حلقہ مری زنجیر کا‘‘ غزلوں کا مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔
ذکرِ خیر الوریٰ میں رضیؔ عظیم آبادی کی نعتیہ شاعری کے حوالے سے محسن اعظم ملیح آبادی کا مضمون ہے۔ ’’ گفتنی‘‘ کے عنوان سے، رضیؔ عظیم آبادی نے کتاب کی غرض وغایت کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔شبنمؔ رومانی لکھتے ہیں ’’ جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفتر سے پروانۂ نجات مل جائے اسے اور کیا چاہیے۔‘‘پروفیسر آفاقؔ صدیقی لکھتے ہیں ۔ ’’ ان کی نعتوں کا یہ مجموعہ محسنِ انسانیت سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے قلبی وابستگی کا آئینہ دار ہے۔‘‘ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاؔصدیقی لکھتے ہیں۔ ’’ جناب رضیؔ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محبت اور عقیدت کو بڑے سلیقے، ہنرمندی اور جذباتِ فراواں کو مکمل تہذیب کے ساتھ پیش کیا ہے۔‘‘پروفیسر ڈاکٹر فرمانؔ فتح پوری لکھتے ہیں۔ ’’حاجی رضیؔ عظیم آبادی کی نعتیہ شاعری اسی لیے قاری کو اپنی طرف کھینچتی ہے کہ ان کا جذبۂ عشقِ جو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اور ان کے اسوئہ حسنہ سے وابستہ ہے۔‘‘پروفیسر ڈاکٹر ابرار کرت پوری لکھتے ہیں۔ ’’ ان کی نعت میں جذبات کی پاکیزگی و صداقت کے ساتھ جذبات کی فراوانی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔‘‘جمیلؔ عظیم آبادی لکھتے ہیں۔ ’’ رضیؔ عظیم آبادی چونکہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور جہاں نعت لکھتے ہیں عقیدت اور سرشاری کی کیفیت پیدا ہوجائے تو پھر نغمہ اور تغزل پیدا ہوجانا قدرتی عمل ہے۔‘‘
رضیؔ عظیم آبادی کی شاعری کو مہمیز دینے والوں میں کاوشؔ عمر، مبارکؔ مونگیری مرحوم، جمیلؔ عظیم آبادی، افسرؔ ماہ پوری کے نام شامل ہیں۔ جب کہ فہیمؔ ردولوی کے سامنے زانوئے تلمذتہ کیے۔
محمد رضیؔ صاحب کی نعتیہ شاعری میں جذبات کی روانی اور عقیدت کی جاودانی موجود ہے۔ ان کی نعتیں عقیدت کے ساتھ احتیاط کی علامت سے بھی مزّین ہیں۔

حالیہ نسخہ بمطابق 13:16، 16 اکتوبر 2017ء