محسن کاکوروی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659


محسن کاکوروی ۱۲۴۲ھ مطابق 1827ء کاکوری میں پیدا ہوئےمحسن کاکوروی کے والد ماجد مولوی حسن بخش کے دو صاحبزادگان مولوی محمد محسن و مولوی محمد احسنؔ ، سیّد علوی تھے اور سلسلہ نسب حضرت علی المرتضیٰ دامادِ مصطفی، شیر خدا سے جا ملتا ہے۔۔ والد کے انتقال کے بعد سات سال کی عمر سے جدّبزرگوار مولوی حسین بخش شہید کے زیر سایہ تربیت ہوئی۔[1]

شخصیت و اطوار[ترمیم]

آپ کا قد میانہ اور رنگ گندمی تھا۔ چہرے پر چیچک کے کچھ داغ تھے جو بہت غور سے دیکھنے محسوس ہوتے تھے ۔ چہرہ گول تھا ۔ خسخسی داڑھی رکھتے تھے لیکن آخر عمر میں داڑھی بڑھا لی تھی ۔ ہر معاملے مین متانت اور سنجیدگی سے کام لیتے تھے ۔ آواز میں ملائمیت تھی ۔ ہر شخص سے خندہ پیشانی سے ملتے اور ہر شخص ان کو اپنا محسن و مربی جانتا ۔ غرض پرانی وضعداری اور ایشائی مروت کا بے مثل نمونہ تھے ۔

پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے اور اپنے مزاج کی وجہ سے اتنی عزت پائی کہ بغیر پوچھے منصف مقرر کیے گئے لیکن حضرت نے انکار کر دیا ۔

شاعری[ترمیم]

شاعری کی ابتدا نو سال کی عمر سے ہوئی۔ شب کو اپنے جدّامجد کے پہلو میں سوتے تھے۔ خواب میں زیارت جمال مبارک حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرف ہوئے۔ اس خواب کی خوشی میں سب سے پہلی نظم لکھی۔ اُستاذِ گرامی مولوی ہادی علی اشک آپ کے خالہ زاد ماموں ثقہ، متقی پرہیزگار عالم باعمل تھے۔ مطبع منشی نول کشور لکھنؤ سے وابستہ تھے۔ محسن کاکوروی نے حضرت اشک کی وفات کے بعد کسی سے اصلاح نہیں لی۔

نعت گوئی[ترمیم]

محسن کاکوروی اُردو کے اوّلین عظیم شاعر ہیں جن کی شاعری کا موضوع نعت اور صرف نعت ہے۔ اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں۔


ہے تمنا کہ رہے نعت سے تیری خالی

نہ مرا شعر، نہ قطعہ، نہ قصیدہ نہ غزل

آپ نے محض سولہ سال کی عمر میں ایک ایساشان دار نعتیہ قصیدہ لکھا جو خیالات کی پاکیزگی، جذبات کی صداقت، ندرتِ بیان اور تعظیم و محبت کے حدود میں قائم رہنے کی وجہ سے ایک شاہ کار قصیدہ سمجھاجاتا ہے۔ محسنؔ کا قصیدہ سراپائے رسول‘‘بھی کافی مقبولیت رکھتا ہے۔ محسنؔ نے قصائد کے علاوہ کئی مذہبی مثنویاں بھی لکھیں۔ آپ کا کلام مختلف امتحانات کے نصاب میں شامل ہے۔ آپ کو ’’حسانِ وقت‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ محسن کاکوروی نعتیہ ادب کا اوّلین ستون ہیں۔ آپ کے تعارف کے بغیر اُردو نعتیہ ادب کی تاریخ نامکمل رہے گی۔


قصائد[ترمیم]

(۱)گلدستۂ رحمت(۲)ابیاتِ نعت(۳)مدیحِ خیر المرسلین(۴)نظمِ دل افروز(۴)انیٖسِ آخرت


مشہور زمانہ قصیدۂ لامیہ آپ کی شہرت کا باعث ہے

مثنویات[ترمیم]

(۱)صبحِ تجلّی(۲)چراغِ کعبہ(۳)شفاعت و نجات(۴)فغانِ محسنؔ (۵)نگارستانِ الفت

ان مثنویات کے بارے مزید جاننے کے لیے : مثنویات ِ محسن کاکوروی

نمونہ کلام[ترمیم]

سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے

زباں ملی ہے مجھے نعت کے بیاں کیلئے

۔

ہے تمنا کہ رہے نعت سے ترے خالی

نہ مرا شعر، نہ قطعہ ، نہ قصیدہ، نہ غزل

صف محشر میں ترے ساتھ ہو تیرا مداح

ہاتھ میں ہو یہی مستانہ قصیدہ یہ غزل


مشہور کلام[ترمیم]

کلیات نعت، محسن کاکوروی[ترمیم]

کلیات نعت، محسن کاکوروی ، محسن کاکوروی کی حمدیہ و نعتیہ کلام پر مشتمل کلیات ہیں ۔

محسن کاکوروی پر مضامین[ترمیم]

وفات[ترمیم]

4 اپریل 1905ء کو اسہال کبدی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ دوشنبہ ۱۰؍صفر ۱۳۲۳ھ مطابق 24 اپریل 1905ء میں دس بجے دن کو اس عالم فانی سے ملک جاودانی کے لیے روانہ ہو گئے۔ مزار بمقام مین پوری متصل مزار مولوی حسین بخش مرحوم کے ساتھ ہے۔


شراکتیں[ترمیم]

صارف:تیمورصدیقی


مزید دیکھیے[ترمیم]

صاحب کلیات نعت گو شعراء[ترمیم]

شائق دہلوی | راقب قصوری | محسن کاکوروی | ادیب رائے پوری | ظہور الحق ظہور | غلام رسول قادری | عنبر شاہ وارثی | راسخ عرفانی | وحید الحسن ہاشمی | رووف امروہوی | منور بدایونی | اظہر علی خان | عبدالستار نیازی | اعجاز رحمانی | اقبال عظیم | عابد سعید عابد | شاعر علی شاعر | صائم چشتی | بیدم وارثی | مظہر الدین مظہر | ریاض سہروردی | انصار الہ آبادی | نذر محمد راہی | محمد علی ظہوری

حواشی و حوالہ جات[ترمیم]

  1. شائقؔ دہلوی، میر سیّد علی کلیاتِ شائق سید پبلی کیشنز ایم اے جناح روڈ کراچی ۱۹۹۴ء
  2. ڈاکڑ شہزاد احمد، انوار عقیدت، انٹرنینشل حمد و نعت فاونڈیشن کراچی ۔ جون 2000