"سانچہ:منتخب نعت خواں" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(2 صارفین 12 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 4: سطر 4:
|
|
{|  "  style="float:right; margin-left: 10px;"
{|  "  style="float:right; margin-left: 10px;"
| [[ملف:Naat kainat junaid jamshed.jpg|150px|link=جنید جمشید]]
| [[ملف:Naat_Kainaat_Qari_Zubaid_Rasool.jpg|x152px|link=زبید رسول]]
|}  
|}  
[[3 ستمبر ]] [[1969]] کو کراچی میں پیدا ہونے والے [[جنید جمشید]] نے [[لاہور]] کی یو ای ٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی،انہوں نے ’’دل دل پاکستان‘‘کا ملی نغمہ گا کر عالمی شہرت حاصل کی، ان کے گروپ وائٹل سائنز کو بھی اسی ملی نغمے سے پہچان ملی۔دل دل پاکستان سے 80ءکی دہائی کے آخری سالوں میں اس دور کے ہر نوجوان کے دل میں اترنے والی اس آواز کو ہماری پاپ کی تاریخ میں ایک آئیکون کی حیثیت حاصل ہے۔تاہم 2002ءمیں اپنی چوتھی اور آخری پاپ البم کے بعد اسلامی تعلیمات کی جانب ان کا رجحان بڑھنے لگا اور ماضی کے پاپ اسٹار ایک [[نعت خواں]] کے طور پر ابھرتے نظر آئے۔2004ءمیں [[جنید جمشید]] نے گلوکاری چھوڑنے اور اپنی زندگی تبلیغی کاموں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا۔  بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق دل دل پاکستان دنیا کے پراثرترین قومی نغموں میں بھی شامل ہے جسے پاکستان کا دوسرا قومی ترانہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جنید جمشید کو 2007 میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ وائٹل سائنز نے دنیا بھر میں نام روشن کیا اور بہترین دھنیں پیش کیں۔90ءکے عشرے میں یہ گروپ باہمی اختلافات کا شکار ہوا لیکن جنید جمشید نے اپنا فنی سفر جاری رکھا۔
قاری زبید رسول [[ محمد علی ظہوری  | الحاج محمد علی ظہوری ]] کے شاگرد تھے اور نعت خوانی میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کے بارے فرمایا جاتا ہے کہ آپ اس عشق و عقیدت سے پڑھتے تھے کہ ایک بار نعت کے لئے کھڑے ہوتے تو آنکھیں بند کر کے حضوری کی کیفیت میں چلے جاتے ۔ اور دوبارہ آنکھیں اسی وقت کھولتے جب حاضری مکمل ہو جاتی ۔  [[زبید رسول| مزید دیکھیے ]]
 
|}
|}

نسخہ بمطابق 18:23، 28 جنوری 2018ء

اس ماہ کا اہم نعت خواں

قاری زبید رسول الحاج محمد علی ظہوری کے شاگرد تھے اور نعت خوانی میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ کے بارے فرمایا جاتا ہے کہ آپ اس عشق و عقیدت سے پڑھتے تھے کہ ایک بار نعت کے لئے کھڑے ہوتے تو آنکھیں بند کر کے حضوری کی کیفیت میں چلے جاتے ۔ اور دوبارہ آنکھیں اسی وقت کھولتے جب حاضری مکمل ہو جاتی ۔ مزید دیکھیے