"بلال رشید کی حمدیہ و نعتیہ شاعری" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(←‏مزید دیکھیے: نعت آقا)
 
(2 صارفین 8 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 5: سطر 5:
==== سننے والا ہے جو دعاوں کا ====
==== سننے والا ہے جو دعاوں کا ====


حمد
{{حمد}}
 
 


سننے والا ہے جو دعاؤں کا  
سننے والا ہے جو دعاؤں کا  
سطر 38: سطر 40:


مجھ سے عاجز کی التجاوں کا
مجھ سے عاجز کی التجاوں کا
==== مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے ====
{{حمد }}
مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے
حمد سے منسوب میرا نام ہے
جو صفات کبریا دے غیر کو
ایسے انساں کا برا انجام ہے
جس کا ہے توحید خالص پر یقیں
بس وہی تو صاحب اکرام ہے
شرک کی تعلیم دے منبر پہ جو
اپنے ہاں وہ داخل دشنام ہے
کیوں نہ عظمت دل میں ہو توحید کی
جب پیا میں نے غدیری جام ہے
نعت کہنا اور لکھنا حمد حق
اپنا تو معمول کا یہ کام ہے
میں نہیں کرتا رعایت ان کے ساتھ
مشرکوں کا مجھ پہ یہ الزام ہے
جن کو بھی چھبتے مرے اشعار ہیں
نام میرا ان کے ہاں بدنام ہے
سلطنت میں اہل ایماں کی بلال
ذکر اس کا ہی تو صبح و شام ہے


====رحمت عالم محمد مصطفی ====
====رحمت عالم محمد مصطفی ====
سطر 86: سطر 137:


[[بلال رشید ]]
[[بلال رشید ]]
نعت
مرا بھی رشتہ پیمبر سے استوار کیا
مرے خدا نے مجھے کتنا مالدار کیا
رضاۓ خالق - اکبر کا یہ وسیلہ هے
شهه - عرب نے جبھی فقر اختیار کیا
گنے بغیر ہمیشہ درود ھم نے پڑھا۔۔
اسے حضور نے محشر میں خود شمار کیا
ہر اک شرف میں جدا تھے وہ سارے نبیوں سے
کبھی حضور نے اس پر نہ افتخار کیا
ہے جرم آج کی دنیا میں زکر شاہ نجف
یہ جرم ہم نے عقیدت سے بار بار کیا
ازل سے خالق - یکتا نے خاص شفقت سے
مرے نبی کو زمانے کا تاجدار کیا
میں ان کے قول په شک کیوں کروں جہاں والو
همیشه جن په پیمبر نے اعتبار کیا
شریک اس میں کیا شاه نے ساری امت کو
جو راز ان په کوئی حق نے آشکار کیا
طلب کیا نہ خدا سے لزیز کھانا کبھی
فقط کھجور پہ آقا نے انحصار کیا
اسی په میں بھی رهوں گامزن سدا مولا
تیرے حبیب نے جس راه کو اختیار کیا
نه میرے بعد هو غافل نماز سے امت
مرے حضور کو اس غم نے بے قرار کیا
ادا میں شکر کروں کیسے زات - باری کا
کہ اس نے مجھ کو محمد کا جانثار کیا
ملی نجات اسی کو بروز - حشر بلال
وہ جس نے نفس کو احمد کا تابعدار کیا

حالیہ نسخہ بمطابق 22:41، 31 اگست 2017ء


بلال رشید کی حمدیہ و نعتیہ شاعری

سننے والا ہے جو دعاوں کا

حمدِ باری تعالی جل جلالہ


سننے والا ہے جو دعاؤں کا

دھوپ میں مہتمم ہے چھاؤں کا

سب عبادات ہیں اسی کے لیے؎

مدعا ہے وہی ثناؤں کا

انتظام اس کے پاس ہے سارا

بارشوں بادلوں ہواؤں کا

ہو کے واقف بھی سارے عیبوں سے

پردہ رکھتا ہے سب خطاؤں کا

اس کی عظمت وہ کیا سمھ پائے

جو ہو بندہ کئی خداؤں کا

سلسلہ اس سے جا کے ملتا ہے

ابتداؤں کا انتہاؤں کا

کون اس کے سوا سہارا ہے

ساری دینا کے بے نواوں کا

علم ہے اے بلال اس کو سب

مجھ سے عاجز کی التجاوں کا

مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے

حمدِ باری تعالی جل جلالہ


مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے

حمد سے منسوب میرا نام ہے


جو صفات کبریا دے غیر کو

ایسے انساں کا برا انجام ہے


جس کا ہے توحید خالص پر یقیں

بس وہی تو صاحب اکرام ہے


شرک کی تعلیم دے منبر پہ جو

اپنے ہاں وہ داخل دشنام ہے


کیوں نہ عظمت دل میں ہو توحید کی

جب پیا میں نے غدیری جام ہے


نعت کہنا اور لکھنا حمد حق

اپنا تو معمول کا یہ کام ہے


میں نہیں کرتا رعایت ان کے ساتھ

مشرکوں کا مجھ پہ یہ الزام ہے


جن کو بھی چھبتے مرے اشعار ہیں

نام میرا ان کے ہاں بدنام ہے


سلطنت میں اہل ایماں کی بلال

ذکر اس کا ہی تو صبح و شام ہے

رحمت عالم محمد مصطفی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

رحمت عالم محمد مصطفی

نازش آدم محمد مصطفی

سب سے اونچا ہوگا روز حشر بھی

آپ کا پرچم محمد مصطفی

یاد طیبہ میں یہ آنکھیں آج بھی

ہوتیں ہیں پرنم محمد مصطفی

آپ کی نعتیں سنانے کے سبب

مٹ گئے سب غم محمد مصطفی

تا قیامت اب بھرینگے اہل دیں

آپ کا ہی دم محمد مصطفی

تھے شب اسری میں خالق کے فقط

آپ ہی محرم محمد مصطفی

کاش خود آکر سناؤں آپ کو

اپنے سارے غم محمد مصطفی

کاش محشر میں بنیں بحر بتول

میرے بھی ہمدم محمد مصطفی

آپ کی رحمت پہ اس نادار کو

ہے یقیں محکم محمد مصطفی

آپ کا ہی اسم عالی یہ بلال

لیتا ہے ہر دم محمد مصطفی

مزید دیکھیے

بلال رشید