"سانچہ:منتخب نعت خواں" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ایک ہی صارف کا 8 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 4: سطر 4:
|
|
{|  "  style="float:right; margin-left: 10px;"
{|  "  style="float:right; margin-left: 10px;"
| [[ملف:Naat_Kainaat_Qari_Zubaid_Rasool.jpg|x200px|link=زبید رسول]]
| [[ملف:Naat_Kainaat_Qari_Zubaid_Rasool.jpg|x152px|link=زبید رسول]]
|}  
|}  
قاری زبید رسول [[ محمد علی ظہوری  | الحاج محمد علی ظہوری ]] کے شاگرد تھے اور نعت خوانی میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کے بارے فرمایا جاتا ہے کہ آپ اس عشق و عقیدت سے پڑھتے تھے کہ ایک بار نعت کے لئے کھڑے ہوتے تو آنکھیں بند کر کے حضوری کی کیفیت میں چلے جاتے ۔ اور دوبارہ آنکھیں اسی وقت کھولتے جب حاضری مکمل ہو جاتی ۔ حتی کے ایک واقعہ بیان کی جاتا ہے کہ آپ نے ایک بار نعت مبارکہ شروع کی تو بارش ہو گئی  اور حاضرین منشر ہو گئے ۔ لیکن آپ حضوری کی کیفیت میں نعت ادا کرتے رہے ۔ پاکستان کے صف اول کے نقیب [[اختر سدیدی ]] فرماتے ہیں۔ " قاری زبید رسول صاحب جب مائک پر تشریف لاتے تھے تو آنکھیں بند کر لیا کرتے تھے ۔  تو میں نے ان سے یہ پوچھا ۔ لوگ آپ کو نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔ آپ اپنے محبت کرنے والوں کو ایک نظر دیکھ ہی لیا کریں ۔ تو فرمانے لگے قبلہ سدیدی صاحب، جب میں مائیک پر آتا ہوں تو گنبد خضریِ کا تصور کرکے آنکھیں بند کرتا ہوں اور پھر نعت پڑھتا ہوں۔ اب میں گنبد ِ خضری کو دیکھوں یا گنبد خضری پر قربان ہونے والوں کو دیکھوں ۔ آپ [[22 فروری]] [[1990]] کو ایک محفل نعت سے واپسی میں ایک حادثے میں فوت ہوئے  |}
قاری زبید رسول [[ محمد علی ظہوری  | الحاج محمد علی ظہوری ]] کے شاگرد تھے اور نعت خوانی میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کے بارے فرمایا جاتا ہے کہ آپ اس عشق و عقیدت سے پڑھتے تھے کہ ایک بار نعت کے لئے کھڑے ہوتے تو آنکھیں بند کر کے حضوری کی کیفیت میں چلے جاتے ۔ اور دوبارہ آنکھیں اسی وقت کھولتے جب حاضری مکمل ہو جاتی ۔   [[زبید رسول| مزید دیکھیے ]]
 
|}

نسخہ بمطابق 18:23، 28 جنوری 2018ء

اس ماہ کا اہم نعت خواں

قاری زبید رسول الحاج محمد علی ظہوری کے شاگرد تھے اور نعت خوانی میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کے بارے فرمایا جاتا ہے کہ آپ اس عشق و عقیدت سے پڑھتے تھے کہ ایک بار نعت کے لئے کھڑے ہوتے تو آنکھیں بند کر کے حضوری کی کیفیت میں چلے جاتے ۔ اور دوبارہ آنکھیں اسی وقت کھولتے جب حاضری مکمل ہو جاتی ۔ مزید دیکھیے