سیرِ گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر ۔ حسن رضا بریلوی

"نعت کائنات" سے
This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

"نعت کائنات " پر اپنے تعارفی صفحے ، شاعری، کتابیں اور رسالے آن لائن کروانے کے لیے رابطہ کریں ۔ سہیل شہزاد : 03327866659

شاعر: حسن رضا بریلوی

نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم[ترمیم]

سیرِ گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر

سوئے جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر


سر گزشتِ غم کہوں کس سے ترے ہوتے ہوئے

کس کے در پر جاوں تیرا آستانہ چھوڑ کر


بے لقائے یار ان کو چین آجاتا اگر

بار بار آتے نہ یوں جبریل سدرہ چھوڑ کر


کون کہتا ہے دل بے مدعا ہے خوب چیز

میں تو کوڑی کو نہ لوں ان کی تمنا چھوڑ کر


مر ہی جاوں میں اگر اس در سے جاوں دو قدم

کیا بچے بیمار غم قُربِ مسیحا چھوڑ کر


کس تمنا پر جئیں یا رب اسیرانِ قفس

آ چکی بادِ صبا باغِ مدینہ چھوڑ کر


بخشوانا مجھ سے عاصی کا ردا ہوگا کسے

کس کے دامن میں چھپوں دامن تمہارا چھوڑ کر


حشر میں اک اک کا منہ جو تکتے پھرتے ہیں عدو

آفتوں میں بھنس گئے ان کا سہارا چھوڑ کر


مر کے جیتے ہیں جو ان کے در پہ جاتے ہیں حسن

جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر

نعت کائنات پر نئے صفحات
اس ماہ کی اہم شخصیات

نعت خوانوں کی آواز میں[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو | ذات والا پہ بار بار درود | دل میں ہو یاد تری گوشئہ تنہائی ہو

اس ہفتے زیادہ پڑھے جانے والے کلام