ماہرالقادری

"نعت کائنات" سے
(ماہر القادری سے پلٹایا گیا)

This is the approved revision of this page; it is not the most recent. View the most recent revision.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

NTK Mahir ul Qadri.jpg

ماہر القادری کا اصل نام منظور حسین ہےـ آپ 30 جولائی 1906ء کو کسہیہ کلاں(انڈیا)میں پیدا ہوئے۔مدحیہ شاعری میں سب سے زیادہ شہرت انکے لکھے ہوئے سلام کو حاصل ہوئیجو منظرِ عام پر آتے ہی کلاسیک کا حصہ بن گیا ـ

انہوں نے عملی زندگی کا آغاز حیدر آباد دکن سے کیا، پھر بجنور چلے گئے۔ جہاں مدینہ بجنور اور غنچہ کے مدیر رہے۔ زندگی کا بڑا حصہ حیدرآباد دکن، دہلی، بمبئی میں گزرا اور پھر مستقل قیام کراچی میں رہا۔ چند ماہ ملتان میں بھی گزارے۔ اس کے علاوہ سیر و سیاحت کا بارہا اتفاق ہوا۔ 1928ء میں ریاست حیدرآباد کے مختلف محکموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ قیام حیدرآباد کے دوران میں جب نواب بہادر یار جنگ کی تقاریر کا طوطی بولتا تھا، نواب صاحب نے قائد اعظم سے ان کا تعارف یوں کرایا میری تقریروں اور ان (ماہرالقادری) کی نظموں نے مسلمانانِ دکن میں بیداری پیدا کی ہے۔


تصنیفات

1:ذکرِ جمیل(نعتیہ مجموعہ) 2:ظہورِ قدسی(نعتیہ مجموعہ) 3:فردوس 4:نغماتِ ماہر 5:جزباتِ ماہر 6:محسوساتِ ماہر

ذکرِ جمیل کی اشاعت نے ماہر القادری کو نعتیہ شاعر کے طور پر متعارف کروایا ـ

نعتیہ شاعری

نمونہ کلام

رسول مجتبیﷺ کہیے، محمد مصطفیﷺ کہیے

رسول مجتبیﷺ کہیے، محمد مصطفیﷺ کہیے

خدا کے بعد بس وہ ہیں، پھر اس کے بعد کیا کہیے


شریعت کا ہے یہ اصرار ختم الانبیاء کہیے

محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب خداﷺ کہیے


جب ان کا ذکر ہو دینا سراپا گوش ہو جائے

جب سن کا نام آئے مرحبا صل علی کہیے


مرے سرکارﷺ کے نقش قدم شمع ہدایت ہیں

یہ وہ منزل ہے جس کو مغفرت کا راستہ کہیے


محمد کی نبوت دائرہ ہے نور وحدت کا

اسی کو ابتدا کہیے اسی کو انتہا کہیے


غبار راہ طیبہ سرمہ چشم بصیرت ہے

یہی وہ خاک ہے جس خاک کو خاک شفا کہیے


مدینہ یاد آتا ہے تو پھر آنسو نہیں رکتے

مری آنکھوں کو ماہر، چشمہ آب بقا کہیے


سلام

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی

سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

سلام اس پرکہ اسرارِ محبت جس نے سکھلائے

سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں

سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

سلام اس پر کہ دشمن کو حیاتِ جاوداں دے دی

سلام اس پر ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی

سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں

سلام اس پ ہوا مجروح جو بازارِ طائف میں

سلام اس پر وطن کے لوگ جس کو تنگ کرتے تھے

سلام اس پر کہ گھر والے بھی جس سے جنگ کرتے تھے

سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا

سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا

سلام اس پر جو سچائی کی خاطر دکھ اٹھاتا تھا

سلام اس پر جو بھوکا رہ کے اوروں کو کھلاتا تھا

سلام اس پر جو امت کے لیے راتوں کو روتا تھا

سلام اس پر جو فرشِ خاک پر جاڑے میں سوتا تھا

سلام اس پر جو دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہے

سلام اس پر کہ جس کی ذات فخرِ آدمیّت ہے

سلام اس پر کہ جس نے جھولیاں بھردیں فقیروں کی

سلام اس پر کہ مشکیں کھول دیں جس نے اسیروں کی

سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہ دی

سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی

سلام اس پر کہ جس نے زندگی کا راز سمجھایا

سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا

سلام اس پر کہ جس کا نام لے کر اس کے شیدائی

الٹ دیتے ہیں تختِ قیصریت اوجِ دارائی

سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں

بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں

سلام اس ذات پر کہ جس کے یہ پریشاں حال دیوانے

سنا سکتے ہیں اب بھی خالد و حیدر کے افسانے

درود اس پر کہ جس کی بزم میں قسمت نہیں سوتی

درود اس پر کہ جس کے ذکر سے سیری نہیں ہوتی

درود اس پر کہ جس کے تذکرے ہیں پاک بازوں میں

درود اس پر کہ جس کا نام لیتے ہیں نمازوں میں

درود اس پر، جسے شمعِ شبستان ازل کہیے

درود اس ذات پر فخرِ بنی آدم جسے کہیے

نعت

کہاں میں کہاں مدحِ ذاتِ گرامی

نہ سعدی نہ رومی نہ قدسی نہ جامی

پسینے پسینے ہوا جا رہا ہوں

کہاں یہ زباں اور کہاں نامِ نامی


سلام اس شہنشاہ ِہر دو سرا پر

درود اس امامِ صفِ انبیاء پر

پیامی تو بے شک سبھی محترم ہیں

مگر اﷲ اﷲ خصوصی پیامی


فلک سے زمیں تک ہے جشنِ چراغاں

کہ تشریف لاتے ہیں شاہِ رسولاں

خوشا جلوہِ ماہتابِ مجسّم

زہے آمدِ آفتاب تمامی


کوئی ایسا ہادی دکھادے تو جانیں

کوئی ایسا محسن بتا دے تو جانیں

کبھی دوستوں پر نظر احتسابی

کبھی دشمنوں سے بھی شیریں کلامی


اطاعت کے اقرار بھی ہر قدم پر

شفاعت کا اقرار بھی ہر نظر میں

اصولًا خطاؤں پہ تنبیہ لیکن

مزاجاً خطا کار بندوں کے حامی


یہ آنسو جو آنکھوں سے میری رواں ہیں

عطائے شہنشاہ ِکون و مکاں ہیں

مجھے مل گیا جامِ صہبائے کوثر

میرے کام آئی میری تشنہ کامی


فقیروں کو کیا کام طبل و عَلم سے

گداؤں کو کیا فکر جاہ و حشم کی

عباؤں قباؤں کا میں کیا کروں گا

عطا ہو گیا مجھ کو تاجِ غلامی


انہیں صدقِ دل سے بُلا کے تو دیکھو

ندامت کے آنسو بہا کے تو دیکھو

لیے جاؤ عُقبٰی میں نامِ محمدؐ

شفاعت کا ضامن ہے اسمِ گرامی

شراکتیں

وفات

آپ کا وصال 1978ء کو 72 برس کی عمر میں دورانِ مشاعرہ مکة المکرمہ میں ہوا ـ اساتذہء فن جمیل الدین عالی، حفیظ جالندھری، احسان دانش، سرور بارہ بنکوی اور اقبال عظیم کی موجودگی میں جنت المعلیٰ میں مدفون ہوئے ـ

شراکتیں

صارف:تیمورصدیقی | ندیم فارق