"سانچہ:کیا آپ جانتے ہیں؟" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ایک ہی صارف کا 15 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 2: سطر 2:
! style="text-align:right; color: green; background-color:##eae8e0" colspan="8| کیا آپ جانتے ہیں؟
! style="text-align:right; color: green; background-color:##eae8e0" colspan="8| کیا آپ جانتے ہیں؟
|-
|-
|
|  
{|  style="float:right; margin-left: 10px;"
[[ملف:Naat Kainat Qaseed al burda.png|150px]]
|[[ملف:Naat Kainat Qaseed al burda.png |150px]]
| [[قصیدہ بردہ شریف ]] کے شاعر [[امام بوصیری ]] کی ولادت یکم شوال608ھ یا610ھ ([[1211]]ء) میں مصر کے ایک گاؤں بوصیری میں ہوئی ۔ پورا نام شرف الدین ابو عبداللہ محمد بن سعید بن حماد بن محسن بن عبداللہ الصنہاجی،البوصیری ہے ۔یہ مصری شاعر نسلاً بربر تھے۔اور شاعر ی میں ابنِ حناء کی سرپرستی حاصل تھی ۔اُن کی تمام تر شاعری کا مرکز و محور مذہب اور تصوف رہا۔ تصوف میں ابو الحسن شاذلی کی بیعت کی۔ امام بوصیری کی وفات 694ھ یا 695ھ یا 696ھ میں اسکندریہ میں ہوئی ۔  
|}
|-
[[قصیدہ بردہ شریف ]] کے شاعر [[امام بوصیری ]] شاعر نسلاً بربر تھے۔اور شاعر ی میں ابنِ حناء کی سرپرستی حاصل تھی ۔اُن کی تمام تر شاعری کا مرکز و محور مذہب اور تصوف رہا۔ تصوف میں ابو الحسن شاذلی کی بیعت کی۔ امام بوصیری کی وفات 694ھ یا 695ھ یا 696ھ میں اسکندریہ میں ہوئی ۔  
|
{|  style="float:right; margin-left: 10px;"
|[[ملف: Jami.jpg|150px ]]
|[[ملف: Jami.jpg|150px ]]
|}
| [[عبد الرحمن جامی | مولانا نور الدین عبد الرحمن المعروف مولانا جامی]] (([[1414]]-[[1492]])) صوبہ خراسان کے ایک قصبہ خرجرد میں پیدا ہوئے۔اوائل عمر ہی میں آپ اپنے والد کے ساتھ ہرات اور پھر سمرقند  کا سفر کیا ۔ جہاں علم و ادب کی تحصیل کی اور دینی علوم، ادب اور تاریخ میں کمال  پایا ۔ تصوف کا درس سعد الدین محمد کاشغری سے لیا ۔اور  مسند ارشاد تک رسائی ملی ۔  حج بیت اللہ کے لیے بھی گئے اور دمشق سے ہوتے ہوئے تبریز گئے اور پھر ہرات پہنچے۔ جامی ایک صوفی صافی اور اپنے دور کے بہت بڑے عالم تھے۔تصوف کا معتبر نام اور فنِ شاعری میں بھی یکتا
[[عبد الرحمن جامی | مولانا نور الدین عبد الرحمن المعروف مولانا جامی]] (([[1414]]-[[1492]])) صوبہ خراسان کے ایک قصبہ خرجرد میں پیدا ہوئے۔اوائل عمر ہی میں آپ اپنے والد کے ساتھ ہرات اور پھر سمرقند  کا سفر کیا ۔
|-
|
| [[ملف:Naat Kainaat P Seemab Akbar Abadi.jpg|150px]]
{|  style="float:right; margin-left: 10px;"
| [[سیماب اکبر آبادی]] کا بنیادی وصف آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات گرامی سے بے پناہ عشق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی [[نعت گوئی]] اور ان کی قومی و ملی شاعری میں جگہ جگہ اللہ کے پیارے رسول صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی الفت و محبت کے حوالے ملتے ہیں۔ سیماب اکبر آبادی کی نعت گوئی ان کی زودگوئی، سخن فہمی اور قادر الکلامی سے عبارت ہے۔ ان کی نعتیں عوام الناس اور بالخصوس حلقۂ خواص میں بے حد پسند کی جاتی ہیں۔
|[[ملف:Naat Kainaat P Seemab Akbar Abadi.jpg|150px]]
|}
[[سیماب اکبر آبادی]] کا بنیادی وصف آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات گرامی سے بے پناہ عشق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی [[نعت گوئی]] اور ان کی قومی و ملی شاعری میں جگہ جگہ اللہ کے پیارے رسول صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی الفت و محبت کے حوالے ملتے ہیں۔
|
{|  style="float:right; margin-left: 10px;"
| [[ملف:Dargah ala hazrat ahmad raza by sambhali turki-d41h2at.jpg|130px|link=احمد رضا خان بریلوی]]
|}
[[ احمد رضا خان بریلوی ]] کی تربیت ایک علمی گھرانہ میں ہوئی جس کے نتیجہ میں آپ نے صرف چار ، پانچ برس کی عمر میں [[قرآن مجید]] ناظرہ ختم کرلیا تھا اور اپنی بے پنا ہ خداداد صلاحیتوں اور حیرت انگیز قوت حافظہ کی بناء پر صرف تیرہ سال اور دس ماہ کی عمر میں علم تفسیر، حدیث، فقہ و اصول فقہ، منطق و فلسفہ علم کلام اور مروجہ علوم دینیہ کی تکمیل کرلی
|}
|}

نسخہ بمطابق 03:29، 23 ستمبر 2017ء

کیا آپ جانتے ہیں؟

قصیدہ بردہ شریف کے شاعر امام بوصیری کی ولادت یکم شوال608ھ یا610ھ (1211ء) میں مصر کے ایک گاؤں بوصیری میں ہوئی ۔ پورا نام شرف الدین ابو عبداللہ محمد بن سعید بن حماد بن محسن بن عبداللہ الصنہاجی،البوصیری ہے ۔یہ مصری شاعر نسلاً بربر تھے۔اور شاعر ی میں ابنِ حناء کی سرپرستی حاصل تھی ۔اُن کی تمام تر شاعری کا مرکز و محور مذہب اور تصوف رہا۔ تصوف میں ابو الحسن شاذلی کی بیعت کی۔ امام بوصیری کی وفات 694ھ یا 695ھ یا 696ھ میں اسکندریہ میں ہوئی ۔
مولانا نور الدین عبد الرحمن المعروف مولانا جامی ((1414-1492)) صوبہ خراسان کے ایک قصبہ خرجرد میں پیدا ہوئے۔اوائل عمر ہی میں آپ اپنے والد کے ساتھ ہرات اور پھر سمرقند کا سفر کیا ۔ جہاں علم و ادب کی تحصیل کی اور دینی علوم، ادب اور تاریخ میں کمال پایا ۔ تصوف کا درس سعد الدین محمد کاشغری سے لیا ۔اور مسند ارشاد تک رسائی ملی ۔ حج بیت اللہ کے لیے بھی گئے اور دمشق سے ہوتے ہوئے تبریز گئے اور پھر ہرات پہنچے۔ جامی ایک صوفی صافی اور اپنے دور کے بہت بڑے عالم تھے۔تصوف کا معتبر نام اور فنِ شاعری میں بھی یکتا
سیماب اکبر آبادی کا بنیادی وصف آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات گرامی سے بے پناہ عشق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعت گوئی اور ان کی قومی و ملی شاعری میں جگہ جگہ اللہ کے پیارے رسول صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی الفت و محبت کے حوالے ملتے ہیں۔ سیماب اکبر آبادی کی نعت گوئی ان کی زودگوئی، سخن فہمی اور قادر الکلامی سے عبارت ہے۔ ان کی نعتیں عوام الناس اور بالخصوس حلقۂ خواص میں بے حد پسند کی جاتی ہیں۔