"شان نبی منشی پیارے لال صاحب رونق دہلوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
(نیا صفحہ: شان نبی ستارہ اوج پر کیونکر نہ ہو شان نبوت کا فلک منظر ہے رتبہ تیرے احکام شریعت کا کھلا تجھ سے جہ...)
 
 
(ایک ہی صارف کا 3 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{بسم اللہ }}


شان نبی
شاعر: [[رونق دہلوی | پیارے لال صاحب رونق دہلوی ]]
 
=== شان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ===


ستارہ اوج پر کیونکر نہ ہو شان نبوت کا
ستارہ اوج پر کیونکر نہ ہو شان نبوت کا


فلک منظر ہے رتبہ تیرے احکام شریعت کا
فلک منظر ہے رتبہ تیرے احکام شریعت کا


کھلا تجھ سے جہاں میں راز سربستہ حقیقت کا
کھلا تجھ سے جہاں میں راز سربستہ حقیقت کا


دکھایا حسن کثرت میں ہے جلوہ راز وحدت کا
دکھایا حسن کثرت میں ہے جلوہ راز وحدت کا


نہ تجھ سا پیشوائے دیں اگر پیدا یہاں ہوتا
نہ تجھ سا پیشوائے دیں اگر پیدا یہاں ہوتا


نہ بنیاد زمیں ہوتی نہ قائم آسماں ہوتا
نہ بنیاد زمیں ہوتی نہ قائم آسماں ہوتا
سطر 22: سطر 20:


جہاں میں تو نے چمکایا ہے وہ آئینہ قرآں کا
جہاں میں تو نے چمکایا ہے وہ آئینہ قرآں کا


کہ جس سے ہر طرف پھیلا ہوا ہے نور ایماں کا
کہ جس سے ہر طرف پھیلا ہوا ہے نور ایماں کا


ضیاءدیں ہے بہر چشم عالم باب عرفاں کا
ضیاءدیں ہے بہر چشم عالم باب عرفاں کا


دلوں میں تو نے جلوہ بھر دیا توحید یزداں کا
دلوں میں تو نے جلوہ بھر دیا توحید یزداں کا


جلائی بزم امکاں میں وہ مشعل حق پرستی کی
جلائی بزم امکاں میں وہ مشعل حق پرستی کی


ہوئی روشن حقیقت جس سے تیری پاک ہستی کی
ہوئی روشن حقیقت جس سے تیری پاک ہستی کی
سطر 41: سطر 34:


تجھے ختم الرسل کہتے ہیں شاہ انبیاء تو ہے
تجھے ختم الرسل کہتے ہیں شاہ انبیاء تو ہے


جناب سرور عالم محمد مصطفی تو ہے
جناب سرور عالم محمد مصطفی تو ہے


یہ حق ہے نائب حق ہے حبیب کبریاء تو ہے
یہ حق ہے نائب حق ہے حبیب کبریاء تو ہے


ہمارا ہیشوائے دیں ہمارا راہنما تو ہے
ہمارا ہیشوائے دیں ہمارا راہنما تو ہے


ہوئی ہے دم قدم سے تیرے مذہب کی فراوانی
ہوئی ہے دم قدم سے تیرے مذہب کی فراوانی


تجھی سے ہے یہاں قائم یہ بنیاد مسلمانی
تجھی سے ہے یہاں قائم یہ بنیاد مسلمانی
سطر 60: سطر 48:


نہ ہوتا کیوں زمانہ معتقد تیری رسالت کا
نہ ہوتا کیوں زمانہ معتقد تیری رسالت کا


چلایا ہر طرف تو نے یہاں سکہ شریعت کا
چلایا ہر طرف تو نے یہاں سکہ شریعت کا


ہوا عالم ہر اک لے کر سبق قرآں کی آیت کا
ہوا عالم ہر اک لے کر سبق قرآں کی آیت کا


چلن ہر سو ہوا تجھ سے عبادت کا ریاضت کا
چلن ہر سو ہوا تجھ سے عبادت کا ریاضت کا


جبھی تجھ کو شفیع دو جہاں حق نے بنایا ہے
جبھی تجھ کو شفیع دو جہاں حق نے بنایا ہے


کلام پاک میں نام محمد صاف آیا ہے
کلام پاک میں نام محمد صاف آیا ہے
سطر 79: سطر 62:


حقیقت میں مطیع حکم ہے سارا جہاں تیرا
حقیقت میں مطیع حکم ہے سارا جہاں تیرا


تسلط ہے دوعالم میں یہاں تیرا وہاں تیرا
تسلط ہے دوعالم میں یہاں تیرا وہاں تیرا


زمیں پر بھی ہے گھر تیرا فلک پر بھی مکاں تیرا
زمیں پر بھی ہے گھر تیرا فلک پر بھی مکاں تیرا


نشان حق سے ملتا ہے ہر اک جا پر نشاں تیرا
نشان حق سے ملتا ہے ہر اک جا پر نشاں تیرا


دل رونق نے ڈھونڈا جس طرف تجھ کو ادھر پایا
یہاں بھی جلوہ گر پایا، وہاں بھی جلوہ گر پایا


دل رونق نے ڈھونڈا جس طرف تجھ کو ادھر پایا


=== مجموعہ ہائے کلام  ===


یہاں بھی جلوہ گر پایا، وہاں بھی جلوہ گر پایا
کلام رونق


=== مزید دیکھیے ===


(مجموعہ کلام - کلام رونق)
[[رونق دہلوی ]]

حالیہ نسخہ بمطابق 13:48، 15 اپريل 2017ء


شاعر: پیارے لال صاحب رونق دہلوی

شان نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

ستارہ اوج پر کیونکر نہ ہو شان نبوت کا

فلک منظر ہے رتبہ تیرے احکام شریعت کا

کھلا تجھ سے جہاں میں راز سربستہ حقیقت کا

دکھایا حسن کثرت میں ہے جلوہ راز وحدت کا

نہ تجھ سا پیشوائے دیں اگر پیدا یہاں ہوتا

نہ بنیاد زمیں ہوتی نہ قائم آسماں ہوتا


جہاں میں تو نے چمکایا ہے وہ آئینہ قرآں کا

کہ جس سے ہر طرف پھیلا ہوا ہے نور ایماں کا

ضیاءدیں ہے بہر چشم عالم باب عرفاں کا

دلوں میں تو نے جلوہ بھر دیا توحید یزداں کا

جلائی بزم امکاں میں وہ مشعل حق پرستی کی

ہوئی روشن حقیقت جس سے تیری پاک ہستی کی


تجھے ختم الرسل کہتے ہیں شاہ انبیاء تو ہے

جناب سرور عالم محمد مصطفی تو ہے

یہ حق ہے نائب حق ہے حبیب کبریاء تو ہے

ہمارا ہیشوائے دیں ہمارا راہنما تو ہے

ہوئی ہے دم قدم سے تیرے مذہب کی فراوانی

تجھی سے ہے یہاں قائم یہ بنیاد مسلمانی


نہ ہوتا کیوں زمانہ معتقد تیری رسالت کا

چلایا ہر طرف تو نے یہاں سکہ شریعت کا

ہوا عالم ہر اک لے کر سبق قرآں کی آیت کا

چلن ہر سو ہوا تجھ سے عبادت کا ریاضت کا

جبھی تجھ کو شفیع دو جہاں حق نے بنایا ہے

کلام پاک میں نام محمد صاف آیا ہے


حقیقت میں مطیع حکم ہے سارا جہاں تیرا

تسلط ہے دوعالم میں یہاں تیرا وہاں تیرا

زمیں پر بھی ہے گھر تیرا فلک پر بھی مکاں تیرا

نشان حق سے ملتا ہے ہر اک جا پر نشاں تیرا

دل رونق نے ڈھونڈا جس طرف تجھ کو ادھر پایا

یہاں بھی جلوہ گر پایا، وہاں بھی جلوہ گر پایا


مجموعہ ہائے کلام[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

کلام رونق

مزید دیکھیے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

رونق دہلوی