عبد الغنی تائب

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

Abdul Ghani Taib.jpg

عبد الغنی تائب
شاعری

عبدالغنی تائب ولد محمد اسماعیل، انصاری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔آباواجداد کا تعلق ضلع امرتسر ( انڈیا) کی تحصیل جنڈیالہ کے ایک گاوں " مہربان پورہ " سے تھا ، وہ ذاتی طور پر پارچہ بافی یعنی کپڑا بننے کا کام کرتے تھے . ساتھ ہی انہوں نے دوسروں کی زمینوں میں مزارع کی حیثیت سی کھیتی باڑی کو بھی ذریعہ معاش بنایا ہواتھا . قیام پاکستان کے اعلان کے بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے . پہلے چند ماہ سرگودھا کے گائوں چک نمبر 23 جنوبی میں رہے ، پھر حافظ آباد میں اندرون سرکلر روڈ محلہ قتل گڑھا ( جسے بعد میں محلہ حسین پورہ کا نام دے دیا گیا ) مستقل سکونت اختیار کر لی .

تعلیم و تربیت

1970 میں میٹرک ، 1972 میں ایف اے ، 1975 میں بی اے ، 1978 میں سی ٹی ، 1981 میں بی ایڈ اور 1983 میں ایم اے علوم اسلامیہ کی ڈگری حاصل کی ۔ دوران تعلیم کالج میں انگلش کے پروفیسر حافظ محمد اختر بٹ اور اردو کے پروفیسر شیخ رفیق احمد نے بکمال شفقت نصابی کیساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں کافی معاونت کی خصوصا" شعراء ، ادباء ، مصنفین کےتعارفی حوالہ سے لے کر شعروسخن اور اسلوب نگارش کے اجمالی تناظرات پر سیر حاصل رہنمائی کی جس نے فکری صلاحیتوں کو نکھارنے اور مقامی سطح پر اہل سخن کی صف میں شامل کر نے میں اہم کردار ادا کیا ....زمانہ طالب علمی میں ہی شوق تقریر اور ذوق تحریر نمایاں رہا . کالج میگزین " الحفیظ " میں مضامین ، اخبارات و رسائل خصوصا" بچوں کے صفحات کے لئے اپنے منفرد اسلوب میں مضامین اور نظمیں لکھتے رہے . مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے کے سبب تقریروتحریر کا طبعی میلان زیادہ تر دینی تعلیمات اور اصلاح احوال کی جانب رہا

پیشہ ورانہ زندگی

بی اے کرنے کے بعد 1975 میں حزب الاحناف گنج بخش روڈ لاہور میں اہل سنت و جماعت کے اشاعتی ادارے " شرکت حنفیہ لمیٹد " میں ملازمت اختیار کی جس کی سربراہی علامہ سید محمود احمد رضوی اور نگرانی پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل سالک ( صدر شعبہ فلسفہ گورنمنٹ کالج لاہور) کر رہے تھے . چند ماہ کام کرنے کے بعد اس سے الگ ہو گئے اور شعبہء تدریس میں آ گئے .... جنوری 1979 میں بطود ای ایس ٹی گورنمنٹ ہائی سکول پنڈی بھٹیاں میں تعینات ہوئے . پھر حافظ آباد تبادلہ ہوا . 1986 میں ایس ایس ٹی کا سکیل ملا اور ساری سروس حافظ آباد میں ہی پوری کر کے یکم ستمبر 2014 کو ببور ہیڈماسٹر ریٹائر ہو گئے ...


علمی و ادبی مشاغل

عبدالغنی تائب کو شروع ہی سے مطالعہ کا بے حد شوق ہے . ان کے ہاں ایک وسیع ذاتی کتب خانہ ہے جس میں مختلف النوع موضوعات پر ہزاروں کتب موجود ہیں خصوصا" نعت نگار ہونے کے حوالہ سے نعت کی کتب کثیر تعداد میں ہیں . ان کے چچا معروف عالم دین ، مجاہد تحریک ختم نبوت و نظام مصطفی' مولانا عبدالستار انصاری چشتی نظامی رح کے ہاں بہت بڑا کتب خانہ تھا جس سے استفادہ کرنا معمول رہا .

نعت گوئی کا سفر

مطالعہ کے اثرات و ثمرات اور کچھ فطری رجحانات نے انہیں شعروسخن کی طرف مائل کیا ، اس کے علاوہ مذہبی و اصلاحی محافل ، علمی و ادبی مجالس اور مشاعروں میں باقاعدہ شرکت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا اور ان کے ادبی ذوق و جذبہ کو جلا بخشی . گھر کا ماحول خالصتا" دینی و روحانی تھا ، اس لئے مذہبی و اصلاحی فضا میں حمد و نعت کی طرف رجحان فطری ہے .

شروع شروع میں " عاجز " تخلص کیا لیکن یہ عارضی ثابت ہوا . کالج کے ابتدائی ایام میں انہیں حضرت حفیظ تائب رح کی نعتیں سننے اور پڑھنے کا موقع ملتا رہا . وو ان کی بلندیء فکر اور قوت اظہار سے اس قدر متاثر ہوئے کہ شرف زیارت و ملاقات کے لئے بیقرار ہو گئے . حفیظ تائب ان دنوں واپڈا میں ملازم تھے اور حافظ آباد کے قرین ہی سکھیکی میں تعینات تھے ، محکمہ تعلیم میں وہ بعد میں آئے . ملاقات میں موزونیء طبع کی حوصلہ افزائی فرمائی اور دعائیہ کلمات سے نوازا . یوں ان سے متاثر ہو کر تخلص عاجز سے " تائب " رکھ لیا اور اسے اپنے نام کا لازمی جزو بما لیا . عبدالغنی تائب اس خوش بختی پو ہمیشہ نازاں رہتے ہین کہ حفیظ تائب ان کی دعوت پر کئی دفعہ حافظ آباد تشریف لائے ...

کالج لائف میں حافظ آباد کے " بابائے اردو " پروفیسر شیخ رفیق احمد سے کسی حد تک اکتساب فیض کیا لیکن اردو و فاسی کے جید استاذ ، درویش صفت شاعرجناب اے آر انورالقادری قلندری کے آگے زانوے تلمذ تہ کیا . پھر 1980 میں جب حافظ آباد میں " بزم نعت پاکستان " کا قیام عمل میں آیا اور فروغ نعت کی اس تنظیم کے سرپرست ممتاز نعت نگار و محقق و نقاد پروفیسر محمد اکرم رضا ( صد شعبہ اردو گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ) مقرر ہوئے تو مشق سخن کے سلسلہ میں ان سے اصلاح و مشاورت شروع کر دی جو ان کی وفات تک رہی . اپنے ان اساتذہ کرام کےعلاوہ دیگر اساتذہء فن محترم طالب حجازی ، جاوید حیات دیوانہ ، صوفی غلام مصطفی' قمر اور بابا جی محمد اسحاق انصاری سے بھی گاہے گاہے مشاورت رہی ....

حمدیہ و نعتیہ شاعری

مطبوعات

1 - ارمغان نیاز :- پہلا اردو نعتیہ مجموعہ 1994 میں شائع ہوا . صفحات 144 ایک حمد اور 85 نعتیں ..... ناشر زاویہ پبلشرز لاہور ... دیباچہ پروفیسر محمد اکرم رضا رح ، آراء ریاض حسین چودھری ، صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی ، ڈاکٹر سید آفتاب احمد نقوی ، پروفیسر محمد طفیل سالک ، ارشاد اللہ کمال ایڈووکیٹ ..

" ارمغان نیاز " کا سال اشاعت دوم 2017 ہے جو نعت مرکز انٹرنیشنل، [[لاہور ] کے زیراہتمام شائع ہوئی .


2 - مدنی من ٹھار :- پنجابی مجموعہء نعت . 1996 میں فروغ ادب اکادمی، گوجرانوالہ نے شائع کی . اس میں ایک حمد اور پچاس نعتیں ہیں دیناچہ ممتاز تاریخ گو قاضی عبدالرشید ارشد جلالپوری کا تحریر کردہ ہے . آراء حفیظ تائب ، پروفیسر محمد اکرم رضا ، ڈاکٹر ریاض مجید ، پروفیسر سجاد مرزا ، ڈاکٹر عصمت اللہ زاہد ، غلام مصطفی' بسمل، ڈاکٹرمحمد اجمل نیازی ، قائم نقوی ، پروفیسر ہارون الرشید تبسم ، امجد حمید محسن اور محمد اقبال نجمی کی شامل ہیں ...


3 - جان رحمت :- اردو مجموعہء نعت . اشاعت 2006 ، ناشر ... نوریہ رضویہ پبلی کیشنز، لاہور .. صفحات 176 ، ایک حمد اور 80 نعتیں ہیں . دیباچہ پروفیسر محمد اکرم رضا .... آراء عبداللہ راتھر ، ریاض حسین چودھری ، قاضی عبدالرشید ارشد جلالپوری


4 - ارمغان قلم :- اردو مجموعہء نعت ...صفحات 176 ، ناشر فروغ ادب اکادمی، گوجرانوالہ .. ایک حمد ، 90 نعتیں ... دیباچہ ڈاکٹر ظہور احمد اظہر ... آراء ڈاکٹر سید آفتاب احمد نقوی ، ریاض حسین چودھری، پروفیسر ہارون الرشید تبسم ، پروفیسر ریاض احمد قادری


5 - گلہائے نعت :- یہ عبدالغنی تائب کے تین اردو اور ایک پنجابی مجموعہ ہائے نعت میں سے تیس تیس نعتوں کا انتخاب ہے اس میں 4 حمدیں اور 120 نعتیں ہیں . یہ کتاب 2014 میں فروغ ادب اکادمی۔ گوجرانوالہ کی طرف سے شائع کی گئی ...


6 - مشعل سیرت :- یہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مختلف النوع موضوعات پر تقاریر کا مجموعہ ہے جو چند مفکرین اور مقررین کی تحریروں (مضامین ، مقالات) سے اخذ کر کے مرتب کی گئی ہیں . 2008 میں المدینہ پبلی کیشنز اردو بازار لاہور نے شائع کیا ...


7 - تنویر نعت :- حافظ آباد کے مرحوم اود بقید حیات نعت گو شعراء کی نعتیں شامل کی گئی ہیں . اس میں پروفیسر محمد اقبال جاوید ، حفیظ تائب ، عارف عبدالمتین ، سید خورشید احمد گیلانی ، پروفیسر محمد اکرم رضا اور راجا رشید محمود کی آراء ہیں...


8 - شوق نعت :- حافظ آباد کے 15 شعراء کرام کی دس دس نعتوں کا انتخاب ہے ... شعراء کی نعتوں سے پہلے ہر شاعر کا اجمالی تعارف ، اس کی شخصیت اورعلم و ادب کے حوالے سے تخلیقی سفر کی معلومات شامل کی گئی ہیں ....


9 - ذوق نعت :- یہ بھی انتخاب نعت ہے اس میں مقامی 13 شعراء کی دس دس نعتیں ان کے تعارف کے ساتھ شامل ہیں

) مذکورہ بالا تینوں نعتیہ رنتخاب بزم نعت پاکستان، حافظ آباد کی جانب سے شائع کئے گئے ہیں .....

بزم نعت کے کتابچے :-

عبدالغنی تائب نے بزم نعت پاکستان حافظ آباد کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سالانہ نعتیہ مشاعروں اور سہ ماہی طرحی نعتیہ مشاعروں کی رپورٹس پر مشتمل کئی ایک کتابچے مرتب کر کے شائع کئے . ان میں " جان مسیحائی ، گلدستہء نعت ، صدقے یا رسول اللہ ، صلی اللہ علیہ و سلم ردیف پر کلام اور سال وائز نعتیہ مشاعروں میں پڑھا گیا نعتیہ کلام کتابچوں کی صورت میں زیور طبع سے آراستہ کرایا .


غیر مطبوعہ کتب :-

ارمغان عقیدت (اردو مجموعہء نعت) ، آفتاب رسالت ( سیرت النبی پر بچوں کیلئے سلیس نثری کاوش) ، مشعل سیرت( حصہ دوم) ، تعارف امام اعظم ابو حنیفہ ( سوالا" جوابا") ، تذکرہ علماء و مشائخ حافظ آباد( سوانح و سیرت) ، رشماں ( پنجابی اقوال زریں ) ......

ایوارڈز

دیگر معلومات

پسندیدہ شعراء :- احمد رضا خان بریلوی | علامہ اقبال ، الطاف حسین حالی ، بہزاد لکھنوی ، مظہرالدین مظہر ، اعظم چشتی ، حفیظ تائب ، ریاض حسین چودھری ، نصیر الدین نصیر

پسندیدہ سینئر نعت گو شعراء :- مظہرالدین مظہر ، حافظ لدھیانوی ، حفیظ تائب ، ریاض حسین چودھری ، مظفر وارثی ، عارف عبدالمتین

پسندیدہ نوجوان نعت گو شاعر :- سرور حسین نقشبندی

شہر کے معروف نعت گو شعراء :-  : غلام مصطفی' قمر ، منظورالحق مخدوم ، اسحاق انصاری ، عبدالغنی تائب ، خالد نوشاہی ، ظہیر اکبر مرزا ، حنیف ساقی ، قاسم کیلانی ، طالب سیالوی ، عالم فدائی ، بشیر عاجز ، ذکاء اللہ اثر ،عمران وکیل

پسندیدہ بزرگ نعت خواں :- یوسف میمن

' شہر کے معروف نعت خواں :- افضل چشتی ، عبدالرحمان نثار ، محمد ایوب ، وحید ربانی خادمی

نعت گوئی کے بارے میں نظریہ :-

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مطلب ہے ... بہت زیادہ تعریف کیا گیا ... احمد کا مطلب ہے ... بہت زیادہ تعریف کرنے والا ...

گویا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہ عظیم الشان انسان ہیں جن سے زیادہ کسی کی تعریف نہیں کی گئی اور جن سے زیادہ کسی نے اپنے خالق کی تعریف نہیں کی . پروردگار خود آپ کا ثناخوان ہے . نعت ہمارے دین و ایمان کے اظہار کی ایک جمالیاتی صورت ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارا وہ بے مثال ادبی ورثہ ہے جو ہمیں ایمان و ایقان کے راستے میں ہمیشہ استقامت عطا کرتا ہے . قرآن مجید نے تو نعت رسول کہہ کر ہمیں نعت کہنے کا سلیقہ بتا دیا ہے . نعت کہنا گویا اللہ کی سنت پر عمل پیرا ہونا ہے اور نعت سننا دسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر عمل پیرا ہونا ہے . نعت ایمان کی روح اور شاعری کی معراج ہے .....

نعت خوانی کے بارے میں نظریہ :-

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ کی ذات گرامی اور تعلیمات کو عام کرنے کا ایک اہم اور موثر ذریعہ ہے . نعت خوانی کو عام کیا جاناچاہئیے کہ یہ دلوں میں عشق رسول پیدا کرنے کی ایک مستحسن کاوش اور انسانی زندگی خصوصا" نوجوان نسل کی صحیح رادتے کی طرگ رہنمائی و پیشوائی کا بہترین ذریعہ ہے . نعت خوانی سے دلوں میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی محبت ، عقیدت ، موءدت اور عطمت کے جذبات پروان چڑھانے میں مدد ملتی ہے ....

سب سے بڑی سعادت نعت رسول اکرم

ہے زندگی کی راحت نعت رسول اکرم

خوش بخت ہوں میں تائب کیونکہ رضائے حق سے

پختہ ہے میری عادت نعت رسول اکرم

صلی اللہ علیہ و آلہ و بارک و سلم

مزید دیکھیے

اپنے تازہ کلام اس نمبر پر وٹس ایپ کریں 00923214435273

اپنے ادارے کی نعتیہ سرگرمیاں، کتابوں کا تعارف اور دیگر خبریں بھیجنے کے لیے رابطہ کیجئے۔Email.png Phone.pngWhatsapp.jpg Facebook message.png

نعت کائنات پر نئی شخصیات
"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659
نئے صفحات