زمرہ:2017 کی نعت

"نعت کائنات" سے
نظرثانی بتاریخ 06:39, 23 دسمبر 2017 از تیمورصدیقی (تبادلۂ خیال | شراکت) (حنیف نازش قادری (2))

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش


ان کیٹگرائزڈ

اشفاق شاہین، گجرات

کیٹگری : 1 تخلیق نمبر : شاعر: اشفاق شاہین، گجرات بشکریہ : عتیق الرحمن صفی

ان کے در کی اک تصویر سجا رکھی ہے

میرے گھر میں ویسے شے ہی کیا رکھی ہے


اسم محمد پڑھیے دل کو چین ملے گا

ذکر اقدس میں اک خاص شفا رکھی ہے


دوعالم کی خوشیاں اس کے دامن میں ہیں

آپ کی سیرت جس نے بھی اپنارھی ہے


آپ اعلی اخلاق کے مالک آپ افضل ہیں

بات خدائے پاک نے یہ فرمارکھی ہے


دیکھیں کب اشفاق مدینے ہم جاتے ہیں

دل میں ہم نے بھی یہ آس لگا رکھی ہے

مداحی رسول رسولاں کے عطر سے

مَدّاحی رَسُولؐ رَسُولاںؑ کے عِطّر سے

مہکا ہوا اِحاطہ ہے دارُالسّلام کا


سرکارؐ کی وِداد کا ہے محور ومآل

واللہ! صَدر آدمی وگُرگ ودام کا


عالم کے واسطے ہے ولائے رَسُولؐ سِرّ

آگاہی وعُلُوم کی عُمرِ دوام کا


اَطہر ورودِ مالِکِؐ لولاک سے ملا

ہر مرد وکس کو درس حلال وحرام کا


درد و سَلاسِلِ اَلَمِ رُوح کاہ کا

درماں ہے اِسمِ سعد رُسُلؑ کے اِمامؐ کا


لوٹا درِ رَسُولؐ سے معمورِ مُدّعا

کاسہ مُساوی اہلِ کُلاہ وعوام کا


ہم دم! ہے سلسلہ گروِ حُکُمِ احمدیؐ

دَلو مہ و اَسَد کے مدارِ مُدام کا


ہے عکس لا مَحالہ ہر اِک وَحیِ کردگار

محمودِؐ کردگار کے کلمہ کلام کا


راہ وصِراط سائد عالم کی رہ روی

در دہر گر ہے وَصل وحصولِ مرام کا


اوبام وصاد ومَردمِ عالم سے ہے ورا

اِکرام کا کمال، کئے کل کرام کا


ہوں راہوار وراحلہ مدح کا سوار

دل سے محال ارادہ ہے دادِ لگام کا


کِلک ومدادِ مہر محمدؐ سے لکھا ہے

رائے! ہر اِک کلام مرصع کلام کا

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

یہی صورت مدینے میں ہے جس کی سمت آنے والے خفیہ راستوں پر پھر یہودی اور نصراتی نطر رکھے ہوئے۔

اب یہ یہونی ونصرائی چکانا چاہتے ہیں خیبردیرموک کا بدلہ۔

یہ میرا سبز گنبد،

متبر وحواب سب حیرت زدہ ہیں،

اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب مینارِ مسجد گنبدِ خضرا کی جانب جھک کے کہتے ہیں۔

کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آقا!

بم دھماکے کرنے والے شرپسند اب تو ہمارے سر پہ آپہنچے

مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روضے سے لا تَحزَن کی آوازیں نہیں آتیں،

اُدر سے پھر لَتا عتریٰ ولا عتریٰ لَکُم کے نعرے لگتے ہیں۔

جواباً پھر لَنا مولا ولا مولا لکم کوئی نہیں کہتا۔

بدل جائیں جو ترجیحات تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

نظر مرکوز رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں کی ٹوپیوں پڑ تسبیوں پر، آبِ زمزم اور مدینہ پاک کی عجوہ کھجوریں کے فوائد پر۔

میں پاکستان سے جا کر وہاں محسوس کرتا تھا۔

نبیؐ کے شہر دونوں

اب نئے فتؤں کی زہ میں پھر صلاح الدین ونور الدین زنگی کو بلاتے ہیں۔

کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دجال کے بیٹے

ہماری عزت وتوقیر کے در پہ ہوئے ہیں۔ اور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عرب کے کوہساروں سے وہ اپنا سر اٹھاتے ہیں۔

شمالی اور جنوبی سمت سے باغی قبائل دیکھیے۔

صنعأ سے لے کرتا حضر موت اپنے ہی اہداف کی تکمیل میں رُو بہ عمل ہیں۔

اور اب ارضِ فلسطین پر نہتے بوڑھے، بچوں کا لہو آواز دیتا ہے۔


2)

اے پاکستانیو!

اے عالمِ اسلام کی واحد نظریاتی ریاست اور پہلی ایٹمی طاقت کے لوگو۔

آؤ عشقِ سیّد الابرارؐ کی خاطر، زرومال وجواہر کیا؟

یہ اپنی جان بھی قربان کرڈالیں

چلے آؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمدؐ سے عقیدت کا نیا معیار اپنا لیں۔

اے میرے شاعرو!

اب نعت کو جذبات میں ڈوبے ہوئے خوش رنگ/ لفظوں کی بجائے ایک پیغام آفریں صنفِ نحن کے طور لکھو۔

محمدؐ رسول اللہ کے فرمان کو مقصد بناکر نوٹوں کے انباروں پہ بیٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعت خوانو!

تم بھی اُٹھو اور رَجَز کے شعرا پڑھنے کے لیے تیار ہوجاؤ وگرنہ امتِ موحوم کا نوحہ تمہارا منتظر ہوگا۔

اے میرے واعظو! شعلہ بیانو!

وقت آپہنچا ہے اب خاشاکِ غیر اللہ کو اپنی خطا بہت سے جلا کر راکھ کر ڈالو۔

خدا کے آخری پیغام کو لوگوں کے دل میں اور رگ وپے میں اتارو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور

اے میرے زاہد و! شب زندہ دارو ! خانقاہوں میں پڑے گوشہ نشیں لوگو!

اٹھو تم بھی

مصلّے بیچو، تلواریں خریدو

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

خود کو جو حق کی محبت میں مٹا دیتا ہے

اس کے ہاتھوں میں خدا ارض وسما دیتا ہے


شرک کی آگ جو سینے سے بجھا دیتا ہے

اس کا دل ظلمتِ شب میں بھی ضیا دیتا ہے


میں کہ اس خالقِ کونین کے در کا ہوں فقیر

جو فقیروں کو شہنشاہ بنا دیتا ہے


اس کی اس نعمتِ عظمیٰ کو بیاں کیسے کروں

سانس لینے کو جو ہر وقت ہوا دیتا ہے


جو بھی سہتا ہے علامت کو شکیبائی سے

ایسے بیما کو اللہ شفا دیتا ہے


یہ تو ہم کہ جو جاتے ہی نہیں اس کے قریب

وہ تو ہر وقت ہی بخشش کی صدا دیتا ہے


جو بھی ہو جاتا ہے اس ذات کا، اللہ اسے

اپنے دیدار کی صورت میں صلہ دیتا ہے


شکر میں اس کا تفاخر نہ کروں کیسے ادا

مجھ کو عزّت جو محافل جدا دیتا ہے

کیٹگری 1

شاہد کوثری، اسلام آباد

منم برگِ خزاں دیدہ و تُو ابرِ بہار من

کہ در آشوبِ عصیاں، تُو گلستانِ قرارِ من


بفیضِ نعت در دل کثرتِ روئیدگی بینم

ہزاراں گل شگفتہ از کرم بر شاخسارِ من


نگاہِ لطف بکشا ، رحم کن بر حالِ مسکینم

مَنم دل ریش و خستہ تن، کرم اے غمگسارِ من


بشو از لطف و رحمت ، اے طبیبِ جملہ علّت ہا

تنم آلودہ ءِ عصیاں، ہمہ دل داغدارِ من


شکستہ پا شدم ، آثارِ منزل را نمی دیدم

بیا من رہ گزیدہ ام ، مدد اے شہسوارِ من


مکن محروم ازشانِ کریمی ، داورِ محشر!

مَنم یک بندہ ءِ بے چارہ ام ، پروردگارِ من


بہ درگاہِ تُو مولا ! کوثری ایں التجا کردم

بہ پیشِ مصطفےٰ رسوا مکن ، اے کردگارِ من !


حنیف نازش قادری

بھلا کس دن نہ تھا، کس خسب نہیں تھا

کرم میرے نبی کا کب نہیں تھا


گواہی دے رہے تھے سنگریزے

جوازِ کفرِ بوجہل اب نہیں تھا


سواری کو براق آیا جِناں سے

وہ کوئی عام سا مرکب نہیں تھا


جمال ان کا رہا پردوں میں مستور

جو عالم پر کھلا وہ سب نہیں تھا


لگی تیغِ علی مرحب کے سر پر

تو اس دنیا میں پھر مرحب نہیں تھا


مِلا حسان کو منبر نبی کا

بڑا اس سے کوئی منصب نہیں تھا


وہ قربِ خاص میں اس وقت بھی تھے

کہ تھا کا لفظ تک بھی جب نہیں تھا


لگی کس طرح ٹھوکر، کیوں گِرے ہو

درودِ پاک وردِ لب نہیں تھا


حنیف نازش قادری (2)

میں مدینے سے جب آیا واپس

بس مرا سایہ ہی لوٹا واپس


اپنے آقا پہ جاں لُٹائے بغیر

کیسے آسکتا ہے بندہ واپس


ان کی مسجد میں مراقب جو ہوا

آگیا ان کا زمانہ واپس


بس یہ بازارِ مدینہ کی ہے ریت

کھوٹا کرتے نہیں سکِہ واپس


دوسری بار کرم کرتے ہوئے

مانگتے کب ہیں وہ پہلا واپس


اپنے قدموں میں پڑا رہنے دیں

مجھکو لوٹائیں نہ آقا واپس


اک جھلک نازش ناکارہ کو

خالی جائیگا نہ منگتا واپس

خرم خلیق، اسلام آباد

کیٹگری 2

عبد الغفار واجد، کامونکی

راستے جو بھی مدینے کی طرف جاتے ہیں

وہ سبھی خلد کے زینے کی طرف جاتے ہیں


خوشبوئیں جب بھی گلابوں کی ذرا مدہم ہوں

پھر گلاب ان کے پسینے کی طرف جاتے ہیں


نور لینے کیلئیے چاند ستارے خورشید

سب اسی نور نگینے کی طرف جاتے ہیں


دیکھو کب محفلِ نعت ان کا بلاوا لائے

دیکھو کب نعت شبینے کی طرف جاتے ہیں


لِلہ الحمد کے یاد آتی ہے سنت ان کی

ہاتھ جب کھانے یا پینے کی طرف جاتے ہیں


زیست کی راہ میں واجد وہ بھٹکتے ہی نہیں

جو قدم ان کے قرینے کی طرف جاتے ہیں


قیصر ابدالی حسن

میرا فن روشن ہوا ان کے مقدس نام سے

فکر میں بالیدگی آئی ترے پیغام سے


جذبہ ءِ کامل ضروری ہے وفا کی راہ میں

منزلیں نزدیک خود آ جائیں گی اک گام سے


دیکھئے اعجاز ان کا پڑ گئی جن پر نظر

بن گئے وہ خاص جو لگتے تھے ہم کو عام سے


ہم کو قرآں نے نوازا دولتِ ایقان سے

رستگاری مل گئی ہے اس لیے اوہام سے


حسن انداز تکلم کے ہوئے ایسے اسیر

بچ نہ پائے آپ کے شیریں دہن کے دام سے


ساقی کوثر سدا ہو تیرے میخانے کی خیر

ایک جرعہ ہو عطا اپنے مبارک جام سے


مجھ کو آقا کی غلامی کے لیے بس چھوڑ دو

کام رکھو دوستو تم اپنے اپنے کام سے


ابنِ آدم جہل کی تاریکیوں میں غرق تھا

آگہی اس کو ملی ہے دعوت اسلام سے


جب قلم قیصر کا اٹھا مصطفیٰ کی شان میں

وہ بھی پہچانے گئے برسوں رہے گمنام سے


قیصر ابدالی حسن (2)

ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا

ناشکیبا کو شکیبا نہیں ہونے دے گا


میں گنہگار ہوں لاریب مگر محشر میں

میرا آقا مجھے رسوا نہیں ہونے دے گا


میرا اللہ فقط کام بنائے گا مرا

مجھ کو ناکامِ تمنا نہیں ہونے دے گا


جل رہا ہے یہاں تہذیب کا مصطفوٰی چراغ

جو زمانے میں اندھیرا نہیں ہونے دے گا


میں ہوں دیوانہِ محبوبِ خدا دیدہ ورد

یہ جنوں اور کسی کا نہیں ہونے دے گا


ایک قطرے کو ہے معلوم حقیقت اپنی

ظرف اس کا اسے دریا نہیں ہونے دے گا


ابرِرحمت ہے جو ہر سمت برستا جائے

باغِ ہستی کو وہ صحرا نہیں ہونے دے گا


رات دن صّلِ علیٰ میری زباں پر جاری

ذکر اس کا مجھے تنہا نہیں ہونے دے گا


اس کا فیضان کرم مجھ پہ ہے بے حد قیصر

اب وہ محتاج کسی کا نہیں ہونے دے گا


سائل نظامی، گوجر خاں

جمالِ نورِ خدا سے مجھے نوازتے ہیں

حضور اپنی دَیا سے مجھے نوازتے ہیں


وہ بھوک سہہ نہیں سکتے ہیں اپنے ناعت کی

حضو رزقِ ثنا سے مجھے نوازتے ہیں


حد و کنار کہاں ہے عطائے سرور کی

وہ توڑ کر مرے کاسے مجھے نوازتے ہیں


مآل و مال سے ، شعرو سخن سے ، نعتوں سے

وہ کیسی کیسی ادا سے مجھے نوازتے ہیں


وہ لے کے چادرِ تطہیر میں نواسوں کو

وِلائے آلِ عباء سے مجھے نوازتے ہیں


حسن حسین بھی غوثِ جلی بھی، خواجہ بھی

مِرے نبی کے نواسے مجھے نوازتے ہیں


آصف قادری، واہ کینٹ

کیا کچھ نہیں ملتا ہے بھلا آپ کے در سے

پاتے ہیں سبھی شاہ وگدا آپ کے در سے


یوں بٹتی ہے سوغاتِ سخا آپ کے در سے

کوئی نہیں محرومِ عطا آپ کے در سے


خورشید وقمر اور چمکتے ہوئے تارے

روشن ہوئے سب لے کے ضیا آپ کے در سے


صد شکر کہ میں بھی ہوں گدا آپ کے در کا

صد فخر کہ جو کچھ بھی ملا آپ کے در سے


آجاو لیے جاو مری آل کا صدقہ

آتی ہے یہ ہر وقت صدا آپ کے در سے


امت کو کئے جاتی ہے سیراب برابر

رحمت کی چلی ایسی گھٹا آپ کے در سے


پھر اور کسی در کی نہ حاجت رہی اس کو

آصف جو بھی وابستہ ہوا آپ کے در سے

کیٹگری 3

‘‘اِس زمرہ میں ابھی کوئی صفحات یا وسیط موجود نہیں.’’