اسی کے ذکر نے دل کا مکاں آباد رکھا یہ کیا کم ہے کہ مجھ سا بے نشاں آباد رکھا ۔ حسن عباس رضا
نعت کائنات سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
شاعر: حسن عباس رضا
برائے : نعت رنگ ۔ شمارہ نمبر 26
نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
اُسی کے ذکر نے دل کا مکاں آباد رکھا
یہ کیا کم ہے کہ مجھ سا بے نشاں آباد رکھا
یہ ہم افتادگانِ خاک پر اُس کا کرم تھا
جہاں برباد ہونا تھا ، وہاں آباد رکھا
بہت بے اعتباری کا سفر تھا،پھر بھی
اُس نے سرِدشتِ طلب اک آستاں آباد رکھا
شبِ معراج ساتوں آسماں تھے نور افشاں
زمیں پر بھی جلوسِ اختراں آباد رکھا
اُسی کے فیض سے اب تک ستادہ ہیں زمیں پر
کہ جس نے سر پہ نیلا آسماں آباد رکھا