جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کا ۔ میر تقی میر

نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 06:48، 23 جون 2017ء از تیمورصدیقی (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
Jump to navigationJump to search


شاعر: میر تقی میر

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کا

دیواں میں شعر گر نہیں نعت رسولﷺ کا


حق کی طلب کی ہے ، کچھ تو محمدﷺ پرست ہو

ایسا وسیلہ ہے یہ خدا کے وصول کا


مطلوب ہے زمان و مکان و جہان سے

محبوب ہے خدا کا، فلک کا عقول کا


جن مردماں کو آنکھیں دیاں ہیں خدا نے دے

سرمہ کریں ہیں رہ کے تری خاک و دھول کا


مقصود ہے علی کا دل کا، سبھی کا تو

ہے قصد سب کو تیری رضا کے حصول کا