"یٰس، مُزّمّل، کبھی طٰہٰ کہوں تجھے ۔ پروز اشرفی احمد آبادی" کے اعادوں کے درمیان فرق

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
(نیا صفحہ: شاعر: پرویز اشرفی احمد آبادی تضمین بر : سرور کہوں کہ مالک و مولٰی کہوں تجھے۔ امام احمد رضا خان ب...)
 
(No difference)

حالیہ نظرثانی بمطابق 11:41, 26 اکتوبر 2017

شاعر: پرویز اشرفی احمد آبادی

تضمین بر : سرور کہوں کہ مالک و مولٰی کہوں تجھے۔ امام احمد رضا خان بریلوی

نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

تضمین


یٰس، مُزّمّل، کبھی طٰہٰ کہوں تجھے

خیر البشر، ختم الرسل، داتا کہوں تجھے

آقاؤں کے آقاؤں کا آقا کہوں تجھے

’’ سرور کہوں کہ مالک و مولا کہوں تجھے

باغِ خلیل کا گلِ زیبا کہوں تجھے‘‘


حدِ نگاہ تک اگر بکھرے ہوں ہر طرف

دُرِّ عدن، عقیقِ یمن، گوہرِ نجف

لیکن میں رکھوں صرف کوئے یار سے شغف

’’صبحِ وطن پہ شامِ غریباں کو دوں شرف

بیکس نواز گیسوؤں والا کہوں تجھے‘‘


تیرے طفیل نور کی برسیں جو بارشیں

ہم خاکیوں پہ ہوگئیں نوری نوازشیں

ہیں ختم تجھ پہ دستِ صنّاعی کی کاوشیں

’’اللہ رے تیرے جسمِ منور کی تابشیں

اے جانِ جاں میں جانِ تجلٰی کہوں تجھے‘‘


اقبالِ جرم و لغزش و عصیاں کروں شہا

دریائے رحمت میں بپا طوفاں کروں شہا

یوں اپنی ساری مشکلیں آساں کروں شہا

’’مجرم ہوں اپنے عفو کا سامان کروں شہا

یعنی شفیع روزِ جزا کا کہوں تجھے‘‘


خاکِ قدم سے پیدا ترے کیمیا گری

پھوٹے تری خموشیوں سے سازِ دلبری

تجھ کو تمام خلق پہ حاصل ہے برتری

’’تیرے تو وصف عیبِ تناہی سے ہیں بری

حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے‘‘


میخانہِ حُسنِ ازل سے جب کی میکشی

ہوش و حواس و عقل پہ طاری ہوئی غشی

یوسف نے خود فرمایا دیکھی جب وہ دلکشی

’’کہہ لے گی سب کچھ انکے ثناخواں کی خامشی

چپ ہو رہا ہے کہہ کہ میں کیا کیا کہوں تجھے‘‘


پروؔیز انہیں جبریل نے خود اپنا پر دیا

جن کو خدا نے نعت لکھنے کا ہنر دیا

سب نے نیا گو مصرعِ رنگین و تر دیا

’’لیکن رضؔا نے ختم سخن اس پہ کردیا

خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے‘‘


برائے رابطہ : پروؔیز اشرفی احمد آبادی

ڈیسا، گجرات (ہند)

موبائل : 00919925640729


مزید دیکھیے[ترمیم]

جان محمد قدسی | حسن رضا خان بریلوی|احمد رضا خان بریلوی


پیشکش[ترمیم]

ابو المیزاب اویس