امیر مینائی

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Naat Kainaat Ameer Meenai.jpg

امیر مینائی اردو ادب کے نامور استاد شاعر اور نعت گو تھے ۔


امیر احمد المعروف امیر مینائی لکھنو میں 21 فروری 1828ء کو مولوی کرم محمد کے گھر پیدا ہوئے ۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے ۔

امیر مینائی اپنی متنوع حیثیت کے سبب اپنا ایک ہمہ جہت مقام علم و ادب کی تاریخ میں رکھتے ہیں۔وہ اردو کے ساتھ ساتھ فارسی شاعر بھی ہیں، لغت نویس اور زبان داں بھی ہیں، عالم بھی ہیں، موسیقی کے ماہر بھی ہیں،اور دیگر کئی علوم کے شناور بھی ہیں۔ [1]

غزل سے نعت کا سفر

امیر مینائی اپنے استاد اسیر کی طرح شاعری میں عامیانہ جذبات تک اتر آئے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ محسن کاکوروی نے جب اپنا مشہور قصیدہ سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل امیر مینائی کو دکھایا تو انہیں خود پر بہت افسوس ہوا کہ وہ کیا لکھتے آرہے ہیں ۔ اس کے بعد نعت کی طرف توجہ کی اور ایک نعتیہ دیوان ترتیب دیا ۔ [2]

تصانیف

متعدد کتابوں کے مصنف تھے ۔ایک نعتیہ دیوان محمد خاتم النبین ہے۔ دو مثنویاں نور تجلی اور ابرکرم ہیں۔ ذکرشاہ انبیا بصورت مسدس مولود شریف ہے۔ صبح ازل آنحضرت کی ولادت اور شام ابد وفات کے بیان میں ہے۔ بہار ہند ایک مختصر نعت ہے۔ سب سے بڑا کارنامہ امیر اللغات ہے اس کی دو جلدیں الف ممدودہ و الف مقصورہ تک تیار ہو کر طبع ہوئی تھیں کہ انتقال ہوگیا۔

  • تاجِ سخن [3]
  • دبدبہ امیری ، [4]
  • ذکرِ شاہِ انبیا [5]
  • محامد خاتم النبین [6]

مزید کتابیں یہ ہیں

بہار ہند | گوہر انتخاب | سرمۂ بصیرت | صنم خانہ عشق </ref> لاھور،مطبع کریمی، 1353 ھ ،358 ص </ref> | جوہر انتخاب | مرأۃ الغیب [7] | مجموعۂ واسوخت | نور تجلی | ابر کرم [8] | مثنوی [9] | لیلتہ القدر | غیرت بہارستان | ہدایت السلطان | ارشاد السلطان

نمونہ کلام


بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی

بن آئی تیری شفاعت سے رو سیاہوں کی

کہ فرد داخل دفتر ہوئی گناہوں کی


ترے فقیر دکھائیں جو مرتبہ اپنا

نظر سے اترے چڑھی بارگاہ شاہوں کی


ذرا بھی چشم کرم ہو تو لے اڑیں حوریں

سمجھ کے سرمہ سیاہی مرے گناہوں کی


خوشا نصیب جو تیری گلی میں دفن ہوئے

جناں میں روحیں ہیں ان مغفرت پناہوں کی


فرشتے کرتے ہیں دامان زلف حور سے صاف

جو گرد پڑتی ہے اس روضے پر نگاہوں کی


رکے گی آ کے شفاعت تری خریداری

کھلیں گی حشر میں جب گٹھڑیاں گناہوں کی


میں ناتواں ہوں پہنچوں گا آپ تک کیونکر

کہ بھیڑ ہوگی قیامت میں عذر خواہوں کی


نگاہ لطف ہے لازم کہ دور ہو یہ مرض

دبا رہی ہے سیاہی مجھے گناہوں کی


خدا کریم محمدﷺ شفیع روز جزا

امیر کیا ہے حقیقت میرے گناہوں کی


بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ

بازو در عرفاں کا ہے بازوئے محمدﷺ

زنجیر اسی در کی ہے گیسوئے محمدﷺ


قوسین ہیں تفسیر دوا بروئے محمدﷺ

کونین تہ ظل دو گیسوئے محمدﷺ


منظور نظر اس کیے ہے سیر گلستاں

شاید کہ کسی پھول میں ہو بوئے محمدﷺ


امت میں جو مشہور ہے منشور شفاعت

گیسوئے محمدﷺ ہے وہ گیسوئے محمدﷺ


کس طرح زبردست نہ ہو دست ید محمدﷺ

بازو میں جو ہو قوت بازوئے محمدﷺ


سبطین محمدﷺ تھے اگر مصحف ناطق

قرآن کی تھی رحل دو زانوئے محمدﷺ


حاصل یہ کبھی عرش کو ہوتی نہ بلندی

ہوتا نہ اگر تکیہ پہلوئے محمدﷺ


چار آنکھیں کرے شیر فلک مجھ سے ہے کیا جا

سب جانتے ہیں میں ہوں سگ کوئے محمدﷺ


صحبت کو ہے تاثیر امیر اس میں نہیں شک

اصحاب میں کس طرح نہ ہو خوئے محمدﷺ


تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ

تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ

بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسولﷺ


کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسولﷺ

رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسولﷺ


کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے

جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسولﷺ


دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے

لے جاوں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسولﷺ


اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے

میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسولﷺ


کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے

عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسولﷺ


مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام

اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسولﷺ


حکمراں وہ ہے جو ہے بندہ فرماں انﷺ کا

جکمراں وہ ہے جو ہے بندہ انﷺ کا

کون آزاد نہیں بندہ احسان انﷺ کا


لے چلے بخشش امت کا خدا سے اقرار

عرصئہ حشر ہے مارا ہوا میداں انﷺ کا


کس طرح گر کے کنوئیں سے نکل آتے یوسف

ہاتھ آتا نہ اگر گوشئہ داماں انﷺ کا


کس کی طاقت ہے کہ مدحت میں زباں کھول سکے

جب خدا خود ہی ہو قرآں میں ثنا خواں انﷺ کا


بادشاہوں کو کیا فقیر میں مغلوب امیر

وجہ یہ ہے کہ خدا خود تھا نگہباں انﷺ کا


دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

آنکھوں سے سر ہے قرباں آنکھیں ہیں سر سے صدقے


کہتے ہیں گرد عارض باہم یہ دونوں گیسو

میں ہوں ادھر سے صدقے تو بھی ادھر سے صدقے


کہتا ہے مہر و مہ سے رخ دیکھ کر نبی کا

تو شام سے ہے قرباں میں ہوں سحر سے صدقے


ناف زمیں ہے شہ کا مانند کعبہ روضہ

شرقی ادھر سے قرباں غربی ادھر سے صدقے


بولے ملک جو آدم نازاں ہوئے ولا پر

تم آج ہو فدائی ہم پیشتر سے صدقے


جو مال امیر کا ہے مالک ہیں آپ اس کے

دل آپﷺ پر سے صدقے جاں آپﷺ پر سے صدقے

وفات

آپ کی وفات 13 اکتوبر 1900ء کو ہوئی ۔

شراکتیں

صارف:تیمورصدیقی | صارف:ابو المیزاب اویس

حواشی و حوالہ جات

  1. تحقیقِ نعت۔ صورت حال اور تقاضے ،- ڈاکٹر معین الدین عقیل , نعت رنگ ۔شمارہ نمبر 25
  2. http://urdu.adnanmasood.com/2012/02/%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C-%D8%AD%D8%B5%DB%81/
  3. لکھنؤ،نظامی پریس،1350 ھ ، 50+318 ص (شاعری)
  4. دہلی،برقی پریس، (شرح)
  5. وفات نامہ (1303 ھ - )قلمی خیابانِ آفرینش ،آگرہ،مفید عام پریس،1308ھ ، 80 ص ،لکھنؤ،الناظر،
  6. لکھنؤ،نولکشور،1886ء، 142 ص
  7. دیوان اول ،کراچی،ایوانِ امیر مینائی،2005ء ،431 ص
  8. (س ن - 53 صفحات)
  9. فہرست صدیق بُک ڈپو.لکھنؤ
  10. ڈاکڑ شہزاد احمد، انوار عقیدت، انٹرنینشل حمد و نعت فاونڈیشن کراچی ۔ جون 2000