"منصور آفاق" کے نسخوں کے درمیان فرق

نعت کائنات سے
Jump to navigationJump to search
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(4 صارفین 16 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{بسم اللہ }}
[[ملف:Naat kainaat mansoor afaq.jpg|200px]]
منصور آفاق کے بارے [[ محمد اشفاق چغتائی ]] رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں  
منصور آفاق کے بارے [[ محمد اشفاق چغتائی ]] رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں  


"[[نعت]] اگر رسمانہ لکھی گئی ہو بلکہ کسی باطنی کر ب کے اظہار کا ذریعہ کر سامنے آئے تو پڑھنے والے پر ایک جداتاثر چھوڑتی ہے۔ ایسی [[نعت]] داغ محبت رکھنے والے ہر دل کو وہی کیفیت عطا کرتی ہے جو اس کے خالق پر لمحات تخلیق میں طاری ہوتی ہے۔ محمد منصور آفاق کی نعتیں اس کے طواف عقیدت کا سلسلہ جمیل ہیں۔ تحدیثِ نعمت کا دلکش اسلوب ہیں ۔ سنت اللہ کا حسین اتباع ہیں ۔ اپنی احتیاج وضرورت کا خوبصورت اظہار ہیں اور اس کے ساتھ عصر حاضر کی اذیت رسانیوں کے خلاف بارگاہ رسالت مآب میں استغاثہ ہیں۔ یہی میری نگاہ میں اس کتاب کی نمایاں ترین خصوصیت ہے ۔[[آفاق نما]]دنیائے شعر و ادب میں منصور آفاق کی اولین پہچان بن کر آرہی ہے۔ میری دعاہے کہ رب کریم اسی نسبت کواس کی دائمی پہچان بنادے ۔ امین ثم امین
<blockquote>


__TOC__
"[[نعت]] اگر رسما نہ لکھی گئی ہو بلکہ کسی باطنی کر ب کے اظہار کا ذریعہ کر سامنے آئے تو پڑھنے والے پر ایک جداتاثر چھوڑتی ہے۔ ایسی [[نعت]] داغ محبت رکھنے والے ہر دل کو وہی کیفیت عطا کرتی ہے جو اس کے خالق پر لمحات تخلیق میں طاری ہوتی ہے۔ محمد منصور آفاق کی نعتیں اس کے طواف عقیدت کا سلسلہ جمیل ہیں۔ تحدیثِ نعمت کا دلکش اسلوب ہیں ۔ سنت اللہ کا حسین اتباع ہیں ۔ اپنی احتیاج وضرورت کا خوبصورت اظہار ہیں اور اس کے ساتھ عصر حاضر کی اذیت رسانیوں کے خلاف بارگاہ رسالت مآب میں استغاثہ ہیں۔ یہی میری نگاہ میں اس کتاب کی نمایاں ترین خصوصیت ہے ۔


=== حالات زندگی ===
[[آفاق نما]]دنیائے شعر و ادب میں منصور آفاق کی اولین پہچان بن کر آرہی ہے۔ میری دعاہے کہ رب کریم اسی نسبت کواس کی دائمی پہچان بنادے ۔ امین ثم امین"
</blockquote>


=== مجموعہ ہائے کلام ===
اور قد آور ادبی شخصیت [[منو بھائی ]] فرماتے ہیں


=== نمونہ کلام ===
<blockquote>
منصور آفاق مرمر کی سلوں سے بیزار ہیں انہیں مٹی کے حرم سے عشق ہےمرمر کی سلوں سے قیصرو کسریٰ اور لات و منات کی بو آتی ہےاور مٹی کے حرم ، ظلم کی چکی میں پسنے والے ان لوگوں کے دل ہیں جن میں پسینہ بہانے والے غربیوں کے پیغمبر کے پیغام نے گھر کیامن و تُو کی تفریق مٹائی مظلوموں کو استبداد سے نجات دلائی اور غلاموں کی زنجیریں توڑیں منصور آفاق کی نعتیہ شاعری میں مجھے حضرت بلال کی اذان سنائی دیتی ہےجو نمازیوں کے جسموں کو نہیں ان کی روحوں کو بلاتی ہے
</blockquote>




نعت ِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
__TOC__


=== نمونہ ہائے کلام ===


نور بہتا ہو جہا ں تشنہ لبی کیسے ہو
[[ نور بہتا ہو جہا ں تشنہ لبی کیسے ہو ۔ منصور آفاق | نور بہتا ہو جہاں تشنہ لبی کیسے ہو ]]


آپ کے ہوتے ہوئے تیرہ شبی کیسے ہو
====مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادو گری پر ہے ====


نعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


آپ کا دورِ بنوت تو قیامت تک ہے
[[مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادو گری پر ہے]]


آپ کے بعد بھلا کوئی نبی کیسے ہو
تری توصیف اک احسان مری شاعری پر ہے




آسمانوں پہ کہیں ذاتِ الہی کے بعد
ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہے


جو ہمیشہ سےچمکتا ہو کبھی کیسے ہو
تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری پر ہے




کیسی تخمین ِ خرد، کوئی بجز اللہ کے
تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا


مرتبہ دانِ رسولِ عربی کیسے ہو
ترا عرفان طنزِ مستقل دانشوری پر ہے




عمر گزری ہے اِسی خواہشِ نم دیدہ میں
سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے


ان کے دربار میں اپنی طلبی کیسے ہو
خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے




بے اجازت میں چلا جائوں درِ اقدس پر
صلائے عام ہے وہ نبضِ ہستی تھام لے آکر


حالت ِ ہوش میں یہ بے ادبی کیسے ہو
جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے




میں گنہگار ،سیہ کار مدنیے جائوں
مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور


مجھ سے ایسی کوئی بھی بوالعجبی کیسے ہو
کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے




پھیل جانا ہے اسے کوہِ نداتک منصور
==== جب مجھے حسنِ التماس ملا ====


آگ سینے میں محبت کی دبی کیسے ہو
نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم


مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادو گری پر ہے
جب مجھے حسنِ التماس ملا
تری توصیف اک احسان مری شاعری پر ہے


ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہے
تیرا فیضان بے قیاس ملا
تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری پر ہے


تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا
ترا عرفان طنزِ مستقل دانشوری پر ہے


سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے
تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی
خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے


صلائے عام ہے وہ نبضِ ہستی تھام لے آکر
جب کہیں کوئی بھی اداس ملا
جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے


مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور
کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے


جب مجھے حسنِ التماس ملا
جب بھی کعبہ ڈھونڈنا چاہا
تیرا فیضان بے قیاس ملا


تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی
تیرے قدموں کے آس پاس ملا
جب کہیں کوئی بھی اداس ملا


جب بھی کعبہ ڈھونڈنا چاہا
تیرے قدموں کے آس پاس ملا


تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے
تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے
بس وہی مرتبہ شناس ملا
بس وہی مرتبہ شناس ملا


یوں بدن میں سلام لہرایا
یوں بدن میں سلام لہرایا
جیسے کوثر کا اک گلاس ملا
جیسے کوثر کا اک گلاس ملا


تجھ سے وہ صبح جاوداں آئی
تجھ سے وہ صبح جاوداں آئی
مجھ کو بھی نور کا لباس ملا
مجھ کو بھی نور کا لباس ملا


سویرا
==== سویرا ====
 
نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
 
 




چاند اُلجھا ہے کھجوروں کی گھنی شاخوں میں
چاند اُلجھا ہے کھجوروں کی گھنی شاخوں میں
چاندنی جھولتے سایوں میں بھٹک جاتی ہے
چاندنی جھولتے سایوں میں بھٹک جاتی ہے


جیسے بلور کی ٹوٹی ہوئی رنگیں چوڑی!
جیسے بلور کی ٹوٹی ہوئی رنگیں چوڑی!
گیسوئے یار کے پیچوں میں اٹک جاتی ہے
گیسوئے یار کے پیچوں میں اٹک جاتی ہے




رات ڈھلکائے ستارں سے مُرصع آنچل
رات ڈھلکائے ستارں سے مُرصع آنچل
کھولے بیٹھی ہے جنوں بخش سی شہلا آنکھیں
کھولے بیٹھی ہے جنوں بخش سی شہلا آنکھیں


اور ہر سانس سے انسان کو صدا دیتی ہے
اور ہر سانس سے انسان کو صدا دیتی ہے
آ میری گود میں آ نیند سے بہلا آنکھیں
آ میری گود میں آ نیند سے بہلا آنکھیں




ہو چکی ختم وہ تقریبِ حیا سوزِعکاظ
ہو چکی ختم وہ تقریبِ حیا سوزِعکاظ
سوچکے جام بجھے آتشِ سیال کے خم
سوچکے جام بجھے آتشِ سیال کے خم


رقص ابلیس کا نا پاک تسلسل ٹوٹا
رقص ابلیس کا نا پاک تسلسل ٹوٹا
ارضِ کعبہ ہے مگر ایک عجب سوچ میں گم
ارضِ کعبہ ہے مگر ایک عجب سوچ میں گم




میری تقدیس کی تاریخ کہاں کھو گئی
میری تقدیس کی تاریخ کہاں کھو گئی
میری تقدیر میں صدیوں سے ہیں شیطان کے جلوس
میری تقدیر میں صدیوں سے ہیں شیطان کے جلوس


میری آغوش ہے ملعون بتوں سے بوجھل!
میری آغوش ہے ملعون بتوں سے بوجھل!
ربِ کعبہ کبھی تو نے بھی کیا ہے محسوس
ربِ کعبہ کبھی تو نے بھی کیا ہے محسوس




اور اسی وقت ادھر غارِحرا میں کوئی
اور اسی وقت ادھر غارِحرا میں کوئی
ہے اسی فکر میں انسان کو ملے کیسے نجات
ہے اسی فکر میں انسان کو ملے کیسے نجات


جس کی قسمت میں ادھر قیصر و کسر یٰ کا عذاب
جس کی قسمت میں ادھر قیصر و کسر یٰ کا عذاب
اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں اِدھر لات و منات
اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں اِدھر لات و منات




جب بھی بجتی ہے کوئی درد کی زنجیر کہیں
جب بھی بجتی ہے کوئی درد کی زنجیر کہیں
دلِ احمد میں بھی طوفان دھڑک اُٹھتے ہیں
دلِ احمد میں بھی طوفان دھڑک اُٹھتے ہیں


زندہ درگور جو ہو جاتی ہے کوئی بچی!
زندہ درگور جو ہو جاتی ہے کوئی بچی!
اسکے ہر انگ میں شعلے سے بھڑک اٹھتے ہیں
اسکے ہر انگ میں شعلے سے بھڑک اٹھتے ہیں




پھر محمدؐ کے خدا نے کوئی تاخیر نہ کی
پھر محمدؐ کے خدا نے کوئی تاخیر نہ کی
سو گئی رات شفق تاب سویرے آئے
سو گئی رات شفق تاب سویرے آئے


پھر بہاروں کی جبیں آ کے زمیں بوس ہوئی
پھر بہاروں کی جبیں آ کے زمیں بوس ہوئی
صحنِ کعبہ میں وہ زلفوں کو بکھیرے آئے
صحنِ کعبہ میں وہ زلفوں کو بکھیرے آئے
==== درود ====
{{نعت}}
درود اس پر کہ جس نے سر بلندی خاک کو بخشی
تجلیٰ آدمی کی قریہ ءافلاک کو بخشی
درود اس پر کہ جو جمہوریت کا دین لایا تھا
جو لوگوں کی بھلائی کےلئے لوگوں میں آیا تھا
درود اس پر کہ جو جاگیرداری کا مخالف تھا
جہاں میں مال و زر کی شہر یاری کا مخالف تھا
درود اس پر کہ جس نے سود فرمایا بٹائی کو
کہا جائز فقظ اپنی ہی محنت کی کمائی کو
دروداس پر کہا جس نے کہ انساں سب برابر ہیں
زمیں پہ سب لکیریں کھینچنے والے ستم گر ہیں
=== مزید دیکھیے ===
[[ اشرف یوسفی ]] | [[پرویز ساحر ]] | [[ سعود عثمانی ]] | [[ عرفان صدیقی ]] | [[مجید اختر ]] |
[[زمرہ: شعراء]]
[[زمرہ: غزل گو شعراء ]]
[[ CATEGORY : نعت گو شعراء ]]

حالیہ نسخہ بمطابق 05:24، 19 جنوری 2018ء

منصور آفاق کے بارے محمد اشفاق چغتائی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

"نعت اگر رسما نہ لکھی گئی ہو بلکہ کسی باطنی کر ب کے اظہار کا ذریعہ کر سامنے آئے تو پڑھنے والے پر ایک جداتاثر چھوڑتی ہے۔ ایسی نعت داغ محبت رکھنے والے ہر دل کو وہی کیفیت عطا کرتی ہے جو اس کے خالق پر لمحات تخلیق میں طاری ہوتی ہے۔ محمد منصور آفاق کی نعتیں اس کے طواف عقیدت کا سلسلہ جمیل ہیں۔ تحدیثِ نعمت کا دلکش اسلوب ہیں ۔ سنت اللہ کا حسین اتباع ہیں ۔ اپنی احتیاج وضرورت کا خوبصورت اظہار ہیں اور اس کے ساتھ عصر حاضر کی اذیت رسانیوں کے خلاف بارگاہ رسالت مآب میں استغاثہ ہیں۔ یہی میری نگاہ میں اس کتاب کی نمایاں ترین خصوصیت ہے ۔

آفاق نمادنیائے شعر و ادب میں منصور آفاق کی اولین پہچان بن کر آرہی ہے۔ میری دعاہے کہ رب کریم اسی نسبت کواس کی دائمی پہچان بنادے ۔ امین ثم امین"

اور قد آور ادبی شخصیت منو بھائی فرماتے ہیں

منصور آفاق مرمر کی سلوں سے بیزار ہیں انہیں مٹی کے حرم سے عشق ہےمرمر کی سلوں سے قیصرو کسریٰ اور لات و منات کی بو آتی ہےاور مٹی کے حرم ، ظلم کی چکی میں پسنے والے ان لوگوں کے دل ہیں جن میں پسینہ بہانے والے غربیوں کے پیغمبر کے پیغام نے گھر کیامن و تُو کی تفریق مٹائی مظلوموں کو استبداد سے نجات دلائی اور غلاموں کی زنجیریں توڑیں منصور آفاق کی نعتیہ شاعری میں مجھے حضرت بلال کی اذان سنائی دیتی ہےجو نمازیوں کے جسموں کو نہیں ان کی روحوں کو بلاتی ہے


نمونہ ہائے کلام

نور بہتا ہو جہاں تشنہ لبی کیسے ہو

مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادو گری پر ہے

نعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادو گری پر ہے

تری توصیف اک احسان مری شاعری پر ہے


ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہے

تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری پر ہے


تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا

ترا عرفان طنزِ مستقل دانشوری پر ہے


سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے

خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے


صلائے عام ہے وہ نبضِ ہستی تھام لے آکر

جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے


مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور

کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے


جب مجھے حسنِ التماس ملا

نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

جب مجھے حسنِ التماس ملا

تیرا فیضان بے قیاس ملا


تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی

جب کہیں کوئی بھی اداس ملا


جب بھی کعبہ ڈھونڈنا چاہا

تیرے قدموں کے آس پاس ملا


تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے

بس وہی مرتبہ شناس ملا


یوں بدن میں سلام لہرایا

جیسے کوثر کا اک گلاس ملا


تجھ سے وہ صبح جاوداں آئی

مجھ کو بھی نور کا لباس ملا

سویرا

نعت ِ رسول ِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم



چاند اُلجھا ہے کھجوروں کی گھنی شاخوں میں

چاندنی جھولتے سایوں میں بھٹک جاتی ہے

جیسے بلور کی ٹوٹی ہوئی رنگیں چوڑی!

گیسوئے یار کے پیچوں میں اٹک جاتی ہے


رات ڈھلکائے ستارں سے مُرصع آنچل

کھولے بیٹھی ہے جنوں بخش سی شہلا آنکھیں

اور ہر سانس سے انسان کو صدا دیتی ہے

آ میری گود میں آ نیند سے بہلا آنکھیں


ہو چکی ختم وہ تقریبِ حیا سوزِعکاظ

سوچکے جام بجھے آتشِ سیال کے خم

رقص ابلیس کا نا پاک تسلسل ٹوٹا

ارضِ کعبہ ہے مگر ایک عجب سوچ میں گم


میری تقدیس کی تاریخ کہاں کھو گئی

میری تقدیر میں صدیوں سے ہیں شیطان کے جلوس

میری آغوش ہے ملعون بتوں سے بوجھل!

ربِ کعبہ کبھی تو نے بھی کیا ہے محسوس


اور اسی وقت ادھر غارِحرا میں کوئی

ہے اسی فکر میں انسان کو ملے کیسے نجات

جس کی قسمت میں ادھر قیصر و کسر یٰ کا عذاب

اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں اِدھر لات و منات


جب بھی بجتی ہے کوئی درد کی زنجیر کہیں

دلِ احمد میں بھی طوفان دھڑک اُٹھتے ہیں

زندہ درگور جو ہو جاتی ہے کوئی بچی!

اسکے ہر انگ میں شعلے سے بھڑک اٹھتے ہیں


پھر محمدؐ کے خدا نے کوئی تاخیر نہ کی

سو گئی رات شفق تاب سویرے آئے

پھر بہاروں کی جبیں آ کے زمیں بوس ہوئی

صحنِ کعبہ میں وہ زلفوں کو بکھیرے آئے

درود

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

درود اس پر کہ جس نے سر بلندی خاک کو بخشی

تجلیٰ آدمی کی قریہ ءافلاک کو بخشی


درود اس پر کہ جو جمہوریت کا دین لایا تھا

جو لوگوں کی بھلائی کےلئے لوگوں میں آیا تھا


درود اس پر کہ جو جاگیرداری کا مخالف تھا

جہاں میں مال و زر کی شہر یاری کا مخالف تھا


درود اس پر کہ جس نے سود فرمایا بٹائی کو

کہا جائز فقظ اپنی ہی محنت کی کمائی کو


دروداس پر کہا جس نے کہ انساں سب برابر ہیں

زمیں پہ سب لکیریں کھینچنے والے ستم گر ہیں

مزید دیکھیے

اشرف یوسفی | پرویز ساحر | سعود عثمانی | عرفان صدیقی | مجید اختر |