نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے ۔ سید وحید القادری عارف

"نعت کائنات" سے
نظرثانی بتاریخ 14:40, 8 جولائی 2017 از 129.208.85.33 (تبادلۂ خیال)$7

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے

میں وابستہ ہوں دامانِ نبی سے


وہ میرے ہیں میں دیوانہ ہوں اُن کا

یہ کہتا پھر رہا ہوں میں سبھی سے


مری نسبت ہی سرمایہ ہے میرا

یہی پایا ہے میں نے زندگی سے


مئی عشقِ نبی سے مست یوں ہوں

نہ نکلوں عمر بھر اس بے خودی سے


وہی کردینگے کشتی پار میری

بندھی اُمید ہے میری اُنہی سے


نویدِ موت طیبہ میں جو آئے

تو مرجاوں مسرّت سے خوشی سے


جو اُن کے ہوگئے عارفؔ وہ گویا

فرشتے ہوگئے ہیں آدمی سے