کہہ مکرنی
نعت کائنات سے
نظرثانی بتاریخ 19:33، 15 فروری 2017ء از Admin (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
بہت کم استعمال ہونے والی صنف سخن ہے اس میں میں عورتوں کی زبان سے کوئی بات بیان کی جاتی ہے جس میں ایک سے معشوق مراد ہوتا ہے اور دوسری سے کچھ اور۔ اس کا قائل معشوق کی بات کہہ کر مکر جاتا ہے کہہ مکرنیوں کو سکھیاں اور مکرنیاں بھی کہتے ہیں۔ یہ امیر خسروؔ کی پسندیدہ صنف تھی
ہیں وہ رب کے بڑے دُلارے
ہم کو بھی ہیں جان سے پیارے
کوئی نہیں ہے اُن کا ہم قد
کیا جبریل ؟
نہیں ، محمّد![1]
مزید دیکھیں[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
نظم | آزاد نظم | نظم معری | غزل | قصیدہ | قطعہ | رباعی | مثنوی | مرثیہ | دوہا | ماہیا | کہہ مکرنی | لوری | گیت | سہرا | کافی | ترائیلے | سانیٹ | ہائیکو |
حواشی و حوالہ جات[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]
- ↑ دو ماہی گلبن: نعت نمبر، جنوری /اپریل 1999ء، احمد آباد، ص 42