"عروض سیکھیے از محمد سلمان مانی - سبق 2" کے اعادوں کے درمیان فرق

"نعت کائنات" سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
(نیا صفحہ: بسم اللہ ۔۔۔ السلام علیکم احباب ۔۔۔ حاضرِ خدمت ہیں اگلے سبق کے ساتھ ۔ سبق نمبر 2 مطلع مطلع طلوع ہو...)
 
(No difference)

حالیہ نظرثانی بمطابق 07:20, 12 اکتوبر 2019

بسم اللہ ۔۔۔ السلام علیکم احباب ۔۔۔ حاضرِ خدمت ہیں اگلے سبق کے ساتھ ۔ سبق نمبر 2

مطلع

مطلع طلوع ہونے سے نکلا ہے کسی بھی نظم، قصیدے یا غزل کے پہلے شعر کو مطلع کہتے ہیں اس کے دونوں مصرعے قافیہ اور ردیف کے پابند ہوتے ہیں مثلاً یہ شعر دیکھتے ہیں

بس ایک وصفِ خدا پر ہی دھیان رہتا ہے

وہ مہربان ہے سو مہربان رہتا ہے

اس شعر میں لفظ "دھیان" اور "مہربان" بطور قافیہ استعمال ہوئے ہیں جبکہ "رہتا ہے" اس شعر کی ردیف کہلائے گی۔

مقطع

قطع سے نکلا ہے اصطلاحاً کسی نظم، قصیدے یا غزل کا وہ آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے مقطع کہلاتا ہے مثلاََ

بلندی سے انہیں کیا خوف مانیؔ

جو بامِ آسماں تک آگئے ہیں

حسنِ مطلع

اگر کسی غزل، نظم یا قصیدے کے پہلے شعر کے ساتھ دوسرا شعر بھی اپنے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف رکھتا ہو تو اسے ہم حسِ مطلع کا نام دیتے ہیں اس کو مطلع ثانی بھی کہتے ہیں۔ مثلاً

الفت کے اصولوں سے انجان نکلتے ہیں

داعئِ محبت بے ایمان نکلتے ہیں

الفاظ تھے جامد اب ہر آن نکلتے ہیں

ہم تجھ سے ملے جب سے دیوان نکلتے ہیں

مطلع ثالث

اگر کسی غزل، نظم یا قصیدے کا تیسرا شعر بھی اپنے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف رکھتا ہو تو اُسے ہم مطلع ثالث کا دیتے ہیں مثلاً

الفت کے اصولوں سے انجان نکلتے ہیں

داعئِ محبت بے ایمان نکلتے ہیں الفاظ تھے جامد اب ہر آن نکلتے ہیں

ہم تجھ سے ملے جب سے دیوان نکلتے ہیں

الفت کے خزانوں سے جب دان نکلتے ہیں

دنیائے وفا کے ہم سلطان نکلتے ہیں

مصرع اولیٰ

ہر غزل، نظم یا قصیدے کے سب سے پہلے مصرع کو مصرع اولیٰ کہتے ہیں جبکہ بعد میں آنے والے ہر شعر کے پہلے مصرع کو مصرع اول کہتے ہیں

مصرع ثانی

کسی بھی شعر کے دوسرے مصرع کو مصرع ثانی کہتے ہیں

طرح

اس کے لغوی معنی وضع، انداز اور ڈھنگ کے ہیں طرح وہ مصرع جو کسی بھی مشاعرے میں غزل کہنے کےلئے بحر، ردیف اور قافیہ بتانے کی خاطر مقررکرتے ہیں جس سے شعراء کو خاص زمین میں شعر کہنے کےلئے پابند کیا جاتا ہے اسے طرح کہتے ہیں مثلاً

~ دیا دیوار پر رکھا ہوا ہے

اس مصرع میں دیوار قافیہ اور پر رکھّا ہوا ہے ردیف ہے اگر یہ مصرع طرح کے طور پر دیا جائے تو شعراء پر پابندی ہوگی کہ وہ دیوار کو قافیہ اور پر رکھّا ہوا ہے کو ردیف رکھتے ہوئے اسی بحر میں اپنی غزل کہیں۔

گرہ

مشرقی شعریات کی اصطلاح کے طور پر شعری ادب میں رائج ہے شاعر جب کسی طرح مصرع کے ساتھ اپنا مصرع لگا کر شعر مکمل کرتا ہے تووہ شعر گرہ کہلاتا ہے اس عمل کو گرہ لگانا کہتے ہیں۔۔۔۔

از قلم محمد سلمان مانی