پیامِ حق کا تمہیں منتہی سمجھتے ہیں ۔ ناصر کاظمی

"نعت کائنات" سے
This is the latest revision of this page; it has no approved revision.
نظرثانی بتاریخ 13:33, 3 مارچ 2018 از ابو المیزاب اویس (تبادلۂ خیال | شراکت) (نیا صفحہ: {{بسم اللہ}} شاعر: ناصر کاظمی ==={{نعت}}=== پیامِ حق کا تمہیں منتہی سمجھتے ہیں تمہاری یاد کو ہم زند...)

(فرق) ←پرانی تدوین | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش


شاعر: ناصر کاظمی

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

پیامِ حق کا تمہیں منتہی سمجھتے ہیں

تمہاری یاد کو ہم زندگی سمجھتے ہیں


تمہارے نور سے معمور ہیں وجودِ عدم

اسی چراغ کو ہم روشنی سمجھتے ہیں


قدم پڑا ہے جہاں آپ کے غلاموں کا

ہم اس زمین کو تختِ شہی سمجھتے ہیں


یہ آپ ہی کا کرم ہے کہ آج خاک نشیں

مقامِ بندگی و قیصری سمجھتے ہیں


سمجھ سکیں گے وہ کیا رتبہِ نبیِ کریم

جو آدمی کو فقط آدمی سمجھتے ہیں


مزید دیکھیے[ترمیم]

جان محمد قدسی | حسن رضا خان بریلوی|احمد رضا خان بریلوی


پیشکش[ترمیم]

ابو المیزاب اویس