زم زم عشق ۔ ریاض حسین چودھری

"نعت کائنات" سے
This is the latest revision of this page; it has no approved revision.
نظرثانی بتاریخ 10:25, 28 اکتوبر 2019 از 72.255.7.133 (تبادلۂ خیال)

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

ریاض حسین چودھری کا مجموعہ کلام ’’زم زمِ عشق‘‘ (12؍ ربیع الاوّل 1436ھ مطابق 4؍جنوری 2015ء) ’’یارِ غار سیّدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام‘‘ سے منسوب ہے۔ زم زمِ عشق سے جام پرجام پینے والوں میں ڈاکٹر عزیز اَحسن، شیخ عبدالعزیز دباغ، پروفیسر محمد ریاض احمد شیخ اور راجا رشید محمود شامل ہیں۔ گیارہویں نعتیہ مجموعہ میں کلام کی ترتیب اس انداز سے رکھی گئی ہے۔ حمدِ ربِّ کائنات، حمد و نعت، سلام، سہ نعتیہ، دو نعتیہ، ثنائے خواجہ، قطعات، ثلاثی اور فردیات شامل ہیں۔ فکرِ ریاض نے اس مجموعے میں بھی اپنی انفرادیت کے دیپ جلائے ہیں۔ جدّت طرازی اور معنی آفرینی کلام کی خصوصیات کو دوآتشہ کر رہی ہے۔ شیخ عبدالعزیز دباغ کی خوبصورت اور دل نشیں رائے کا یہ انداز دیکھیے۔ ’’جب آپ ریاضؔ کے لفظوں میں جھانکیں گے تو تجلّیاتِ حضوری آپ کے قلب و نگاہ کو لذّتِ نظارہ سے سرشار کرتی نظر آئیں گی‘‘۔ زم زمِ عشق میںریاضؔ حسین چودھری کے ذوقِ نعت کا رنگ ملاحظہ ہو: چراغِ نعت جلتے ہیں مرے چھوٹے سے کمرے میں مرے آنگن کی چڑیاں بھی درودِ پاک پڑھتی ہیں ایک دوسرے شعر میں وہ اپنی قلبی کیفیات کی عکاسی یوں کرتے ہیں ؎ شہرِ طیبہ کی ہوائوں سے ہے میری دوستی جو مدینے کا ہے موسم وہ مرے اندر کا ہے. [1]

ریاض چوہدری کے مزید حمدیہ و نعتیہ مجموعے

حوالہ جات

  1. زم زم عشق (2015)