"یاور وارثی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 3: | سطر 3: | ||
[[زمرہ: نعت گو شعراء ]] | [[زمرہ: نعت گو شعراء ]] | ||
{{بسم اللہ }} | {{بسم اللہ }} | ||
ڈاکٹر شکیل اعظمی لکھتے ہیں | |||
" کانپور کی سر زمین بڑی مردم خیز اور معارف پرور رہی ہے۔ ہر دور میں اس کے آسمانِ ادب پر فکر و فن اور شعر و سخن کے ماہ و انجم چمکتے رہے ہیں۔ جن کی روشنی پورے عالم ادب پر ضوفگن رہی ہے ۔ثاقب کانپوری ، کوثر جائسی، شارق ایرانی ،نشور واحدی، فنا نظامی ، ندرت کانپوری ، افسر ناروی, زیب غوری ، پروفیسر ابوالحسنات حقی ، عشرت ظفر ، حسن عزیز ، زبیر شفائی محمد احمد رمز ،ناظر صدیقی ، سید وسیم الحسن ہاشمی ، مصطفیٰ فراز، اسلم محمود ،آصف صفوی، حنیف صابری، مولانا قاسم حبیبی، مولانا میکائیل ضیائی ، قمر سلیمانی ، حق کانپوری وغیرہ دبستانِ کانپور کی ایسی آوازیں ہیں جنھیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اسی سلسلے کی زریں کڑی کانام ہے یاور وارثی۔ حضرت یاور وارثی مملکت شعر و سخن کے بے تاج بادشاہ ہیں اور دنیائے شاعری میں وہ عقبریت کے مقام پر فائز ہیں۔ انھوں نے حمد ، نعت، منقبت ، غزل، نظم ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے اس خوبی کے ساتھ کہ ان کی غزلوں کا مطالعہ کریں تو لگتا ہے کہ غزل ہی ان کا خاص میدان ہے اور ان کی نعتوں کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ہرصنف سے منہ موڑ کر صرف نعت پر ہی اپنی پوری توانائی صرف کی ہے ۔ جب کہ یہ ہمہ گیر فکر کے حامل ہیں اور شاعری کے ہر میدان کے شہسوار ہیں۔ یہ فطری شاعر ہیں شاعری ان کو وراثت میں ملی ہے ۔ شعر خود ان کا تعاقب کرتا ہے ۔ وہ شعر کے پیچھے نہیں پڑتے ہیں اس لیے ان کا قلم رواں دواں ہے نہ وہ تھکتا ہے اور نہ خشک ہوتا ہے۔" | |||
=== حمدیہ و نعتیہ شاعری === | === حمدیہ و نعتیہ شاعری === | ||
| سطر 8: | سطر 14: | ||
* [[کھلتے رستے جنگل صحرا جو کچھ ہے سب ان کا ہے ۔ یاور وارثی | کھلتے رستے جنگل صحرا جو کچھ ہے سب ان کا ہے ]] | * [[کھلتے رستے جنگل صحرا جو کچھ ہے سب ان کا ہے ۔ یاور وارثی | کھلتے رستے جنگل صحرا جو کچھ ہے سب ان کا ہے ]] | ||
* [[ مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں ۔ یاور وارثی | مرے آقا کی مسجد کے کنارے داد دیتے ہیں ]] | * [[ مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں ۔ یاور وارثی | مرے آقا کی مسجد کے کنارے داد دیتے ہیں ]] | ||
=== مزید دیکھیے === | === مزید دیکھیے === | ||
[[ فاضل اشرفی ]] | [[ نواز اعظمی ]] | [[وحید القادری عارف ]] | [[یاور وارثی ]] | | [[ فاضل اشرفی ]] | [[ نواز اعظمی ]] | [[وحید القادری عارف ]] | [[یاور وارثی ]] | | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 23:12، 7 مئی 2022ء
ڈاکٹر شکیل اعظمی لکھتے ہیں
" کانپور کی سر زمین بڑی مردم خیز اور معارف پرور رہی ہے۔ ہر دور میں اس کے آسمانِ ادب پر فکر و فن اور شعر و سخن کے ماہ و انجم چمکتے رہے ہیں۔ جن کی روشنی پورے عالم ادب پر ضوفگن رہی ہے ۔ثاقب کانپوری ، کوثر جائسی، شارق ایرانی ،نشور واحدی، فنا نظامی ، ندرت کانپوری ، افسر ناروی, زیب غوری ، پروفیسر ابوالحسنات حقی ، عشرت ظفر ، حسن عزیز ، زبیر شفائی محمد احمد رمز ،ناظر صدیقی ، سید وسیم الحسن ہاشمی ، مصطفیٰ فراز، اسلم محمود ،آصف صفوی، حنیف صابری، مولانا قاسم حبیبی، مولانا میکائیل ضیائی ، قمر سلیمانی ، حق کانپوری وغیرہ دبستانِ کانپور کی ایسی آوازیں ہیں جنھیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اسی سلسلے کی زریں کڑی کانام ہے یاور وارثی۔ حضرت یاور وارثی مملکت شعر و سخن کے بے تاج بادشاہ ہیں اور دنیائے شاعری میں وہ عقبریت کے مقام پر فائز ہیں۔ انھوں نے حمد ، نعت، منقبت ، غزل، نظم ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے اس خوبی کے ساتھ کہ ان کی غزلوں کا مطالعہ کریں تو لگتا ہے کہ غزل ہی ان کا خاص میدان ہے اور ان کی نعتوں کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ہرصنف سے منہ موڑ کر صرف نعت پر ہی اپنی پوری توانائی صرف کی ہے ۔ جب کہ یہ ہمہ گیر فکر کے حامل ہیں اور شاعری کے ہر میدان کے شہسوار ہیں۔ یہ فطری شاعر ہیں شاعری ان کو وراثت میں ملی ہے ۔ شعر خود ان کا تعاقب کرتا ہے ۔ وہ شعر کے پیچھے نہیں پڑتے ہیں اس لیے ان کا قلم رواں دواں ہے نہ وہ تھکتا ہے اور نہ خشک ہوتا ہے۔"
حمدیہ و نعتیہ شاعری
