نعت گوئی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

سہ حرفی لفظ نعت ( ن ع ت ) عربی زبان کا مصدر ہے ۔ اس کے لغوی معنی کسی شخص میں قابل ِتعریف صفات کا پایا جانا ہے۔ یوں تو عربی زبان میں متعدد مصادر تعریف و توصیف کے لیے استعمال ہو تے ہیں۔ مثلاً: حمد، اللہ جل شانہ کی تعریف کے لیے مخصوص ہے اور نعت حضور سرور کائنات ﷺ کی تعریف و توصیف کے لیے مستعمل ہو کر مخصوص ہوئی

نعت کا اصطلاحی مطلب رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی منظوم تعریف ہے

نعت گوئی[ترمیم]

نعت گوئی کو شاعری کا نگینہ کہا جاتاہے ۔نعت کا فن بہ ظاہر جس قدر آسان نظر آتا ہے، بباطن اسی قدر مشکل ہے ۔ناقدین ِ ادب اس کو مشکل ترین صنف ِسخن شمار کرتے ہیں کیوں کہ ایک طرف وہ ذات ِگرامی ہے، جس کی مد ح خود رب العالمین نے کی ہے ۔ دوسری طرف زبان اور شاعری کے جمالیاتی تقاضے ہیں۔اس لیے نعت کا حق وہی ادا کر سکتا ہے، جو جذبۂ عشقِ رسول ﷺسے سرشار ہو اور فن ِ شاعری کی باریکیوں سے بھِی واقف ہو ۔ایک طرح سے یہی کہا جائے گا:

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

شاہ معین الدین ندوی رقم طراز ہیں:

’’نعت کہنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔محض شاعری کی زبان میں ذات ِپاک نبی صلعم کی عامیانہ توصیف کر دینا بہت آسان ہے، لیکن اس کے پورے لوازم و شرائط سے عہدہ بر أہونا بہت مشکل ہے۔ حُبِ رسول صلعم کے ساتھ نبوت کے اصلی کمالات اور کارناموں، اسلام کی صحیح روح، عہد ِرسالت کے واقعات اور آیات و احادیث سے واقفیت ضروری ہے، جو کم شعرا کو ہوتی ہے ۔ اس کے بغیر صحیح نعت گوئی ممکن نہیں۔ نعت کا رشتہ بہت نازک ہے ۔ اس میں ادنیٰ سی لغزش سے نیکی برباد ،گناہ لازم آجاتا ہے ۔ اس پل ِصراط کو عبور کرنا ہر شاعر کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہ بارگاہ اقدس ہے جہاں بڑے بڑے قدسیوں کے پاؤں لرز جاتے ہیں‘‘[1]

شاہ معین الدین ندوی نے نعت گوئی کے لیے شاعر کا صاحب ِ بصارت اور صاحب ِبصیرت ہونا اولین شرط قرار دیا ہے کیوں کہ حضور سرور کائنات ﷺ کی ذات مقدس، نبوت اور عبدیت کے کمال پر خالق بھی نازاں ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مدح رسولﷺ اور ذکرِ رسول ﷺکو اعلیٰ و ارفع قرار دیا ہے ۔ اس لیے الفاظ پر کتنی ہی قدرت کیوں نہ ہو، شاعر اپنے آپ کو عاجز پاتا ہے اور یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ:

|

نعت گوئی عربی سے فارسی اور پھر اُردو زبان میں آئی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ عربی کے بعد سب سے زیادہ نعتیں اُردو میں لکھی گئی ہیں اوریہاں نعتوں کا بہت بڑا سرمایہ موجود ہے ۔۔ اگرچہ بظاہر نعت گوئی آسان لگتی ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ اگر اللّٰہ توفیق نہ دے، تو نعت کہنا انسان کے بس کا کام نہیں۔حضرت شیخ سعدی کا مشہور واقعہ ہے کہ اُنھوں نے مدح ِرسولﷺ میں تین مصرعے کہے ۔ کوشش کے باوجود چوتھا مصرعہ نہ ہو تا تھا اور سخت پریشان تھے ۔ ایک شب اُنھیں خواب میں بشارت ہوئی۔ حضورسرورکائنات ﷺ بنفس ِنفیس موجود ہیں اور شیخ سعدی ؒسے فرماتے ہیں ’’ سعدی ؔتم نے تین مصرعے کہے ہیں ،ذرا سناؤ‘‘۔ شیخ سعدیؒ نے تینوں مصرعے سنائے اور خاموش ہو گئے ۔ آ پ ﷺ نے فرمایا یہ مصرعہ بڑھا لو


’’صلو علیہ و آلہ‘‘


اور یوں حضرت شیخ سعدی ؒکی نعتیہ رباعی مکمل ہوئی۔اللّٰہ تعالیٰ نے اس رباعی کو شرف ِقبولیت بخشا اور اس طرح شیخ سعدیؒ نعت گو شعرا میں ممتاز ہو گئے ۔ اس رباعی کے چار مصرعے ہمیشہ توصیف ِ مدحِ رسولﷺ کرتے ہیں:


بلغ العلیٰ بکمالہ

کشف الدجیٰ بجمالہ

حسنت جمیع خصالہ

صلو علیہ و آلہ


کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب نعت ِمحمدﷺ کی بات آتی ہے، تو پھر اس قطعے پر آکر ختم ہو جاتی ہے :


یا صاحب الجمال و یا سید البشر

من و جہک المنیر لقد نور القمر

لا یمکن الثنا کما کان حقہ

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

ایک مجلس میں آں حضورﷺنے ارشاد فرمایا: ’’ کوئی انسان اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا ،جب تک میری ذات اس کے لیے ماں، باپ، اولاد، سب سے زیادہ محبوب نہ بن جائے ‘‘۔ حضرت عمر ؓ وہاں تشریف فرما تھے ۔اُنھوں نے عرض کیا ’’جناب والا کی ذاتِ ستودہ صفات، والدین اور اولاد سے زیادہ محبوب ہے ، لیکن ابھی یہ کیفیت نہیں کہ میَں آپﷺ کی ذات کو اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا سمجھوں‘‘۔ حضورﷺ نے فرمایا ’’ ابھی ایمان کی تکمیل نہیں ہوئی ہے‘‘ ۔ حضورﷺ کا فرمانا تھا کہ حضرت عمرؓ کے دل پر ضرب ِکاری لگی اور آں حضرت ﷺکی توجہ سے دل کی کیفیت بدل گئی۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا ’’ خدا کا شکر ہے، اب دل میں کیفیت پیدا ہوئی کہ جناب ﷺ کی ذات گرامی، مجھے اپنی ذات سے بھی زیادہ محبوب ہے‘‘ ۔ آں حضرتﷺ نے فرمایا’’ اب تمھارا ایمان مکمل ہو گیا‘‘۔اس فرمانِ نبویﷺ کے مطابق ایک مومن کی تکمیل ِایمانی کے لیے اُس کے قلب کی یہی کیفیت ضروری ہے کہ اُس کے اندر مکمل سپردگی ہو۔ نعت گوئی کا محرک قرآن کریم ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیب ِلبیبﷺ کی شان میں جو الفاظ استعمال کیے ،اس کا ثانی تو ہو ہی نہیں سکتا۔انسان ضعیف البنیان کی کیا بساط ہے ، جو لب کشائی کرے ۔

نعت اور نعت گوئی کے بارے مشاہیر کی آراء[ترمیم]

نعت چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے منسوب ہے جہاں

ادب گاہ ہیست زیر آسماں از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می آید جنید ا با یزید ایں جا [2]

تو اس لیے نعت گوئی میں احتیاط کے تقاضے بلند ترین ہیں ۔ یہاں ہم کچھ اہل نعت کی آراء دیکھ سکتے ہیں ۔

احمد رضا خان بریلوی | عبدالکریم ثمر مجید امجد | ڈاکٹر ابوللیث صدیقی | ڈاکٹرے اے ۔ ڈی ۔ نسیم قریشی | ڈاکٹر فرمان فتح پوری | شاہ معین الدین ندوی

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کی نعت گوئی[ترمیم]

اگر نعت صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شعری مدح کو کہا جائے تو بھی عالم اسلام کا کوئی خطہ ، کوئی ملک اور کوئی زبان ایسی نہیں جس میں شعر کی زبان میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و توصیف نہ کی گئی ہو۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس دنیا مین ظہور فرمانے سے کوئی ایک ہزار سال پہلے یمن کے بادشاہ تبان اسعد، ابو کرب نے سب سے پہلے نعت کے اشعار کہے پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بزرگوں میں سے حضرت کعب بن لوی ( حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت سے 560 سال قبل ) کے نعتیہ اشعار ملتے ہیں۔آپ کے دنیا میں تشریف لانے پر آپ کے دادا حضرت عبد المطلب نے ثنائے محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اشعار کہے۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سپرد کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کی تعریف شعروں میں کی۔اسی طرح خواتین میں پہلی نعت گو سیدہ آمنہ ہیں۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ان بیٹی شیما بنت حارث بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اشعار پڑھا کرتی تھی ۔ بعثت کے بعد ورقہ بن نوفل نے پہلا باقاعدہ نعتیہ قصیدہ کہا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے پر بنو نجار کی بچیوں نےسب سے پہلے نعتیہ اشعار


طلع البدر علینا پڑھے۔ [3]

جو آج بھی زبانِ زدِ خاص و عام ہیں۔ سب سے پہلا غیر مسلم نعت گو میمون بن قیس تھا۔

عہدِ نبوی میں نعت گوئی[ترمیم]

صحابہ کرام عشق و محبت کو سرچشمہ تھے تو نعت گوئی کے چشمے کیوں نہ پھوٹتے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نعت کا لفط سب سے پہلے حضرت علی کرم اللہ وجہ نے استعمال کیا تھا [4]

حافظ ابن البر رضی اللہ تعالی عنہ نے 120 مداح گو صحابہ کے نام اور حافظ ابن سید الناس رحمۃ اللہ علیہ نے 200 نعت گو صحابہ کے نام لکھے ہیں۔ علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ نے چار ضخیم جلدوں میں عربی نعتوں کا انتخاب کیا تھا جن میں 34 صحابہ کرام کے 461 اشعار ہیں۔ عربی نعت کے اس انتخاب میں صحابہ کے علاوہ 24635 اشعار بعد کے شعراء ادب کے ہیں۔ڈاکٹر طاہرالقادری کی تحقیق کے مطابق کم از کم 35 صحابہ و صحابیات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت خوانی کرتے تھے۔ ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی ( فیصل آباد ) نے بر صضیر پاک و ہند کے عربی نعت گو شاعروں پر پی ایچ ڈی کے لئے مقالہ لکھا جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور لاہور سے شائع ہوا۔ ممالک عرب میں دوسری دنیا کی طرح اب تک نعت گوئی جاری ہے۔

مزید دیکھئے : عہد ِ نبوی کے نعت گو شعراء

برصغیر پاک و ہند میں نعت گوئی[ترمیم]

برصغیر میں پہلے پہل صوفیا و مشائخ نے تبلیغِ دین کا فرض ادا کیا ۔ ان کے ہاں رسولِ مکرم ص سے بے انتہا عقیدت پائی جاتی تھی اور ایامِ ولادتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسم کے موقع پر محافلِ میلاد کا انعقاد ایک بہت بڑا دینی فریضہ سمجھا جاتا تھا۔ فارسی بطورسرکاری زبان رائج تھی ۔ بیشتر صوفیا خود قادرالکلام شعرا تھے۔ لہٰذہ سماع کی محافل میں یہ کلام پیش کئے جاتے ۔ نظام الدین اولیا کے چہیتے مرید امیر خسرو نے یہ اجتہاد کیا کہ ہندی زبان میں مذہبی کلام کہے اور انہیں عوام الناس میں رواج دیا ۔

اردو میں نعت گوئی[ترمیم]

اُردو میں شاعری کی ابتدا عرض دکن سے ہوئی۔دکنی مثنویوں میں فارسی مثنویوں کے طرح حمد کے بعد نعتیہ اشعار ملتے ہیں ۔ ان اشعار کو مثنوی سے الگ کرلیا جائے، تو بعض اوقات اعلیٰ درجے کی نعتیں ہمیں متحیر کر دیتی ہیں۔ مثلاً زبان کی قدامت کے باوجود وجہیؔ کی ’’قطب مشتری‘‘ کے نعتیہ اشعار نہایت عمدہ ہیں اور صنف ِنعت کے جملہ تقاضے پورے کرتے ہیں۔ دکن کے بعد دہلی اور لکھنو کے مثنوی نگار بھی اس روایت پر عمل پیرا ہونے کو فرض کی طرح ادا کرتے رہے۔ اسی لیے قلی قطب شاہ اور محمد شاہ کو اُردو کے پہلے نعت گو شاعر ہونے کا فخر حاصل ہے ۔ اُن کے کلام کا خاصا حصہ نعت ِرسول ﷺپر مشتمل ہے ۔ اسی لیے ولی دکنی کے دَور سے لے کر عہد جدید کے شعرا تک نعت گوئی کا سلسلہ برابر قائم ہے اور اُردو کا ہر شاعر نعت کہنا اپنے لیے باعث سعادت تصور کرتا ہے ۔ اُردو نعت گوئی میں ، مولانا الطاف حسین حالی، علامہ اقبال، امیر مینائی،مولانا ظفر علی خاں ، بہزاد لکھنوی، حفیظ جالندھری، ماہر القادری۔ جیسے نام ہیں، جو معتبر اور معروف ہوئے۔ دَور حاضر میں بھی نعتیہ شعرا کی بہت بڑی تعداد ہے ۔خاص طور سے قریۂ اسم محمدﷺ(پاکستان) میں نعت گوئی کو کافی عروج حاصل ہوا ہے ، وہاں نعتوں پر تحقیق کا بھی خاصا کام ہوا ہے ۔ پاکستان کے نعتیہ شعرا میں حفیظ تائب، عبد العزیز خالد، مظفر وارثی،خالد احمد، مشکور حسین یاد اور ریاض مجید نے نعت کو نیا رنگ و آہنگ دیا ہے اور نئی لفظیات سے آراستہ کیا۔ ہندوستان کے اُردو اور فارسی شعرا میں نہ صرف مسلمان بل کہ اہل ِہنود نے بھی نعتیں لکھی ہیں۔ اُن میں کئی تو ایسے ہیں، جن کے نعتیہ کلام کے دواوین بھی موجود ہیں۔

ہندو شعراء کی نعت گوئی[ترمیم]

غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی کے حوالے سے نور میرٹھی نے ہندو نعت گو شعرا پر ایک کتاب مرتب کی ہے ، جس کا نام ہے ’’بہ ہر زماں، بہ ہر زباں‘‘ جس میں 326ہندو نعت گو شعرا کا ذکر ہے اور اُن کی نعتیں یکجا کر دی گئی ہیں۔ غیر مسلم شعرا میں پنڈت دیاشنکر نسیم، چھنو لال دلگیر، پنڈت ہری چند اختر، گوپی ناتھ امن، نوبت رائے نظر، پنڈت امر ناتھ آشفتہ دہلوی، بھگوت رائے راحت کاکوروی، مہاراجہ کشن پر ساد ، پنڈت برج موہن دتا تریا کیفی، فراق گورکھپوری، اوم پرکاش، باقر ہوشیار پوری، تلوک چند ، کنور مہندرسنگھ بیدی ، عرش ملسیانی، کالی داس گپتا رضا، جگن ناتھ آزاد، آنند موہن گلزار دہلوی اور ستیا پال آنند وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

مزید دیکھئے : غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی

نعت گوئی پر مضامین[ترمیم]

نعت کیا ہے[ترمیم]

نعت گوئی کے تقاضے[ترمیم]

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. ادبی نقوش صفحہ 284
  2. عزت بخاری
  3. طلع البدرعلینا۔منظرو محلِ وقوع ایک تحقیق ،- ڈاکٹر افضال احمد انور
  4. حوالہ درکار