"ہے چہرہ تیرا شمس و قمر سا ہیں زلفیں نیم حجاب تیرا" کے اعادوں کے درمیان فرق

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
(کچھ نہیں)
 
(No difference)

حالیہ نظرثانی بمطابق 04:55, 23 مئی 2020

ہے چہرہ تیرا شمس و قمر سا ہیں زلفیں نیم حجاب تیرا

بدر و خورشید گدا ہیں تیرے ہے چھایا حسن و شباب تیرا


نظریں تیری وہ نین نشیلی ہیں ابرو جیسے کمان ان کے

دانت جیسے ہیں موتی ہیرے اور لب ہیں نازک گلاب تیرا


نہ تاب مجھ کو جو داب تیرا پاک توں ہے طاب تیرا

داغ عشق لئیے میں سینے تیر مارے جو قاب تیرا


توں بادشاہوں کا بادشاہ ہے تیرے ہی در سے لو لگی ہے

کاسہ لئیے میں ہوں آتا آ جا لے جا جواب تیرا


دیدار تیرے کی حسرت لیئے میں جی کے مرتا ہوں مر کے جیتا

مجھ پہ اب تو کرم ہو یاور جو آئے مجھ کو خواب تیرا


نہ آب زمزم نہ جام شیریں نہ چائیے مجھ کو حوض کوثر

میں ہوں تیرا عطا ہو مجھ کو جو ایک قطرہ لعاب تیرا


ہے جو آتش عشقِ نبی کی بڑھائی ہم نے نہ کمی کی

سیخ پے دل جل رہا ہے لے عشق لے یہ کباب تیرا


جہاں میں سب تو ترس رہے ہیں بلو لو پاس اب کہہ رہے ہیں

ہے وہ آب حیات جس میں روضہ سبز و شباب تیرا


خدا سے مانگا ہے توں نے ہم کو حب لی حب لی ربی حب لی

خدا گواہ میں صدقے تیرے بنا لے مجھ کو تحاب تیرا


چیر کر دیکھاؤ جو سینہ بس ہے اس میں بس مدینہ

واہ رے "شہروز" تیری الفت بقیع میں مدفن خواب تیرا